کراچی:
کے ایم سی کے فائر آفیسر نے انکشاف کیا ہے کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران لوگوں نے چھت کی طرف جانے کی کوشش کی تاہم چھت پر جانے والے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران فائر آفیسر ظفر خان نے بتایا کہ جس وقت آگ لگی تب مارکیٹ بند ہونے کا وقت تھا، اس لیے بیشتر دروازے بند کیے جا چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ابتداء میں اطلاع ملی تو تین فائر ٹینڈرز کو بیک وقت بھیجا گیا تھا، فائر ٹینڈر کا حجم زیادہ تھا اور سڑک تنگ تھی۔ دکانداروں کی افراتفری کی وجہ سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا، ہر دکاندار فائر فائٹر سے پائپ کھینچ رہا تھا کہ ہماری دکان کی آگ بجھاؤ۔
ظفر خان نے بتایا کہ کے ایم سی نے جب فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا تب یہ معلوم ہوا تھا کہ محض 5 فیصد عمارتوں میں سیفٹی سسٹم ہے، ہنگامی اخراج کے راستے نہیں اور آگ بجھانے کے آلات بھی عمارتوں میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے تمام اداروں کی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور فائر فائٹنگ کی ٹیم اب بھی ہیٹ کے باوجود کام کر رہی ہے، دو مقامات پر کولنگ کا عمل اب بھی جاری ہے، کل بھی ہماری ٹیموں نے سرچنگ کرکے دو لاشیں نکالی تھیں۔
ظفر خان نے کہا کہ عمارت کا ایک حصہ کلیئر ہوا ہے جبکہ دو باقی ہیں، آج ان دو مقامات پر سرچنگ ہوگی جہاں گزشتہ روز نہیں ہوئی اور کوشش ہوگی کہ لوگ جو ملبے تلے تھے انہیں نکالا جائے۔
کے ایم سی کے فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ کل بھی جو اسٹرکچر مضبوط ہے وہاں ٹیموں کو بھیجا تھا اور آج بھی جہاں تک فائر فائٹرز جا سکتے ہیں وہاں انہیں بھیج رہے ہیں۔ عمارت کے گر جانے والے حصے سے ملبے کو بھی سرچ کیا جائے گا اور ملبے کو بھی باریک بینی سے چیک کیا جا رہا ہے۔