وبھوتی نرائن رائے اور ذوالفقار چیمہ
وبھوتی نرائن رائے اور ذوالفقار چیمہ کے درمیان قدر مشترک تلاش کیجیے تو کئی مشابہتیں نظر آتی ہیں۔
وبھوتی نرائن رائے اور ذوالفقار چیمہ کے درمیان قدر مشترک تلاش کیجیے تو کئی مشابہتیں نظر آتی ہیں۔ دونوں کا تعلق برصغیر سے ہے، دونوں پولیس کے محکمے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ دونوں پر رشوت ستانی اور بدعنوانی کے الزامات نہیں لگے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ دونوں لکھاری ہیں۔ وبھوتی نرائن رائے ایک ہفتے کے لیے کراچی آئے اور یہاں کی ادبی محفلوں کی رونق بڑھائی، پہلی محفل ناہید سلطان مرزا کے ناول ''آنکھیں آہن پوش'' کی تقریب اجراء کے سلسلے میں تھی۔ زیبا علوی نے ان کے دو ہندی ناولوں ''تبادلہ'' اور ''گھر'' کے تراجم کیے تھے، آرٹس کونسل، کراچی میں ان تراجم کی تقریب رونمائی ہوئی اورپھر تقریبات کا ایک سلسلہ چل نکلا۔
رائے صاحب کے ان ناولوں پر میں نے محفلوں میں بات کی لیکن یہاں میں ان کے مختصر ناول ''شہر میں کرفیو'' کے بارے میں کچھ کہنا چاہوں گی۔ اس ناول نے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا اور اسے وہاں کی تمام اہم زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ وقار ناصری نے اسے اردو میں منتقل کیا! اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ پاکستان میں اسے آصف فرخی نے اب سے دس برس پہلے شائع کیا۔
اس ناول کے بارے میں کچھ پڑھنے سے پہلے چشم تصور سے ایک ایسے بپھرے ہوئے ہجوم کو دیکھئے جو اپنے ناپسندیدہ شخص کے خلاف چیخ رہا ہے، یہ لوگ اس کا نام لے کر ہائے ہائے اور مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی نفرت اتنی بڑھتی ہے کہ وہ اس شخص کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے پتلے کو علامتی سولی دے دیتے ہیں۔
اس فرد کے خلاف ہجوم جب بے قابو ہونے کی حدوں کو چھونے لگتا ہے تو پولیس بھیجی جاتی ہے، وہ کبھی لاٹھی چارج اور کبھی ہوائی فائرنگ سے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ غصہ اگر کسی ایسے پولیس افسر کے خلاف ہو، جس پر کسی بے گناہ کو ان کاؤنٹر میں مار ڈالنے کا الزام نہ ہو بلکہ اس پر طیش اس لیے ہو کہ اس نے بلوے کی درست رپورٹ کیوں دی؟ لاشوں کے انبار میں سے، چند نیم جاں لوگوں کو نکال کر انھیں بچانے، حملہ آوروں کے خلاف ان سے گواہی دلوانے اور مجرموں کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش کیوں کی۔ اس نے بے آسرا لوگوں کے لیے انصاف کیوں مانگا؟ جب یہ تمام الزامات اس پر لگیں تو پولیس افسر کیا کرے؟
ایک راستہ پسپا ئی کا ہے اور دوسرا اپنی بات پر جم جانے کا۔ اپنی بات پر جم جانے والے اس پولیس افسر کا نام ہے وبھوتی نرائن رائے۔ یہ پولیس افسر جب قلم اٹھاتا ہے تو غیر معمولی تحریریں تخلیق کرتا ہے۔ اس نے ہندوستان کے غریب مخالف اور غیر منصفانہ سماج کو جتنا قریب سے دیکھا ہے اس کا اندازہ اس کے ناولوں سے بخوبی ہوتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ ہمارا رویہ نامہربان اور بعض حالات میں افسوسناک ہے۔ یہاں ہونے والے کئی بلوے ایسے ہیں جن کا ذکر آج بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ وبھوتی نرائن نے ان فرقہ وارانہ فسادات کے درمیان رہ کر اقلیت کے خوف اور غیر محفوظ ہونے کے احساس کو اپنی پور پور میں محسوس کیا اور اسی کے بعد وہ ''شہر میں کرفیو'' ایسا ناول لکھ سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب یہ ناول شائع ہوا تو بعض طبقوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ''اس صورتحال سے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ برصغیر میں فرقہ پرستی اور اس کے مکروہ ترین مظہر یعنی فرقہ وارانہ فسادات کا میں زیادہ منظم ڈھنگ سے مطالعہ کروں۔ خوش قسمتی سے مجھے نیشنل پولیس اکیڈمی، حیدرآباد سے فیلو شپ مل گئی۔ اس طرح ہم عصر معاشرے کے ایک سب سے نازک پہلو کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک برس کی مہلت ملی۔ میری تحقیق کا موضوع تھا ''فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہندوستانی پولیس کا کردار''۔
وبھوتی نرائن ایک ایسے ہی سابق پولیس افسر ہیں جو بلوے کے بارے میں اپنی رپورٹ پر جم گیا اور آج بھی قاتلوں کے خلاف ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان یونیورسٹی کا رخ کرتا ہے تو انگریزی ادب میں ایم اے کرتا ہے۔ ملازمت کرنے نکلتا ہے تو پولیس کا شعبہ منتخب کرتا ہے اور تمام مخالفتوں کے باوجود ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے۔ وہاں سے ریٹائر ہوتا ہے تو اس وقت کی ہندوستانی صدر پرتبھا پٹیل اسے مہاتما گاندھی، انٹرنیشنل یونیورسٹی، وردھا کا وائس چانسلر مقرر کرتی ہیں۔
