جرنیلی سڑک موٹر وے اورمیٹرو

ہم آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا کی بات کیوں کریں جب کہ ہم برصغیر کی ایک عظیم سڑک کے مالک اور وارث ہیں


Zahida Hina June 17, 2015
[email protected]

PESHAWAR: کنونشن سینٹر، اسلام آباد میں خواص اورعوام کا ہجوم ہے۔ وزیراعظم سمیت سب کے چہرے مسرت سے کھلے ہوئے ہیں۔ سبب اس کا یہ ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کا افتتاح ہوا ہے۔ یہ بس سروس عام لوگوں کے طرز سفر میں ایک بنیادی تبدیلی لائے گی۔ لاہور کے عوام کی زندگی میں ایسی ہی تبدیلی لاہور میٹرو لاچکی ہے، جہاں عام آدمی اس بس سروس کی تعریف کرتے نہیں تھکتا، وہیں مہنگی اور ٹھنڈی گاڑیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر اربوں روپے صرف ہوئے جن میں سے نہ جانے کتنے ''کھا'' لیے گئے۔

بات کنونشن سینٹر اسلام آباد کی ہورہی تھی، جہاں اس تقریب کے دوران جب اچانک سیکڑوں انار پھوٹے تو ان میں بھرے ہوئے بارود کے جل اٹھنے کی سنسناہٹ نے لوگوں کو چونکادیا۔ اس میٹرو بس سروس کے بارے میں بھی وہی اعتراضات ہورہے ہیں جو لاہور کی میٹرو پر اٹھائے گئے تھے۔ پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ اسے جنگلہ بس کے نام سے پکارتے ہیں، اور لاہور والے ہیں کہ صبح سے شام تک اس جنگلہ بس میں سفر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں جنھوں نے انھیں بھی باعزت سفر کی آسائش سے آشنا کیا۔

اسلام آباد میں میٹرو بس کا افتتاح ہوا تو نجی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں ایک صاحب یہ فرما رہے تھے کہ اس سروس پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے ٹھیکیداروں کے عیش ہوگئے لیکن اس سے عوام کو بھلا کیا فائدہ پہنچے گا؟ اس سے نہ ان کی غربت کم ہوسکتی ہے اور نہ ان کو روزگار میسر آسکتا ہے۔ اسی نوعیت کے اعتراضات ہم میں سے بہت سے لوگوں نے موٹروے پر بھی سنے تھے۔ آج اس پر سفر کرنے والے اور اسی سے اپنے احتجاجی جلوسوں کے ساتھ گزرنے والے رہنماؤں کو یاد نہیں ہے کہ عوام کو اس سے جو فائدہ پہنچا، مختلف قصبوں اور دیہاتوں کو زرعی اجناس اور دوسری مصنوعات منڈیوں تک پہنچانے کی جو سہولتیں میسر آئیں، انھیں تو ایک طرف رکھیے خود تنقید کرنے والے رہنماؤں کو کیسا آرام ہوا۔

ہمارے سیاستدانوں اور بعض دانشوروں نے شاید تاریخ، تجارت اور فتوحات کے بارے میں پڑھنا کم کردیا ہے۔ لاہور اور اسلام آبا د کی یہ میٹرو بس سروس تو صرف عوام کی سہولتوں کا معاملہ ہے۔ انھیں شاید یہ نہیں معلوم کہ وہ ملک جنہوں نے 19 ویں اور 20 ویں صدی کے دوران تیز رفتار صنعتی ترقی کی، انھوں نے سڑکوں کی تعمیر اور ٹرینوں کے پھیلاؤ کو ترقی کی کنجی سمجھ لیا تھا۔ 1920ء سے 1930ء کے دوران کئی مغربی قوموں نے ہائی ویز پر بھاری رقوم خرچ کرنی شروع کردی تھیں۔ ان کا ہدف تجارت کی ترقی اور قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران کئی ملکوں کی سڑکوں اور بہترین ریل سروس نے فوجیوں، بھاری توپخانے اور ٹینکوں کی تیز رفتار نقل و حمل کو ممکن کر دکھایا تھا۔ زمانہ امن میں یہ سڑکیں تجارت، سیاحت اور معاشی ترقی کے کام آئیں۔ آسٹریلیا میں سڑکوں کے ذریعے پورے ملک کو ایک رشتے میں پرونے کے لیے ہائی وے ون بنائی گئی جو ابھی تک ساری دنیا کی طویل ترین ہائے وے ہے۔ اس کی طوالت 14500 کلومیٹر ہے اور یہ براعظم آسٹریلیا کے گرد بنائی گئی ہے۔

