ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی

امریکی صدر نے ایرانی مظاہرین کو کہا تھا کہ مدد بس راستے میں ہے، احتجاج جاری رکھیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں


ویب ڈیسک January 14, 2026
ایران پر کن اہداف کو نشانہ بنانا ہے؛ پینٹاگون نے ٹرمپ کو فہرست تھما دی

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق ایک مفصل رپورٹ پیش کی ہے جس میں اہداف تک کی نشاندہی کی گئی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو جو اہداف دیئے ہیں ان میں ایران کی جوہری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل کے مراکز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں پینٹاگون نے ایک اور آپشن سائبر حملے کا بھی دیا ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے جب کہ امریکی بحریہ کو پہلے ہی ہائی الرٹ کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کو وسیع نوعیت کے فوجی منصوبے بریف کیے ہیں تاہم امریکی حکام کے بقول براہِ راست بڑے فوجی حملے کے بجائے محدود کارروائیاں زیادہ قابلِ عمل سمجھی جا رہی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کا حملہ کم از کم چند دن دور ہے تاہم اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے سخت اور بھرپور جوابی کارروائی کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوجی حکام کے مطابق اس وقت امریکی بحریہ کے تین میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈسٹرائر جہاز مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک جنگی جہاز یو ایس ایس روزویلٹ حالیہ دنوں میں بحیرۂ احمر میں داخل ہوا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی بحریہ کا کم از کم ایک میزائل بردار آبدوز بھی خطے میں تعینات ہے، جس کی تصدیق پینٹاگون کے حکام نے کی ہے۔ ان تعیناتیوں کو ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں دباؤ اور دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، جبکہ خلیجی ممالک کسی بھی فوجی تصادم کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

 

 

مقبول خبریں