پنجاب حکومت کی اپیل مسترد ملک اسحاق سمیت7ملزمان ایرانی قونصلیٹ حملے کے مقدمے سے بری

دہشت گردی کے مقدمات میں بھی انصاف کے ساتھ دہشت گردی نہیں کی جاسکتی، ایسی تفتیش کاایساہی نتیجہ نکلناتھا، سپریم کورٹ


Numaindgan Express January 16, 2015
یہ ایک خوفناک کیس ہے جس کی وجہ سے ہمسایہ ملک سے ہمارے تعلقات بھی خراب ہوسکتے تھے، عدالت۔ فوٹو : فائل

سپریم کورٹ نے سپاہ صحابہ کے ملک اسحٰق سمیت7ملزمان کوملتان میں ایرانی قونصلیٹ پرحملے اور8 افرادکے قتل کے الزام سے بری کردیا۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں فل بینچ نے پنجاب حکومت کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ ممکنہ طورپریہ مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں آسکتا ہے مگردہشت گردی کے مقدمات میں بھی انصاف کے ساتھ ظلم اور دہشت گردی نہیں کی جاسکتی، 2فروری1997 کو ہونے والے حملے میں قونصل جنرل محمدعلی رحیمی سمیت8افراد مارے گئے تھے، انسداددہشت گردی کی عدالت نے ملک اسحٰق، نعمت علی، قاری شفیق،غلام رسول شاہ،زبیر، فراز اور عبدالحنان کو8،8 بارسزائے موت سنائی، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا تاہم سپریم کورٹ نے 16 اکتوبر2000 کو کمزورتفتیش اور ناکافی شواہد پرملزمان کو بری کردیا۔اس پرحکومت پنجاب نے 2000 ہی میں نظرثانی اپیل دائرکی جس کی سماعت گزشتہ روزہوئی، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ ایسی تفتیش کاایسا ہی نتیجہ نکلنا تھا، یہ ایک خوفناک کیس ہے جس کی وجہ سے ہمسایہ ملک سے ہمارے تعلقات بھی خراب ہوسکتے تھے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب راناعبدالمجید نے کہاکہ عدالت مقدمے کے تمام اثرات کو بھی مدنظر رکھے، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ اثرات اپنی جگہ مگرکیا ہم فیصلہ قانون کے برخلاف کردیں، عدالت نے مشرف حملہ کیس کے ملزمان کی8 سال پرانی درخواست غیرمؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی، درخواست گزاوں کے وکیل نے بتایا کہ2 مجرموں نائیک ارشد اور خالد کو پھانسی دے دی گئی ہے، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ پھرتویہ درخواست اب غیر موثرہوگئی ہے۔ عدالت نے زاہد حسین کی پھانسی کے باعث اس کی اپیل بھی غیرموثر قراردے کر خارج کر دی۔ ملزم کے وکیل نے بتایا کہ زاہد حسین نے مقتول کے ورثاکو30لاکھ روپے دیت دے کرصلح کرلی تھی لیکن پھر بھی انھیں لٹکادیا گیا، جلد اپیل کی درخواست دائر کی تاہم چیف جسٹس نے غور نہیں کیا۔

مقبول خبریں