کراچی:
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ فوری طور پر واقعے کو صرف الیکٹرک شارٹ سرکٹ نہیں کہا جا سکتا، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔ بڑا سانحہ ہے چاہتے شفاف تحقیقات کریں۔
انہوں نے بتایا کہ دروازے بند کیوں تھے اس حوالے سے گواہوں سے بیان لیے گئے ہیں جبکہ دروازے بند کیے جانے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہم ہر پہلوں پر تفتیش بھی کر رہے ہیں، کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔
جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ کون سے دروازے بند تھے اور کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 55 سے 60 لاشیں ممکنہ طور پر نکالی جا چکی ہیں، کچھ انسانی اعضاء کے علاوہ تمام کے ڈی این اے لیے جا سکتے ہیں۔ بہت کم تعداد ہے جن کے ڈی این اے حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔
جاوید کھوسو نے بتایا کہ جہاں سالم حصہ ہے وہاں سرچ ہو چکا جبکہ زمین بوس ہونے والے حصے میں سرچنگ جاری ہے، مشینری کو بھی اس لیے رور رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے۔ عمارت کی حالت بہت خراب ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کر لیا گیا ہے۔
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ سب سے درخواست کروں گا کہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان نہ دھریں، معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے، تقریباً 80 افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