اسلام آباد:
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے جنسی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے سمیت تین فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کر دیں۔
نظرثانی درخواستیں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں۔
خاتون کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے کے فیصلے، 16 افراد کو قتل کرنے کے ملزم کی سزا کو الگ الگ کاٹنے کے بجائے ایک ساتھ سزا شمار کرنے اور فوجداری مقدمے میں دیگر ملزمان کے ساتھ مفرور ملزم کو بھی بری کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی دائر درخواستیں دائر کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب پراسیکوشن نے اس سے قبل 11 سال پہلے سن 2015 میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بطور شہادت قبول نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی تھی۔
نظرثانی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ زنا بالجبر کو زنا بالرضا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ درست نہیں، عدالتیں عام طور پر جنسی زیادتی کا شکار خاتون کے خلاف آبزرویشنز دینے سے گریز کرتی ہیں تاکہ احترام میں کمی نہ آئے۔
نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ ملزم کے مکروہ اقدام سے پیدا ہونے والے بچے کے قانونی اور سماجی کردار سے متعلق بات کرنے میں عدالت ناکام رہی، عدالتی فیصلے سے جنسی زیادتی کی شکار خاتون اور اُسکے اہل خانہ پر مستقل داغ عائد کر دیا گیا۔
دوسری نظرثانی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایک ہی سزا شمار کرنے کو مخصوص حالات اور مخصوص حقائق کے تناظر میں نظر ثانی جائے، دو خاندانوں کے 21 افراد قتل ہو چکے اور یہ معاملہ انسداد دہشت گردی کے مقدمے کے دائرے اختیار میں آتا ہے، اس مقدمے میں 16افراد کی جان گئی اور دوسری طرف پانچ افراد کا قتل ہوا۔
درخواست میں کہا گیا کہ 16 افراد کے قتل کی سزا ایک فرد کو قتل کرنے کے برابر دی گئی اور کہا گیا کہ سزا اکھٹی چلے گی، سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ سزا اکھٹی ہوگی یا الگ الگ ہوگی عدالت یہ کیس کے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے طے کرے گی۔ دہشت گردی کی تعریف سے متعلق سپریم کورٹ کے پیراگراف نمبر 16 اور 17 کو حل کیا جائے اور 16 افراد کو قتل کرنے کی سزا ایک ساتھ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
نظرثانی درخواست میں موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی تعریف سے متعلق کیس میں قرار دیا کہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی شق 6کے تحت دہشت گردی کی تعریف بہت وسیع ہے۔
سپریم کورٹ کے دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ ایک مفرور ملزم کو بھی بری کرنے کے فیصلے کے خلاف بھی نظر ثانی درخواست دائر کی گئی ہے۔