کدھرے نہ پیندیاں دساں
جس تجربے سے بنگالیوں کو اپنی زبان کو قومی درجہ دلوانے کے لیے گذرنا پڑا۔ لگ بھگ اسی تجربے سے سندھ کو بھی گذرنا پڑا
میں پاکستان میں کہیں بھی جاؤں ، بالخصوص متوسط طبقے کے والدین چھوٹے بچوں کو بلا کر پہلا تماشا یہ کرتے ہیں کہ بیٹا انکل کو اے بی سی ڈی سناؤ۔بیٹے امب ( آم ) کو انگلش میں کیا کہتے ہیں۔اینڈ بیٹا وٹ از دس؟ برنگ اٹ ہئیر۔ انکل کو دکھاؤ۔۔اوہو آپ کی آئیز تو بالکل ریڈ ہورہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔نتیجہ اس تماشے کا یہ ہے کہ بچہ نہ ٹھیک طریقے سے مادری زبان بول پاتا ہے نہ پوری انگریزی یا اردو۔ میرے پانچ سالہ بھتیجے نے تو یہ پوچھ کر میرا کام ہی اتار دیا کہ بابا ایپل کو انگلش میں کیا کہتے ہیں ؟
اکیس فروری انیس سو باون کو ڈھاکا یونیورسٹی کے علاقے میں بنگلہ زبان کو اردو کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دینے کے مطالبے کے حق میں ایک طلبا مظاہرے پر گولی چلنے سے چار افراد ہلاک ہوئے۔سرکاری میڈیا نے اس گڑبڑ کا ذمے دار ہندو شرپسندوں اور کیمونسٹوں کو قرار دیا۔تاہم چار برس بعد انیس سو چھپن میں اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔چنانچہ یونیسکو نے اکیس فروری کو مادری زبانوں کا سالانہ عالمی دن قرار دیا جو سن دو ہزار سے منایا جا رہا ہے۔
جس تجربے سے بنگالیوں کو اپنی زبان کو قومی درجہ دلوانے کے لیے گذرنا پڑا۔ لگ بھگ اسی تجربے سے سندھ کو بھی گذرنا پڑا جب سندھی کو صوبائی درجہ دینے کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں انیس سو بہتر میں متعدد لوگ مارے گئے۔ سندھی کو صوبائی درجہ ملنے کے باوجود سندھ ویسے ہی وفاقِ پاکستان کا حصہ ہے جیسے انیس سو بہتر سے پہلے تھا۔پھر بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات پوری طرح پلے نہ پڑ سکی کہ مادری زبانوں کو قومی درجہ دینے سے نہ تو وفاق کمزور ہوتا ہے اور نہ ہی نظریہِ پاکستان کو زک پہنچتی ہے۔بلکہ وفاق کو اس کے برعکس اقدامات کمزور کرتے ہیں۔
لسانی شناخت کی دنیا کتنی بدل چکی۔اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ ترکی جہاں چند برس پہلے تک کرد زبان میں اشتہار لکھنا بھی جرم تھا۔آج وہاں کردی کو ترک زبان کے ساتھ ساتھ قومی درجہ حاصل ہے اور کردی میں بنیادی تعلیم اور نشریات کا بھی اہتمام ہے۔ ترک کردستان جہاں دس برس پہلے تک احساسِ محرومی کے نتیجے میں ہونے والی مسلسل نسلی مار کاٹ میں بیس ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے وہاں آج نسبتاً امن ہے۔اور اس سکون کی وجہ اقتصادی شراکت داری اور لسانی قبولیت ہے۔
