سندھ کے محکموں میں اربوں کی کرپشن ہورہی ہےمظفرشجرہ

صوبائی وزرا سے گزارش ہے کہ اپنے محکموں پرنظررکھیں،کرپشن سے پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت بدنام ہورہی ہے،مظفرشجرہ


Staff Reporter June 17, 2015
وزرا نظر رکھیں، حکومت بدنام ہورہی ہے، کوآرڈی نیٹروزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم ۔ فوٹو : فائل

وزیراعلیٰ سندھ کی انسپکشن ٹیم کے کوآرڈی نیٹر حاجی مظفرعلی شجرہ نے کہا ہے کہ سندھ کے محکموں میں اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے، محکمہ خزانہ سمیت تمام محکموں کا ایک نیٹ ورک بنا ہوا ہے جو کرپشن میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، محکمہ صحت، خزانہ، تعلیم اوربلدیات سب سے زیادہ کرپٹ ہیں، ان محکموں میں خلاف ضابطہ بھرتیاں بھی کی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کی منظور شدہ سمری پر محکمہ داخلہ کے افسران نے وائٹو لگا کر20 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کی، 284 انکوائریز پر کارروائی کی جارہی ہے، اب تک 18 کروڑ روپے کی رقم واپس کرائی گئی ہے، صوبائی وزرا سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے محکموں پر نظر رکھیں جن کی کرپشن سے پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت بدنام ہورہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز سندھ سیکریٹریٹ میں واقع اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس 18محکمے ہیں ،جن میں 284شکایات پر تحقیقات جاری ہیں۔محکمہ بلدیات میں خلاف ضابطہ ہزاروں بھرتیاں کی گئی ہیں، جس سے محکمے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ٹنڈو غلام حیدر میں محکمہ بلدیات میں 1500بھرتیاں ایک ہی دن کی گئیں جس کے ذمے دار مقامی افسران ہیں جنھوں نے بھاری رقم کے عوض بھرتیاں کی ہیں۔ نوشہروفیروز میں محکمہ تعلیم میں 105ملازمین ایسے ہیں ۔

جنھوں نے محکمہ خزانہ کے اکاؤنٹس افسر سے مل کر 20,20لاکھ تک جی پی فنڈ منظور کرائے جس میں چوکیدار، قاصد، نائب قاصداور اساتذہ شامل ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں 20ہزار سے زائد رقم بھی نہیں تھی۔ محکمہ خصوصی تعلیم کے وزیر کے پی ایس محمد علی خاصخیلی کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے اپنے ہی ملازمین کی درخواست پر ترقیاں کی گئیں اور پھر ان ملازمین کو بقایہ جات کی مد میں لاکھوں روپے دیے گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو محکمہ داخلہ کی جانب سے سندھ بھرکے اضلاع میں نئے پولیس اسٹیشنز تعمیرکرنے اوران کی مرمت کے لیے سمری بھیجی تھی جس پر وزیر اعلیٰ نے شکار پور ضلع کے سوا باقی اضلاع میں نئے تھانے تعمیر کرنے کی منظوری نہیں دی ہے۔ انکوائری جاری ہے۔ اب تک تین سابق سیکریٹری داخلہ کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ جیسے ہی انکوائری مکمل ہوگی وزیراعلیٰ کو ارسال کردی جائے گی۔

قمبر شہداد کوٹ ضلع میں 283 ملازمین کو دگنی تنخواہ دی جارہی تھی۔سندھ میں محکمہ خوراک کے افسران کی جانب سے پرائیویٹ فیکٹری میں گندم ذخیرہ کرکے اسی ذخیرہ کی گئی گندم پر مختلف ناموں سے بینکوں سے قرضے لیے جاتے ہیں اور بعد میں قرضوں کی بندر بانٹ کی جاتی ہے۔اس موقع پر انکوائری کمیٹی کے رکن نذیر دھوند نے کہا کہ محکمہ خزانہ کے افسران اور دیگر محکموں کے افسران مل کر کروڑوں روپے کی رقم کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔ملازمین کے ایڈجسٹمنٹ بل بنائے جاتے ہیں جس کی رقم کروڑوں میں ہوتی ہے۔

مقبول خبریں