برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے پر زور دیا ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کہا کہ برطانیہ اور چین کو مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ عالمی امن، استحکام اور مشترکہ چیلنجز، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، سے نمٹا جا سکے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم عالمی نظام میں ان کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بے چینی واضح طور پر گفتگو کا حصہ رہی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں چین اور برطانیہ کے تعلقات کو مشکلات کا سامنا رہا، جو کسی کے مفاد میں نہیں تھا۔ ان کے مطابق موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کو تعاون بڑھا کر عالمی امن اور استحکام میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کہ کیئر اسٹارمر آٹھ برس بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر اعظم ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات جاسوسی کے الزامات، یوکرین جنگ میں چین کے کردار اور ہانگ کانگ میں آزادیوں پر پابندیوں کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی کا تحفظ کرتے ہوئے چین کے ساتھ سفارتی رابطے اور معاشی تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی واقعات کا اثر براہِ راست برطانوی عوام کی زندگی، مہنگائی اور سلامتی پر پڑتا ہے، اسی لیے برطانیہ کو دنیا کی طرف دوبارہ کھلنا ہوگا۔
اس دورے میں 50 سے زائد برطانوی کاروباری رہنما بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں، جن کا مقصد چین میں برطانوی کمپنیوں کے لیے نئے تجارتی مواقع تلاش کرنا ہے۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جن میں انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے چینی ساختہ کشتی انجنوں کی غیر قانونی تجارت روکنے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