پاکستان کے قیام کے بعد سے یہ سوال مسلسل زیرِ بحث رہا ہے کہ کیا پاکستان واقعی ایک اسلامی ریاست ہے یا نہیں؟
یہ سوال محض ایک فقہی یا نظری بحث نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کی آئینی بنیاد، ریاستی تشخص اور معاشرتی سمت سے ہے۔ بعض لوگ پورے اعتماد سے پاکستان کو اسلامی ریاست قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ حلقے عملی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کے قیام کے نظریے کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان محض جغرافیائی یا لسانی بنیاد پر وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کی بنیاد ایک واضح اسلامی نظریہ تھا۔ برصغیر کے مسلمان ایک طویل جدوجہد کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ ایک ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں وہ اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔
قائداعظم محمد علی جناح کی متعدد تقاریر اس بات کی گواہ ہیں کہ پاکستان کا مقصد صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا تھا جو اسلام کے عدل، مساوات اور اخلاقی اقدار کا مظہر ہو۔پاکستان کی آزادی کے وقت بھی یہ نعرہ بہت زوروشور سے لگایا جا رہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟؟ لا الٰہ الا اللہ
اگر ہم پاکستان کے آئین کی طرف رجوع کریں تو وہاں بھی اسلامی ریاست ہونے کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کی تمہید جسے قراردادِ مقاصد کہا جاتا ہے اس بات کا واضح اعلان کرتی ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور ریاست پاکستان اس کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرے گی۔ یہ اصول کسی بھی اسلامی ریاست کی بنیادی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جو خود ریاست کے اسلامی تشخص کا اعلان ہے۔
آئین یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر قانون قرآن و سنت پر پرکھا جاتا ہے۔ تاکہ قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
اسی طرح صدر اور وزیرِاعظم کے لیے مسلمان ہونا آئینی شرط ہے اور ریاست پر یہ ذمے داری عائد کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے مطابق گزارنے کے مواقع فراہم کرے۔
ان تمام آئینی نکات کی روشنی میں یہ کہنا بلکل غلط ہوگا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست کہلوانے کی حق دار نہیں۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب ہم آئینی دعووں اور عملی حقیقت کا تقابل کرتے ہیں۔ ایک اسلامی ریاست صرف آئین میں اسلامی دفعات شامل کرنے سے نہیں بنتی، بلکہ اس کا اصل امتحان نظامِ عدل، معیشت، سیاست اور معاشرت میں ہوتا ہے۔
اگر ہم عملی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو ہمیں کئی ایسے پہلو نظر آتے ہیں جو اسلامی ریاست کے تصور کے مطابق نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کا معاشی نظام بڑی حد تک سود پر مبنی ہے جبکہ اسلام سود کو صریحاً حرام قرار دیتا ہے۔ اسی طرح عدالتی نظام میں انصاف کی فراہمی اکثر تاخیر، سفارش اور طبقاتی فرق کا شکار نظر آتی ہےحالانکہ اسلامی ریاست کی بنیاد ہی عدلِ اجتماعی پر ہوتی ہے۔
سیاسی سطح پر بھی صورتحال مثالی نہیں۔ اسلام جس سیاست کی تعلیم دیتا ہے وہ امانت، دیانت، مشاورت اور جواب دہی پر قائم ہوتی ہے جبکہ ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور اخلاقی زوال کا شکار نظر آتی ہے۔ یہ تضاد عوام کو اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ شاید پاکستان صرف نام کا اسلامی جمہوریہ ہے حقیقت میں نہیں۔ لیکن یہاں ایک نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ریاست اور افراد کی کوتاہیاں دین کے اصولوں کو باطل نہیں کرتیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے اگر کسی ریاست کے آئین اور نظریاتی بنیاد میں اسلام موجود ہو مگر اس پر مکمل عمل نہ ہو رہا ہو تو اسے غیر اسلامی ریاست نہیں کہا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسلامی ریاست ہونے کے تقاضے پورے نہیں کر رہی۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کوئی مسلمان نماز میں کوتاہی کرے تو اس کی کوتاہی کی وجہ سے اسلام یا نماز کا حکم ختم نہیں ہو جاتا۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کی ایک بڑی تعداد یہ موقف رکھتی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہےمگر ایک مثالی اسلامی ریاست نہیں۔
یہاں معاشرے کی اجتماعی ذمے داری بھی سامنے آتی ہے۔ اکثر ہم ساری ذمے داری صرف حکومت یا ریاست پر ڈال دیتے ہیں جبکہ اسلام میں اصلاحِ معاشرہ ایک مشترکہ فریضہ ہے۔ اگر عوام خود اسلامی اقدار سے دور ہوں جھوٹ، بددیانتی، رشوت اور ناانصافی کو معمول سمجھنے لگیں تو ایسی صورت میں ریاست سے مکمل اسلامی کردار کی توقع رکھنا بھی حقیقت پسندانہ نہیں رہتا۔ اسلامی ریاست کا قیام صرف نعروں سے نہیں بلکہ افراد کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔
پاکستان اپنے آئین، نظریے اور قیام کے مقصد کے اعتبار سے ایک اسلامی ریاست ہے اس حقیقت سے انکار کرنا تاریخی اور آئینی طور پر درست نہیں۔ البتہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان ابھی تک اسلامی ریاست کے مکمل عملی تقاضے پورے نہیں کر سکا۔ اس کا حل پاکستان کو غیر اسلامی قرار دینا نہیں بلکہ آئین میں موجود اسلامی اصولوں کو دیانت داری کے ساتھ نافذ کرنا اور ریاست و معاشرے دونوں کی اصلاح کرنا ہے۔
اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک مضبوط اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام صرف دستاویزات میں نہیں بلکہ عمل، اخلاق اور انصاف میں زندہ ہوتا ہے۔ جب یہ عناصر اجتماعی زندگی کا حصہ بن جائیں تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں ایک مثالی اسلامی ریاست بن سکتا ہے جس کا خواب اس کے بانیوں نے دیکھا تھا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