روہڑی کی پہاڑیاں سندھ کی دھرتی کا ایک نادر اور حیرت انگیز قدرتی سلسلہ ہیں، جو محض پہاڑ نہیں بلکہ انسان، فطرت اور تاریخ کی مشترکہ یادداشت ہیں۔
یہ پہاڑیاں روہڑی سے شروع ہو کر کوٹ ڈیجی تک پھیلی ہوئی ہیں، اور ان کا سلسلہ چونڈکو (نارو ) تک جاتا ہے، جہاں پہاڑ ختم ہو جاتے ہیں اور پھر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے بھارت کی ریاست راجستھان کے صحراؤں سے جا ملتے ہیں۔
یہ فطرت کا ایک عجیب و غریب اور حیران کن تسلسل ہے، جہاں کہیں پہاڑ ہیں، کہیں ریت کے ٹیلے، اور کہیں سمندر کی لہریں صدیوں سے تاریخ سے ہم کلام دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علاقہ زمین کی ارتقا، آب و ہوا کی تبدیلی اور انسان کی ابتدائی زندگی کا زندہ شاہد ہے۔
روہڑی کی پہاڑیوں میں انسانِ ذات کی ایسی زندہ نشانیاں ملتی ہیں جو لاکھوں سال پرانے شعور اور جدوجہد کو ظاہر کرتی ہیں۔ وادیوں کی چوٹیوں پر، خاص طور پر چرٹ (Chert) پتھروں سے بنے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں، جہاں پتھر کے دور کا انسان اوزار تیار کرتا تھا۔ یہ اوزار محض شکار کے لیے نہیں بلکہ سمندری کشتیوں کے ذریعے تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔
ان اوزاروں میں چاقو، چھریاں، نیزے اور جانوروں کے شکار کے لیے تیز پتھری ہتھیار شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق پتھر کا دور تقریباً دس لاکھ سال پہلے موجود تھا۔ چرٹ پتھروں سے آگ جلانے اور جانوروں کو پکانے کا عمل بھی لاکھوں سال سے انسانی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ ان چرٹ پتھروں کی باقیات آج بھی پیر سبحان شاہ (شاہ شہنودو) کے مزار کے قریب موجود ہیں۔
قدیم انسانوں کے بارے میں روایات اور آثار بتاتے ہیں کہ ان کے قد غیر معمولی طور پر لمبے ہوتے تھے۔ روہڑی ہِل پر تقریباً پچاس فٹ لمبی ایک مزار موجود ہے، جبکہ اسلامیہ کالج سکھر کے قریب ’’نو گز پیر‘‘ مشہور ہے۔ اَبن شاہ کے مشرق کی جانب تقریباً چالیس فٹ لمبا پیر، چھتن شاہ بخاری، بھی قدیم انسانوں کے وجود سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کے-سیون (K-7) شادی شہید کے جنوب مشرق میں چر کے علاقے میں واقع ہے، جہاں قدیم انسان آباد تھے۔ شادی شہید کی پہاڑیوں میں گھونگھوں، سیپیوں اور مچھلیوں کے بکھرے ہوئے فوسلز موجود ہیں، جو اب پتھر کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ فوسلز اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ یہاں کروڑوں سال پہلے سمندر موجود تھا، اور سمندری حیات وقت کے بہاؤ میں پتھر بن گئی۔
یہ تمام آثار شادی شہید، روہڑی سبحان پیر، شاہ شہنودو درگاہ، پیر بادشاہ سلطان اور اَبن شاہ کے علاقوں میں آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جو سندھ کی قدیم تاریخ کا انمول خزانہ ہیں۔
ہم نے اپنے دو روزہ پہاڑی مشاہدے کے دوران شاہ شہنودو، سبحان پیر، کے-سیون (چر) اور درگاہ بادشاہ سلطان کی پہاڑیوں میں انسانی ہاتھوں سے بنے پتھری اوزاروں اور ان کی باقیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ہم سندھ حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ روہڑی اور شادی شہید کی پہاڑیوں سے ملنے والے پتھر کے دور کے اوزاروں کے تحفظ کے لیے ایک معیاری میوزیم قائم کیا جائے۔ ان قیمتی پہاڑیوں میں چھیڑ چھاڑ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ کے - سیون غار، شادی شہید اور دیگر اہم آثار کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ کو مزید فعال بنا کر حفاظتی اور تحقیقی انتظامات مکمل کیے جائیں۔
روہڑی کی پہاڑیاں محض پہاڑ نہیں بلکہ سندھ کی تاریخ، انسان کے ابتدائی شعور اور فطرت کی طویل داستان ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کی حفاظت نہ کی، تو آنے والی نسلوں سے ہم ان کی اصل شناخت چھین لیں گے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