کراچی:
اگرچہ ذہنی دباؤ ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن پاکستان میں ایک معروف نیورو سائنس دان نے اسے باقاعدہ سائنسی تحقیق اور علاج کا میدان بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر صدف احمد، جو ایک نمایاں استاد اور محقق ہیں، نے ذہنی دباؤ کی سائیکوفزیالوجی پر بنیادی کام کیا ہے اور ایسے عملی، شواہد پر مبنی طریقے متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے روزمرہ زندگی میں اس کے اثرات کو ناپا اور کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کے اس سفر کا آغاز ’’صدف اسٹریس اسکیل‘‘ کی تیاری سے ہوا، جو پاکستان میں ذہنی اور حیاتیاتی دباؤ کی پیمائش کا پہلا معیاری آلہ ہے۔ اس اسکیل نے اساتذہ، معالجین اور محققین کو یہ سہولت فراہم کی کہ وہ دباؤ کی بروقت نشاندہی کر سکیں، خاص طور پر طلبا، کام کرنے والی خواتین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد میں، تاکہ بروقت مداخلت اور رہنمائی ممکن ہو سکے۔
ذہن اور جسم کے باہمی تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صدف احمد نے جامعہ کراچی میں ملک کی پہلی سائیکوفزیالوجی لیبارٹری قائم کی، جہاں ای ای جی، ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی اور بایو فیڈ بیک جیسے جدید آلات موجود ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی معاونت سے قائم یہ لیبارٹری نوجوان سائنس دانوں کے لیے ایک تربیتی مرکز بنی، جہاں وہ یہ مطالعہ کرتے ہیں کہ طویل المدتی ذہنی دباؤ صحت اور رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صدف احمد کی خدمات صرف تحقیق تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے سینٹر آف ہیلتھ اینڈ ویلبیئنگ کے ذریعے مفت نیورو فیڈ بیک اور اسٹریس مینجمنٹ کلینکس قائم کیے، جہاں لوگوں کو ایسے علاج فراہم کیے جاتے ہیں جو دل کی دھڑکن، سانس اور جذباتی ردِعمل کو قابو میں رکھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ ہزاروں افراد ان سیشنز سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جن میں نیورو سائنس، مائنڈفلنیس اور رویّاتی تربیت کو یکجا کر کے بے چینی کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے پر کام کیا جاتا ہے۔

ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر صدف احمد کو 2025 میں سوسائٹی فار نیورو سائنس (SfN) اور ایلن انسٹیٹیوٹ، امریکا کی جانب سے ’’سائنس ایجوکیٹر ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز شاذ و نادر ہی شمالی امریکا سے باہر دیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے نیورو سائنس کو عام زندگی سے جوڑنے میں ان کی قیادت کو سراہا گیا۔
سائنسی درستگی اور انسانی ہمدردی کو یکجا کرنے والا ڈاکٹر صدف احمد کا یہ منفرد انداز ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے تعلیم اور جدت پر مبنی ایک قومی ماڈل بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، ڈاکٹر صدف احمد کا کام اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سائنس کو معاشرے کی جڑوں سے جوڑ دیا جائے تو وہ نہ صرف ذہن بلکہ پورے معاشرے کو شفا دے سکتی ہے۔