بھارت پاکستان کے مقابلے میں ایک بڑا کثیر نسلی و لسانی ملک ہے۔مگر آئین نے نہ صرف ہندی اور انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا بلکہ صوبوں کو بھی اختیار دیا کہ وہ تعلیمی و سرکاری مقاصد کے لیے علاقائی زبانوں کو سرکاری طور پے اپنا سکتے ہیں۔چنانچہ آج بھارت میں بیس سے زائد علاقائی زبانوں میں تعلیم و تدریس اور سرکاری بابو گیری ہورہی ہے۔ جب کہ کرنسی نوٹ پر اس کی قیمت پندرہ زبانوں میں درج ہے۔ بھارت آزادی کے وقت ملنے والے نو صوبوں کو انتیس اور قومی زبانوں کو دو سے بڑھا کر بیس سے زائد کرنے کے باوجود ویسے کا ویسا ہی قائم ہے اپنی ہندوستانیت سمیت۔۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے نہ تو بنگلہ زبان کے محاذ آرا تجربے سے کچھ سیکھا نہ ہی ہمسایہ ملک بھارت کے لسانی تجربے سے۔ترکی سے بھی جنگلہ بس اور ٹی وی ڈرامے تو درآمد کر لیے مگر لسانی ترقی کا ماڈل وہیں چھوڑ دیا۔کوئی ایک بوالعجبی ہو تو بات ہو۔یہاں تو پوری داستان ہے۔سرکاری تشریح والے نظریہ پاکستان کے دلدار خواجہ غلام فرید کی سرائیکی کافیوں پر تو مست ہو جاتے ہیں لیکن سرائیکی کو جنوبی پنجاب میں پرائمری سطح پر لاگو کرنے کی بات آئے تو فوراً نفاق نفاق کا غل مچ جاتا ہے۔بلوچی افسانوں اور نظموں کے اردو اور انگریزی ترجمے پر ہر پالیسی ساز واہ واہ کرتا ہے۔
لیکن تربت ، گوادر ، پسنی جیسے علاقوں کے کتب فروش آج کل صرف اردو ادب و رسائل و اخبارات سامنے رکھتے ہیں، مبادا ملک دشمنی کے الزام میں چھاپہ پڑ جائے۔رحمان بابا عظیم شاعر ہیں اورخوشحال خان خٹک کی کیا بات ہے اور غنی خان کی نثر سبحان اللہ مگر پشتو میں بچوں کو بنیادی تعلیم ملے ، یہ اچھی بات نہیں۔سن بہتر سے آج تینتالیس برس ہونے کو آئے۔جو لوگ صوبائی زبان کا درجہ ملنے سے پہلے سندھی بول رہے تھے وہی آج بھی بول رہے ہیں۔
حالانکہ سندھی کو سرکاری و تعلیمی زبان بنانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ سندھ میں رہنے والے تمام بچے بھلے روانی سے نہ بول پائیں مگر انھیں زبان کی شدھ بدھ ضرور ہو۔لیکن کراچی اور حیدرآباد کی نئی نسل ٹھیک سے اردو نہیں بول پارہی توسندھی کیا سمجھے گی۔نیا تماشا یہ ہے کہ سندھ کے اسکولوںمیں چینی زبان بھی متعارف کروائی جارہی ہے۔ سائیں تو سائیں ، سائیں کی عقل بھی سائیں۔۔
پنجاب کا معاملہ بہت دلچسپ ہے۔اسلام آباد کی راہداریوں سے سول سیکریٹریٹ لاہور اور تمام چھاؤنیوں تک روزمرہ کی افسرانہ زبان پنجابی اور اردو اور دفتری اوقات کے بعد پنجابی اور انگریزی ہے۔پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی کی مادری زبان بھی پنجابی ہے۔شاہ حسین کیا ، تو بلھے شاہ کیا ، تو وارث شاہ کیا ، تو سلطان باہو کیا۔
سر تا پا پنجابی میں بھیگی ان ہستیوں کے عرس پر گورنر یا وزیرِ اعلی چادر تو چڑھاتا ہے مگر اردو میں۔ اور یہی اولیائی زبان پہلی جماعت میں متعارف کرانے کی بات آتی ہے تو ہر طرف لسانی آدم بو آدم بو ہوجاتا ہے۔حتیٰ کہ پنجاب اسمبلی میں بھی اگر کوئی من چلا ایسی حرکت کرے تو اسی کے ساتھی اس گستاخ کوگھور گھور کے مار ڈالتے ہیں۔
