اغوا، دہشت گردی اور سازش

آج بھی ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے دنیا کو ایک سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے


صابر کربلائی January 11, 2026

امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دنیا ایک بڑے خطرے سے دوچار ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کا رویہ دنیا کو انارکی کی طرف دھکیل کر بدامنی کو فروغ دینا ہے۔ امریکی صدر دوسری جنگ عظیم سے قبل اور بعد کا ماحول تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ دنیا کو ایک مرتبہ پھر امریکی چنگل میں جکڑ لیا جائے۔

ٹرمپ کا یہ رویہ واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ امریکی اجارہ داری اور بالادستی کا نظام خاتمے کی دہلیز پر پہنچ چکا ہے، جس کو بچانے کے لیے ٹرمپ نے پوری دنیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور ایک ایسا جوا کھیلا ہے کہ جس کے بعد اب دنیا میں کوئی قانون باقی نہیں رہے گا۔

بلکہ دنیا ایک جنگل کی مانند ہوگی جہاں ایک خاموش قانون موجود رہتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یعنی جس کے پاس طاقت ہے وہ کمزور ملک کو زیر کر لے اور اپنا فائدہ جائز یا ناجائز طریقے سے حاصل کر لے۔

یہی سب کچھ دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر بھی ہوا تھا اور بعد میں بھی ہوا تھا۔ آج بھی ٹرمپ کے جارحانہ اقدامات نے دنیا کو ایک سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔دنیا ایک بار پھر اس تلخ حقیقت سے دوچار ہے کہ امریکا جب بھی کسی آزاد، خود مختار اور مزاحمتی ریاست کو اپنے مفادات کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے تو وہ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کو پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔

وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اسی امریکی سامراجی سوچ کی تازہ اور شرمناک مثال ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ امریکا کی جانب سے کسی خود مختار ملک کے منتخب صدر کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی نہ صرف وینز ویلا کی خود مختاری پر حملہ ہے بلکہ یہ پورے عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک نظیر بھی ہے۔

یہ اقدام واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ امریکا اپنے آپ کو عالمی قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور طاقت کے بل پر دنیا کو اپنے فیصلے مسلط کرنا چاہتا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے اغوا، دہشتگردی اور سازش کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی 1989ء میں امریکی حکومت نے پانامہ کے جنرل نوریگا کو ایک فوجی آپریشن کے ذریعے اغوا کیا تھا اور ان کے خلاف میامی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دی گئی تھی اور اب ایک مرتبہ پھر نکولس مادورو کو وینز ویلا سے اغوا کیا گیا ہے اور امریکی عدالت میں نیو یارک میں مقدمہ چلا کر ان کو بھی سزا دے دی جائے گی۔

دوسری جانب نیو یارک کے مئیر ظہران ممدانی نے ٹرمپ کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور مذمت بھی کی ہے لیکن ان کی مذمت اور احتجاج بھی مادورو کو بچا نہیں سکتا۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادوروکا اغوا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ امریکی تاریخ کی اسی جارحانہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت عراق، افغانستان، لیبیا، شام، ایران، کیوبا اور فلسطین جیسے ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ایران کیخلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر ایران میں مظاہروں کے دوران کوئی شہری مارا گیا تو پھر امریکا ایران پر حملہ کرے گا۔

کیا واقعی امریکا کو ایران کے شہریوں کی اس قدر پرواہ ہے؟ کیا ٹرمپ کو اتنی پرواہ امریکی شہریوں کے لیے بھی ہے؟ وہ امریکی شہری جن کی بڑی تعداد سڑکوں پر سوتی ہے، کھانے پینے اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، لیکن کبھی بھی ٹرمپ نے ان کے بارے میں ایسی جارحانہ پالیسی نہیں اپنائی کہ ان کو فائدہ پہنچائے۔

دوسری طرف فلسطین میں غاصب اسرائیل اور نیتن یاہو نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کردیا لیکن ٹرمپ کی زبان گونگی رہی۔ اب ایران کے لیے کہتے ہیں کہ ایک فرد بھی مظاہرے میں مارا گیا تو امریکا برداشت نہیں کرے گا۔

