اسلام آباد:
پنجاب کے محکمہ پراسیکیوشن نے خاتون کیساتھ جنسی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے، 16افراد کے قاتل کی سزا کو اکٹھی شروع کرنے اور فوجداری مقدمے میں مفرور ملزم کو بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلوں کیخلاف نظر ثانی اپیلیں دائر کردیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عام طور پر پراسیکیوشن عدالتی فیصلوں کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر نہیں کرتی، آخری اپیل 2015میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت قبول نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف دائر کی گئی تھی ۔
پہلی اپیل حسن خان بنام سرکار کیس کے 2دسمبر 2025کے جسٹس ملک شہزاد احمد کے فیصلے کیخلاف دائر کی گئی، یہ اکثریتی فیصلہ دو ججوں نے دیا جبکہ جسٹس صلاح الدین نے اختلافی فیصلہ دیا تھا ۔
درخواست میں کہا گیا کہ عدالتیں عام طور پر جنسی زیادتی کا شکار خاتون کیخلا ف آبزرویشنز دینے سے گریز کرتی ہیں ، ملزم کے مکروہ اقدام سے پیدا ہونے والے بچے کے قانونی اور سماجی کردار پر کچھ نہیں کہا گیا۔
فیصلے سے خاتون اور اُسکے اہل خانہ پر مستقل داغ لگادیا گیا ، ایسے مقدمات میں تاخیر سے وقوعے کے اندراج ،تشدد کے نشانات کی غیر موجودگی کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔
سپریم کورٹ مختلف فیصلوں میں یہ اصول طے کر چکی ہے ، تین رکنی بنچ نے نئی نظیر قائم کرنی تھی تو معاملہ لارجر بنچ کیلئے چیف جسٹس کو بھجوایا جاتا۔
دوسری نظر ثانی درخواست بھی جسٹس شہزاد ملک کے فیصلے کیخلاف دائر کی گئی۔یہ کیس بہاولنگر میں سولہ افراد کے قتل سے متعلق تھا جس میں دو خاندانوں کی دشمنی کے سبب اکیس افراد کا قتل ہوچکا ہے ۔