ہاں اجازت ہے سرائیکی ، پنجابی ، پشتو ، بلوچی ، سندھی کی ایم اے کلاسوں میں بولنے ، لکھنے اور پڑھنے کی اور ان زبانوں کی ترویج و فروغ کے نام پر قائم لسانی اداروں اور اکیڈمیوں میں یا پھر سول سروس کے امتحانات میں بطور اختیاری مضمون لینے کی۔کیا مذاق ہے کہ ایم اے اس زبان میں کرایا جا رہا ہے جو زبان طالبِ علم کو بی اے تک میسر نہیں ہو پاتی۔گویا کرتہ حاضر اور پاجامہ غائب۔
ایک ایسی دنیا جہاں ہیبرو کو قبر سے نکال کر تمام اسرائیلیوں کی جیتی جاگتی زبان بنا دیا گیا۔ایک ایسی دنیا جہاں نیوزی لینڈ کی انگریزی آشنا اکثریت نے مقامی ماوری زبان کو پچیس برس میں ایک پسماندہ قبائلی بولی کے درجے سے اٹھا کر اتنی ترقی دی کہ آج وہ نیوزی لینڈ کی دوسری قومی زبان ہے اور اسکولی بچے چاہیں تو ماوری زبان میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔اسی دنیا میں پاکستان جیسی کثیر نسلی و لسانی ریاست بھی موجود ہے۔جہاں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز نے اپنے انتخابی منشور میں نیشنل لنگیویج کمیشن بنانے اور بہاولپور جنوبی پنجاب اور ہزارہ نامی نئے صوبے بنانے کا وعدہ کیا مگر بقول آصف زرداری وعدے قران و حدیث تو نہیں ہوتے۔
چنانچہ دو ہزار گیارہ میں ماروی میمن کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ نیشنل لینگویج بل جس میں علاقائی زبانوں کو قومی درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔اسے یہی زبانیں بولنے والے ارکانِ اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ہی دفن کردیا۔پھر اس مردے کو گزشتہ برس دوبارہ آئینی مسودے کی شکل میں لانے کی کوشش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ بلتی ، بلوچی ، براہوی ، پنجابی، پشتو ، شنا ، سندھی ، سرائیکی ، ہندکو اور تمام ایسی زبانوں کو قومی درجہ دیا جائے جن کو مجوزہ نیشنل لینگویج کمیشن مادری زبان تسلیم کرے۔لیکن جس اسٹینڈنگ کمیٹی کو یہ مسودہ قومی اسمبلی میں بل کی شکل میں پیش کرنا تھا۔
اسی اسٹینڈنگ کمیٹی میں سوائے امجد فاروق کھوسہ سب ہی معزز ارکان نے اسے مسترد کردیا۔مسترد کرنے والوں کا تعلق مسلم لیگ ن ، تحریکِ انصاف ،جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی سے تھا۔جب کہ ایم کیو ایم کے رکن نے ووٹ ہی نہیں دیا۔حتیٰ کہ سیکریٹری وزارتِ قانون جسٹس ریٹائرڈ رضا خان نے بھی فرما دیا کہ پاکستان کی ایک ہی قومی زبان ہونی چاہیے اردو۔کیونکہ مشرقی پاکستان کا المیہ دو قومی زبانیں اختیار کرنے کا نتیجہ ہے۔میں شکر گذار ہوں جسٹس صاحب کا جنہوں نے تاریخی تصیح کردی۔اب تک میں یہی سمجھ رہا تھا کہ مشرقی پاکستان کے المیے کی ایک وجہ صرف اردو کو سرکاری زبان بنانے کی ابتدائی ضد تھی جس نے وفاق کے شیشے میں بال ڈال دیا۔
آج اگر آئین کے تحت ریاستِ پاکستان اردو کے علاوہ کسی زبان کے فروغ کی ضامن ہے تو وہ عربی زبان ہے۔
کدھرے نہ پیندیاں دساں ، وے پردیسیا تیریاں۔