ہندی کے مشہور ناول نگار اور دانشور پروفیسر نامور سنگھ جی نے جو مہاتما گاندھی یونیورسٹی وردھا کے چانسلر تھے انھوں نے وبھوتی نرائن کی تقرری کے موقع پر یہ کہا تھا کہ میں انھیں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ان کی صلاحیتوں سے واقف ہوں، مجھے یقین ہے کہ وہ مہاتما گاندھی یونیورسٹی کی ترقی کے لیے کام کریں گے اور اسے وہ مقام دلائیں گے جو اس کے ساتھ قائم ہونے والی عثمانیہ اردو یونیورسٹی نے حاصل کیا تھا۔
رائے صاحب نے فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے ایک رپورٹ ہاشم پورہ: 22 مئی، لکھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سچے اور کھرے حقائق پر مشتمل یہ رپورٹ کتنا تہلکہ مچائے گی لیکن اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ''شہر میں کرفیو'' کے آخری صفحوں میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''اس مختصر ناول کو لکھتے ہوئے مجھے بڑی پریشانیوں سے گزرنا پڑا۔ اس کے بہت سے کردار اور واقعات الٰہ آباد شہر کے ایک چھوٹے سے مضافاتی محلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
1980ء کے فسادات کے دوران میں ان لوگوں اور ان کے محلے سے واقف ہوا تھا۔ ان کا دکھ اتنا شدید تھا کہ اس کو لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھا، پھر بھی مجھے بار بار یہ محسوس ہوا کہ اس درد کے اظہار کے لیے مناسب الفاظ میرے ذہن سے پھسلے جا رہے ہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا تھا اس کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ بلاشبہ یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ زبان، افکار کا ناقص متبادل ہے۔ اب یہ ناول آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
اگر یہ کتاب ایک بھی قاری کو سعیدہ اور دیوی لالہ کا دکھ محسوس کرنے کا اہل بناتی ہے یا کسی ایسی دنیا کا خواب دیکھنے کی تحریک دیتی ہے جس میں کوئی فساد برپا نہ ہوتا ہو یا اس کے ذریعے فساد برپا کرنے والے عناصر کے لیے شدید نفرت پیدا ہوتی ہے تو میں سمجھوں گا کہ میری کوشش رائیگاں نہیں گئی۔''
ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں پولیس کے بارے میں بہت خراب رائے پائی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام پولیس افسر بدعنوان ہیں یا سیاسی آقاؤں کے سامنے اصولوں کو قربان کر دیتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسے اصول پرست افسران کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ رائے صاحب کی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے اور ان کی باتیں سنتے ہوئے پاکستان کے ایک اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار چیمہ یاد آئے جو اپنی ایمانداری اور اصول پسندی کے حوالے سے بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ چیمہ صاحب عزت کما کر ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
ان کی اخباری تحریریں اکثر نظر سے گزرتی رہتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر تخلیقی صلاحتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنا اظہار بھی چاہتی ہیں۔ ملک کی اعلیٰ دانش گاہوں کو چاہیے کہ وہ ذوالفقار چیمہ کی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں سے استفادہ کریں اور انھیں درس و تدریس کا موقع فراہم کریں، وہ ایک ایسے استاد ثابت ہوں گے جو علم اور عملی تجربہ دونوں سے مالامال ہوں گے۔ اس کے ساتھ ذوالفقار چیمہ صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ لکھنے کا عمل جاری رکھیں اور ناول نگاری پر ضرور طبع آزمائی کریں۔ پاکستان کے عام لوگوں کے دکھ درد کو ان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔
خواہش یہی ہے دونوں ملکوں کی پولیس کو نرائن رائے اور ذوالفقار چیمہ جیسے بہت سے افسر میسر آ جائیں تا کہ ان کے غم کچھ کم ہو سکیں۔ ہمارے یہاں جب اَن پڑھ مسیحی خاکروب کے بچوں کی زندگی توہین مذہب کے الزام میں جہنم بنا دی جائے، جب ہزارہ کمیونٹی کے ان گنت بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے صرف اپنے مسلک کی وجہ سے قتل کر دیے جائیں، جب ایک مسلک کے پرامن لوگوں کو لے جانے والی بس گولیوں سے چھلنی کر دی جائے... اور جب... یہ طویل داستان کس دل سے کہی جائے، صرف یہ آرزو ہے کہ ایسے فرض شناس افسر ہوں جو بے آسرا لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور نفرت اور فرقہ واریت کے مہیب دیو سے لڑنے کو اپنا ایمان جانیں۔
چلتے چلتے یہ بات بھی سنتے جائیں کہ آپ دوران ملازمت بھی بلاخوف تخلیقی کام کر سکتے ہیں، حکومت آپ کو کچھ نہیں کہے گی کیونکہ بقول نرائن صاحب انھوں نے اپنی باغیانہ تحریریں دوران ملازمت لکھیں لیکن ان کی کوئی گرفت نہیں ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں کسی اور چیز کا کمال نہیں تھا، بات صرف یہ تھی کہ سیاستدان مطالعہ نہیں کرتے، اگر وہ ایسا کرتے تو نوکری میں ان کا رہنا ممکن نہیں ہوتا۔