دائرے اور درجہ بندیاں

ہالینڈ ایک ملک ہے جسے نیدر لینڈ بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں یہ ہم نہیں جانتے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq June 16, 2015
[email protected]

لاہور: ہالینڈ ایک ملک ہے جسے نیدر لینڈ بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں یہ ہم نہیں جانتے۔ ہالینڈ یا نیدر لینڈ تو بہت دور ہے ہم اپنے پاکستان کے بارے میں بھی یہ نہیں جانتے کہ اسے ناپرسان کیوں کہتے ہیں، اس ملک میں ایک شہر ہے روٹر یا رائٹر ڈیم۔ وہاں ایک پاکستانی رہتا ہے جو اپنے آپ کو محمد عباس بتاتا ہے۔

اس نے نہ جانے کیوں ۔۔۔ شاید ہمیں ماموں بنانے کے لیے یا شاید اپنی معلومات بڑھانے کے لیے پوچھا ہے کہ خوشحال خان خٹک پشتو کا بڑا شاعر ہے یا رحمان بابا ۔ یہ بھی اس نے نہیں بتایا کہ اس کا ارادہ ان دونوں میں سے اول آنے والے کو کوئی ایوارڈ وغیرہ دینا ہے یا کیا کرنا ہے لکین ہم اتنے بھی ماموں نہیں کہ ماموں بن جائیں، ہوں گے مگر تھوڑے سے ۔ کیوں کہ ہر شخص کسی نہ کسی طرح کم یا زیادہ ماموں ضرور ہوتا ہے مثلاً ہمارے یہ ''بڑے'' اور بہت بڑے اور بہت بہت بڑے لوگ بھی کسی نہ کسی طرح کے ''ماموں'' تو ہوتے ہی ہیں، لیکن یہ بالکل بھی پتہ نہیں تھا کہ ہمارے ماموں ہونے کی شہرت چار دانگ میں پھیل کر ہالینڈ یا نیدر لینڈ اور راٹر ڈیم تک پہنچ گئی۔

غرور تکبر ہمارے اندر بالکل نہیں ورنہ اسی ایک بات پر بھی اترانے کا حق رکھتے ہیں، ماموں کی اصطلاح ویسے تو ہمارے پڑوسی ملک کی ہے لیکن ہمارے سپوتوں اور سپوتنیوں کو خدا سلامت رکھے انھوں نے اپنی مساعی جمیلہ سے دونوں ملکوں کو بہت قریب کر لیا اتنا کہ کسی دن دونوں مل کر ''من تو شدم تو من شدی'' کا ترانہ بھی گا سکتے ہیں، ان تمام شہیدوں کی ارواح کے ایصال ثواب کے لیے جو اس ''گزرگاہ'' سے اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں، دراصل وہاں آج کل رشتوں کو نئے معانی و مفاہیم دینے کا رجحان ٹاپ پر ہے اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ''ہواں'' کوئی فیشن چلے اور وہ یہاں نہ پہنچے۔

''ماموں'' کے مفہوم کے لیے ہمارے ہاں پشتو میں ایک لفظ رائج ہے لیکن جو پنجابی کے سردار کے قریب قریب ہے لیکن اسے ہم لکھ نہیں سکتے کیونکہ اس کا تعلق ایک علاقے سے بھی ہے لیکن ہم اس کے لیے پہاڑی لکھیں گے، آپ اسے ماموں یا سردار جو بھی سمجھنا چاہیں سمجھ لیں، چنانچہ کسی نے ایک پہاڑی سے پوچھا کہ فلاں بزرگ بڑا ہے یا فلاں پہاڑ ۔ وہ ان دونوں کو یکساں طور پر بڑا محترم اور مقدس مانتا تھا، لاجواب ہو کر اس نے پوچھنے والے سے کہا کہ خدا تجھے ایسا ہی حیران و پریشان کرے جیسا تم نے مجھے کیا ہے۔

لیکن ہم اتنے بھی ماموں نہیں ہیں کہ اس جھانسے میں آجائیں، دراصل یہ جھانسہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ ہے جو پہلے زمانوں میں لوگ اپنی وقت گزاری کے لیے رکھتے تھے اور ایک دوسرے سے پوچھتے تھے کہ فلاں بڑا کہ فلاں ۔۔۔ پھر بعد میں یہ سلسلہ ادبیات میں بھی شروع ہوا موازنہ میر سودا، موازنہ غالب و ذوق یا مومن، موازنہ انشاء و مصحفی، موازنہ ناسخ و آتش، موازنہ داغ و امیر مینائی اور یا موازنہ غالب و اقبال ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ادب میں ایک ناقدین کا قبیلہ بھی پیدا ہو گیا حالانکہ یہ درمیان میں قطعی ''عطار'' قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو خواہ مخواہ ''مشک اور خریدار'' کے درمیان اپنے ہونے کا پتہ دیتے ہیں، ورنہ حقیقت میں ایک تخلیق کار شاعر اور ادیب کا اصل خریدار اس کا پڑھنے والا ہوتا ہے چنانچہ دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جنھیں ناقدین نے رد کر دیا تھا لیکن عوامی پذیرائی میں بے نظیر نکلے، غالب کے جن اشعار کو ناقدین نے رد کیا تھا وہی سب سے زیادہ معرکۃلآرا نکلے، جیسے یہ عظیم شعر کہ

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

اس شعر میں ''پا'' کی تکرار قابل اعتراض ٹھہری تھی لیکن آج غالب کے جن اشعار کو کوزے میں سمندر کہہ سکتے ہیں، ان میں سرفہرست یہی شعر ہے، بھارت میں جب فلم شعلے بنی تو شمع دلی اور فلم فیئر وغیرہ میں ہم نے خود پڑھا تھا کہ اسے ایک گھٹیا، ناکام اور ردی فلم کہا گیا تھا کیوں روایتی اصلاحی سماجی اور معاشرتی فلموں سے ہٹ کر اس میں لڑائی مارکٹائی اور قتل و قتال بلکہ اور بھی بہت کچھ پہلی مرتبہ شروع ہوا، لیکن آج اسے عظیم فلموں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کا ہر اک مکالمہ ضرب المثل بن چکا ہے۔

بات کو مزید واضح کرنے کے لیے جارج برنارڈشا کا ایک واقعہ بھی ہے جارج برنارڈشا کا ڈرامہ ایک تھیٹر میں چل رہا تھا وہ خود بھی کونے میں بیٹھا تھا اس کے بازو میں بیٹھے ہوئے ایک تماشائی نے ڈرامہ ختم ہونے پر کہا کیا بکواس ڈرامہ ہے حالانکہ سارا ہال تالیاں بجا کر داد دے رہا تھا، پھر اس نے برنارڈ شا سے اس کی رائے پوچھی جو اسے جانتا نہیں تھا، جارج برنارڈ شا نے کہا میں آپ سے بالکل متفق ہوں لیکن اتنے سارے ہجوم کے مقابلے میں ''ہم تم'' کر بھی کیا سکتے ہیں، ادب اور شاعری بھی اصل میں ایک جنس ایک شے ہے ۔

جس کے اصل خریدار اور حق دار اور مخاطب وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے تخلیق کیے گئے ہوں اور کوئی بھی چیز خریدار کو بھا جائے وہ اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہر قیمت پر ''خریدتے'' ہیں۔ کوئی چیز پسند نہ آئے تو دکاندار کی تعریف اسے مقبول نہیں بنا سکتی۔ مطلب یہ کہ یہ موزانے، درجہ بندیاں ،نمبر دینا سرے سے غلط ہوتا ہے کیوں کہ ایک فارسی کی کہاوت کے مطابق ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر ست، ہر پھول کا رنگ اور اس کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے، گلاب کی اپنی خوبیاں ہیں، نرگس کا اپنا مقام ہے، مٹھاس الگ چیز ہے تلخی الگ، نمک کی اپنی اہمیت ہے اور شکر کی اپنی، ایک میں دوسری کی صفات نہیں ہو سکتی ہیں نہ ڈالی جا سکتی ہیں ۔کسی کو بھی کسی پر برتری نہیں دلائی جا سکتی۔

ہم دو پہلوانوں دو کھلاڑیوں اور ہم پیشہ ہنر مندوں کے درمیان تو موازنہ کر سکتے ہیں لیکن دو مختلف افکار اور ذہنوں کے درمیان یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، ہم ایک ڈاکٹر اور دوسرے ڈاکٹر کو تو درجہ بند کر سکتے ہیں لیکن ایک انجینئر اور ڈاکٹر کا موازنہ نہیں کر سکتے، یا دو مختلف طرز ہائے علاج کے معالجوں میں بھی درجہ بندی نہیں کر سکتے، علامہ اقبال اپنی جگہ علامہ اقبال ہے اور غالب ایک قطعی مختلف مقام پر اپنی بلندی رکھتا ہے، مولانائے روم، شرف الدین عطار دونوں ہی صوفیانہ شاعری کرتے ہیں لیکن ہر ایک کا ذائقہ اپروچ اور طرز بیان اپنا اپنا ہے، سعدی اپنی جگہ بے مثال ہے لیکن حافظ اپنی جگہ بے مثل بے نظیر ہے، شاعری بھی ایک ''حسن'' ہے اور حسن کے ہزار رنگ ہوتے ہیں۔

دنیا میں لاکھوں کروڑوں حسین اور خوب صورت ہوتے ہیں لیکن کسی کو کسی پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں ہے حالانکہ سب کے سب خوب صورت ہوتے ہیں، کسی چہرے پر زلف پھیلتی ہے، کسی چہرے میں آنکھیں بے پناہ خوب صورت ہوتی ہیں،کسی چہرے پر کوئی تل وہ آفت ڈالتا ہے جو دوسرے چہرے پر نہیں ہوتی، ہر ایک حسن کا ایک مخصوص کمبی نیشن ہوتا ہے اگر ایک کی انفرادیت اس کی زلفوں میں آنکھوں میں رنگت میں پلکوں ابروؤں یا ہونٹوں میں ہے تو ضروری نہیں کہ ویسے ہی ہونٹ آنکھیں اور آبرو وغیرہ کسی دوسرے چہرے پر بھی اتنی اثر دار ہوں وہاں کوئی اور چیز انفرادیت پیدا کر کے پورے چہرے کو ایک الگ لک دیتی ہے حتیٰ کہ بعض چہروں میں بظاہر کچھ ''عیوب'' بھی حسن بن جاتے ہیں۔

مشہور و معروف انڈین اور امریکی اداکاراؤں اور حسیناؤں میں کئی ایک ایسی ہیں جن کے چہرے کے کچھ عیب اور کمیاں ہی حسن کی تکمیل کرتی ہیں مثلاً پریانکا چوپڑا کا اوپری عیب دار ہونٹ، کرینہ کپور کے چہرے کا مردانہ پن، ودیا بالن کے منہ کے دونوں طرف کی باریک جھریاں، پالسی پنوں کے منہ میں تھوڑا سا ٹیڑھا پن، پرنیتی چوپڑہ کی چونچ نما ناک، آپ ہر چیز کو ترازو میں ستروں، ہر چیز کو لیٹروں اور ہر چیز کو میٹروں میں نہیں ناپ سکتے، دودھ کے لیے جو پیمانہ وہ کپڑے کے لیے نہیں اور کپڑے کے لیے جو پیمانہ ہے وہ سونے چاندی کے لیے نہیں ۔۔۔۔

مقبول خبریں