اس کی تعمیر میں بھی یہ خیال رکھا گیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی حصہ اس کے فوائد سے محروم نہ رہے اور دور دراز علاقے بھی ہائی وے ون کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے رہیں۔ یہ اسی ہائی وے کی عنایت ہے کہ کھیتوں کی پیداوار اور فیکٹریوں میں تیار ہونے والا سامان آسٹریلیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ دور افتادہ علاقوں کے طلبہ کو کالجوں اور یونیورسٹیوں تک رسائی ممکن ہوجاتی ہے اور سیاح بھی آسٹریلیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چلے جاتے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ لانے کا سبب بنتے ہیں۔

کچھ یہی حال ٹرانس کینیڈا ہائی وے کا ہے۔ اس کا شمالی روٹ 7821 کلومیٹر طویل ہے اور جنوبی روٹ 10700 کلو میٹر لمبا ہے۔ امریکا کی کیا بات کی جائے کہ وہاں ہائی ویز کا جال بچھا ہوا ہے۔ جن پر امریکا نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اسی کے وسیلے سے اس کی زراعت، تجارت، معیشت اور سیاحت ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ ہائی ویز سالانہ اربوں ڈالر کی رقم امریکی خزانے کو فراہم کرتی ہیں۔ سڑکوں اور ٹرینوں کے اس جال نے تعلیم پھیلانے اور ادب کو عام لوگوں تک پہنچانے میں کتنا بڑا کردار اداکیا ہے، اس موضوع پر آپ کو بہت سی کتابیں مل جائیں گی۔

ہوسکتا ہے یہاں یہ سوال اٹھایا جائے کہ میٹرو بس کا ان ہائی ویز سے کیا تعلق؟ مشکل یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد یہ تمام معاملات ایک دوسرے سے جڑگئے ہیں اور اگر انھیں ایک مجموعی تناظر میں نہ دیکھا جائے تو ترقی کی ایک مکمل تصویر ہماری نگاہوں میں نہیں ابھرتی۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ان ملکوں نے اپنے انفرا سٹرکچر پر اتنے بھاری اخراجات نہ کے ہوتے تو کیا وہ ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑے ہوسکتے تھے؟

ہم آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا کی بات کیوں کریں جب کہ ہم برصغیر کی ایک عظیم سڑک کے مالک اور وارث ہیں۔ میری مراد آج کی جی ٹی روڈ یا جرنیلی سڑک سے ہے۔ ہمارے یہاں عمومی تاثر یہ ہے کہ سولہویں صدی میں اسے شیرشاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سڑک کی 'پیدائش' تیسری صدی قبل مسیح میں موریا بادشاہوں کے ہاتھ ہوئی جنہوں نے اسے 'اُترتپھ' (شمالی سڑک) کا نام دیا۔ یہ سڑک تکشلا (ٹیکسلا) کو پاٹلی پُتر (پٹنہ) سے ملاتی تھی اور ہندوستان سے مغربی ایشیا اور یونانی شہروں کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

