امریکا میں ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر میسجز میں ’ایپسٹین‘ لفظ نہیں لکھ پا رہے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقیدی مواد کو سینسر کر رہا ہے۔
سینسر شپ سے متعلق یہ معاملہ چینی پلیٹ فارم کی مالک کمپنی بائٹ ڈائنس سے زبردستی امریکی آپریشنز کے اکثریتی حصص ڈونلڈ ٹرمپ (جو آنجہانی مجرم جیفری ایپسٹین کے بہت قریب تھے) کے وفاداروں کو فروخت کرانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹک ٹاک صارفین کے کے مطابق ٹیک اوور کے بعد سے کہ منیاپولس میں امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے چھاپے اور احتجاج کی ویڈیوز بھی سینسر کر دی گئی ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں گے کہ آیا ٹک ٹاک کانٹنٹ سینسر کر کے ریاست کے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔
پیر کی شب ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تفتیش کرنے کا وقت ہے۔ وہ ایک ریویو لانچ کرنے جا رہے ہیں جس میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا ٹک ٹاک ٹرمپ پر تنقیدی مواد کو سینسر کر کے ریاستی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا ہے۔