یہی وہ رویہ ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ امریکا کو چھوڑ کر دنیا کے دیگر ممالک کے اندرونی مسائل میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ آج ایران کے اندورنی معاملات میں امریکی دخل اندازی اور جارحیت پر خاموش رہنے والے ممالک کل عنقریب اس سے بدترین صورتحال سے دوچار ہوں گے۔

امریکی حکومت کی یہ تاریخ یا یہ کہہ لیجیے کہ سیاہ ترین تاریخ رہی ہے کہ دنیا بھر میں خود مختار ممالک کی حکومتوں کو گرانے کے لیے کہیں فوجی حملے، کہیں معاشی پابندیاں، کہیں حکومتوں کی تبدیلی کی سازشیں اور کہیں رہنماؤں کے اغوا اور قتل یہ سب امریکی خارجہ پالیسی کے مستقل ہتھیار رہے ہیں۔

امریکا اگر کسی ملک کو اپنا مطیع نہ بنا سکے تو وہاں جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے نام پر مداخلت کو جائز قرار دیتا ہے، جب کہ حقیقت میں اس کا مقصد صرف وسائل پر قبضہ اور سیاسی کنٹرول ہوتا ہے۔

وینز ویلا چونکہ اپنی خود مختار پالیسیوں اور قدرتی وسائل پر قومی اختیار کی بات کرتا ہے، اس لیے وہ امریکی غصے کا نشانہ بنا۔ آج یہی ٹرمپ کھلم کھلا وینز ویلا کے تیل کے بارے میں کہتا ہے کہ امریکی کمپنیاں وینزویلا کے تیل کو فروخت کریں گی۔

یہ کھلم کھلا کسی بھی خود مختار ملک کیخلاف دہشتگردی ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نکولس مادورو کے اغوا پر عالمی برادری، خاص طور پر وہ ممالک جو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپئن بنے پھرتے ہیں، خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی بڑی بزدلی بھرے لہجے میں مذمت کی اور امریکا یا پھر ٹرمپ کا نام تک نہیں لیا۔ یہ خاموشی دراصل امریکی جارحیت کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہے، اگر یہی اقدام کسی غیر مغربی طاقت کی جانب سے کیا جاتا تو آج عالمی میڈیا میں شور برپا ہوتا، لیکن امریکا کے لیے الگ معیار کیوں؟

اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کی ساکھ اس وقت بری طرح مجروح ہوتی ہے جب وہ طاقتور ممالک کے جرائم پر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور کمزور اقوام کیخلاف فوری فیصلے صادر کرتے ہیں۔

اس رویے نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا میں اب قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے بلکہ اب جنگل کا قانون ہے اور جو طاقتور ہوگا، وہی باقی رہے گا۔

یعنی دنیا کو دوسری جنگ عظیم سے زیادہ خطرناک ماحول کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکی دباؤ، پابندیوں اور جارحیت کے باوجود جو اقوام ڈٹی رہیں، وہی سرخرو ہوئیں۔

نکولس مادورو کا اغوا دراصل وینز ویلا کی مزاحمتی سیاست کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ مادورو کا اغوا ثابت کرتا ہے کہ امریکی حکومت بے بس اور لاچار ہو چکی ہے۔ جہاں گفتگو اور دلیل نہ ہو وہاں بدمعاشی اور دھونس دھمکی چلائی جاتی ہے۔

امریکی حکومت کا رویہ شکست خوردہ ہے۔ نکولس مادورو کا اغوا کرنا، امریکا کی کامیابی نہیں بلکہ ایک ذلت آمیز شکست کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نکولس مادورو کا اغوا ایک فرد پر نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک خود مختار ریاست اور عالمی قانون پر حملہ ہے۔

امریکا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی اور جارحیت، اغوا اور دھونس کے ذریعے عالمی قیادت ممکن نہیں، اگر آج اس اقدام کے خلاف آواز نہ اٹھی توکل کسی اور ملک، کسی اور رہنما کی باری ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں