امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی میں "امن کونسل" کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے وہاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کونسل عبوری مرحلے میں غزہ کے انتظام، تعمیرِ نو اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کی نگرانی کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ امن کونسل کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے اور اس کے ارکان کے نام جلد سامنے لائے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ کونسل عالمی سطح پر باوقار اور مؤثر شخصیات پر مشتمل ہوگی۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ نئی تشکیل دی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت، جسے غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کہا جا رہا ہے، کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی عبوری مدت کے دوران غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مصر، ترکیہ اور قطر کے تعاون سے حماس کے ساتھ غیر مسلح کرنے کا جامع معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ہتھیاروں کی حوالگی اور زیرِ زمین سرنگوں کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے حماس پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی واپسی اور مکمل غیر مسلح ہونے کے عمل کی جانب فوری پیش رفت شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل آسان یا مشکل کسی بھی طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
امریکی صدر خود غزہ امن کونسل کی سربراہی کریں گے، جو عارضی طور پر غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالے گی اور تعمیرِ نو سے متعلق فیصلے کرے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق کونسل غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرے گی، فنڈنگ کا انتظام کرے گی اور مستقبل کی فلسطینی حکومت کی نگرانی بھی کرے گی۔
دوسری جانب حماس نے غزہ کے انتظام کے لیے قومی عبوری کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔ حماس رہنما باسم نعیم نے کہا کہ تنظیم غزہ کے انتظامی امور عبوری کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے اور اس عمل میں تعاون کرے گی۔
فلسطینی دھڑوں نے بھی مصری ضمانتوں اور امریکی منصوبے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