لیبیا کے نائب کمانڈر اِن چیف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال

لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی قیادت میں دفاعی وفد نے اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سے ملاقات کی


ویب ڈیسک February 02, 2026

لیبیا کی عرب مسلح افواج کے نائب کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی قیادت میں اعلیٰ سطح دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے اُمور، بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ نے پاکستان اور لیبیا کے مابین گہرے مذہبی اور تاریخی رشتوں کو اجاگر کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی اعلیٰ آپریشنل تیاری، جدت طرازی اور ملٹی ڈومین صلاحیتوں کی ترقی پر روشنی ڈالی۔ ائیر چیف نے پاک فضائیہ کی خود انحصاری، تکنیکی جدت اور انسانی وسائل کی ترقی پر خصوصی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے برادر فضائی افواج کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تجربات کے تبادلے کے عزم کا اعادہ کیا اور لیبیا کی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے پاک فضائیہ کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

 وفد کو نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ذریعے آگے بڑھائے جانے والے پاک فضائیہ کے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جو جدت، عوامی نجی شراکت داری اور پاکستان میں ایک مضبوط و خود انحصاری پر مبنی ایرو اسپیس ماحولیاتی نظام کی تشکیل کا مرکز ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے اپنے اور اپنے وفد کے پرتپاک اور شاندار استقبال پر سربراہ پاک فضائیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے افسران اور جوانوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور پاک فضائیہ کے فضائی و زمینی عملے کے آپریشنل تجربے سے استفادہ حاصل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

 لیبیا کی عرب مسلح افواج کے نائب کمانڈر اِن چیف  نے مشترکہ تربیتی اقدامات، عسکری مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلہ کے پروگراموں کے ذریعے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

ایئر ہیڈکوارٹرز میں لیبیائی وفد کا یہ دورہ دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جو دونوں برادر ممالک کے مابین  باہمی اعتماد، تعاون اور دفاعی شراکت داری کے ایک نئے باب کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول خبریں