سولہویں صدی میں شیرشاہ سوری کا راج ہوا تو اس نے اپنے دارالحکومت آگرہ کو اپنے آبائی وطن سہسرام سے جوڑنے کے لیے، موریاؤں کی بنائی ہوئی سڑک اترتپھ کو آگے بڑھایا اور اسے شاہراہ اعظم کا نام دیا۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ دور دراز علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے۔ یہ سڑک کھیت سے اناج کی غلہ منڈیوں تک ترسیل، لوگوں کی آمدورفت، تجارت کی بہترین سہولتیں مہیا کرنے کے لیے استعمال ہوتی۔ شیرشاہ نے اس راستے میں کنویں کھدوائے، کوس مینار بنوائے تاکہ لوگوں کو درست فاصلے معلوم ہوسکیں، ڈاک کا تیز رفتار نظام قائم کیا اور کارواں سرائے بنوائیں۔

سوری خاندان کے خاتمے کے بعد مغل اس سڑک کو مغرب میں درہ خیبر کے پار کابل تک اور مشرق میں بنگال کے ساحلی شہر چٹاگانگ تک لے گئے۔ 1700ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے قدم جمائے تو انھوں نے فوراً اس سڑک کی درستی شروع کی۔ وہ جدی پشتی تاجر تھے۔ ان سے زیادہ سڑک کی اہمیت کو بھلا کون جان سکتا تھا۔ اسی سڑک کے ذریعے انھوں نے تجارت کے ساتھ اپنی فوجوں اور توپ خانے کی نقل و حرکت کو موثر طور پر ممکن بنایا۔ یہ انگریز تھے جنہوں نے اسے گرانڈ ٹرنک روڈ کا نام دیا جسے عوام آج جرنیلی سڑک، یا جی ٹی روڈ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس سڑک پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کتابوں کو لکھنے والے وہ انگریز تھے جو ہندوستان میں پیدا ہوئے اور جنہوں نے اس سڑک کی تاریخ، تحقیق و تفتیش کے ساتھ ہی بہت محبت سے لکھی۔ ان میں انتھولی ویلر، ٹم اسمتھ اور اس کے علاوہ مشہور برطانوی ادیب رڈیارڈ کپلنگ شامل ہے جس نے اس سڑک کو اپنے ناول 'کم' میں یاد کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے دنیا میں کہیں بھی انسانوں کا ایسا بہتا ہوا دریا نہیں پایا جاتا جو اس سڑک پر دکھائی دیتا ہے۔ اردو میں رضاعلی عابدی نے 'جرنیلی سڑک' لکھی۔

موریا خاندان کے بادشاہ، شیرشاہ سوری، مغل شاہی خاندان اور ایسٹ انڈیا کمپنی یاراج کے افسران خوش نصیب تھے جنھیں آج کے 'دانش مند' ناقدین کا سامنا نہیں کرنا پڑا ورنہ جانے انھیں کون سی تہمتیں سہنی پڑتیں۔

ہم مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کی بات نہیں کرتے لیکن جی چاہتا ہے کہ ہم صرف اپنے شہروں اور علاقوں سے گزرتی ہوئی جی ٹی روڈ کے فوائد کا اندازہ لگائیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ 2400 برس سے انسانوں کی خدمت کرتی ہوئی یہ سڑک ہمارے برصغیر کے لیے کیسا شاندار تاریخی ورثہ اور بے مثال معاشی اور تجارتی اثاثہ ہے۔

بات میٹرو بس سے شروع ہوئی تھی اور جی ٹی روڈ تک آ پہنچی۔ اگر آپ کو ان دونوں کے ذکر میں کوئی مماثلت محسوس نہ ہو تو کیا عرض کیا جائے لیکن اس کا یقین کیجیے کہ پرانے زمانے میں اگر بسیں اور ریل گاڑیاں چل رہی ہوتیں تو موریا خاندان سے مغلوں تک تمام بادشاہ ایک سے ایک میٹرو بس اور بلٹ ٹرین چلا رہے ہوتے۔

مقبول خبریں