آسٹریلوی جریدے اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہ کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث مقامی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔
اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کے مطابق کینیڈا کے شہر سرے میں رواں سال جنوری سے اب تک بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبہ اونٹاریو میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں سرگرم بدنام زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ منظم جرائم اور بھتہ خوری میں ملوث ہے۔ بعض سکھ تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
کینیڈین صحافیوں کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بھی متعدد بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مفادات کے لیے ان جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کر رہی ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ممالک کی خودمختاری کو نظرانداز کرتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا استعمال بھارت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی شہریوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے بڑھتے واقعات میزبان ممالک کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