محکمہ تعلیم ’’ مفت اور لازمی تعلیم‘‘ کیلیے قانون سازی کا مسودہ تیار

نجی اسکول اپنی مجموعی انرولمنٹ میں سے20فیصد داخلے غریب طلبا کو دینے کے پابند ہونگے، اخراجات حکومت برداشت کریگی.


Safdar Rizvi October 09, 2012
نجی اسکول اپنی مجموعی انرولمنٹ میں سے20فیصد داخلے غریب طلبا کو دینے کے پابند ہونگے، اخراجات حکومت برداشت کریگی. فوٹو : فائل

صوبائی محکمہ تعلیم نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے آرٹیکل25اے کے تحت 2015تک''مفت اور لازمی تعلیم''کیلیے قانون سازی کا مسودہ تیارکرلیا ہے۔

مسودے کو منظوری سے قبل حتمی شکل دینے کیلیے محکمہ تعلیم نے ماہرین کا اجلاس بدھ کوطلب کیا ہے، قانون سازی کیلیے تیار کیے جانے والے مسودے کے مطابق آبادی کے تناسب سے سرکاری اسکولوں کی تعداد کم ہونے کے سبب سندھ کے نجی اسکول اپنی مجموعی انرولمنٹ میں سے20فیصد داخلے5سال سے 16سال تک کی عمر کے غریب بچوں کو دینے کے پابند ہونگے تاہم غریب طلبا ایک مقررہ حد تک فیس لینے والے نجی اسکولوں میں ہی داخلے لے سکیں گے جن کے تمام تر اخراجات حکومت سندھ خود برداشت کریگی، مزید براں مسودے کے مطابق بچوں کو اسکول نہ بھیجنے والے والدین پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ اس حوالے سے قائم کی گئی''ٹاسک فورس''کا اجلاس بدھ کو محکمہ تعلیم کے ریفارم سپورٹ یونٹ میں طلب کیا گیا ہے جس کی صدارت صوبائی وزیر تعلیم پیرمظہرالحق کریں گے، افسر کے مطابق اجلاس میں نجی اسکولوں کو غریب طلبا کو داخلے دینے کا پابند کرنے کیلیے فیسوں کا تعین بھی کیے جانے کا امکان ہے، مسودے کے مطابق جن نجی اسکولوں سے حکومتی کوٹے پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبا سے فیسیں وصول کرنے کی شکایت موصول ہوئی ان سے ایک ماہ کی فیس سے25گنا زیادہ جرمانہ لیا جائے گا، محکمہ تعلیم کے افسر نے بتایاکہ مسودے کی وزیراعلیٰ سے منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی میں بل کی صورت میں منظوری کیلیے پیش کیا جائیگا۔

مقبول خبریں