ماں
آج اخباروں میں محترمہ فاطمہ جناح کی برسی کی خبر اور تصویروں پر نظر پڑی تو جولائی 1967ء کا وہ گرم دن یاد آ گیا
آج اخباروں میں محترمہ فاطمہ جناح کی برسی کی خبر اور تصویروں پر نظر پڑی تو جولائی 1967ء کا وہ گرم دن یاد آ گیا جب شہر کے مرد، عورتیں، نوجوان اور بچے ' قصرِ فاطمہ' کا رخ کر رہے تھے۔ ان میں سے بیشتر پا پیادہ تھے اور ان کے چہرے آنسوؤں سے تر تھے۔ میں ان دنوں روزنامہ 'مشرق' سے وابستہ تھی اور اس میں روزانہ 'ایک خاتون کی ڈائری' لکھا کرتی تھی۔ فرہاد زیدی اور عنایت اللہ صاحبان نے مجھے ہدایت کی تھی کہ میں فوراً 'قصر ِ فاطمہ' پہنچوں جہاں سے محترمہ کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور جلوسِ جنازہ کے ساتھ جاؤں۔ وہ عرفِ عام میں مادر ملت کہلاتی تھیں اور عوام کے دلوں میں ان کے لیے گہری محبت اور عزت و احترام تھا۔
58 میں مارشل لاء کے بعد لوگوں کے دلوں میں ایک جمہوری ملک پر چند جرنیلوں کے غاصبانہ قبضے نے آگ سی لگا رکھی تھی۔ ہر روز سیاستدانوں کو مطعون کیا جاتا اور انھیں عوام کے تمام مسائل کا سبب بتایا جاتا۔ مغربی پاکستان میں سیاسی شعور ابھی اتنا عام نہیں ہوا تھا لیکن مشرقی پاکستان میں سیاسی بیداری اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی۔ ایک ایسی فضا میں محترمہ فاطمہ جناح نے فیصلہ کیا کہ وہ جمہوری جدوجہد کریں گی اور صدارتی انتخاب میں جنرل ایوب خان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا تو ملک میں جیسے بجلی کی رو دوڑ گئی۔
وہ حزبِ اختلاف جو منتشر تھی، وہ ان کے نام پر متحد ہو گئی اور سارے ملک میں عوام نے ان کی انتخابی مہم چلانی شروع کر دی۔ یہ صورتحال جنرل ایوب کے لیے نہایت تشویش کا سبب تھی، اسی لیے علمائے سو سے فتوے لیے جانے لگے جس کے مطابق عورت کی صدارت از روئے اسلام حرام تھی۔ جنرل ایوب اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ یہ فتوے مادر ملت کا راستہ روک دیں گے لیکن انھیں اس کا اندازہ نہ تھا کہ لوگوں کو بانی پاکستان کی ہمشیرہ سے کتنی والہانہ عقیدت ہے۔ ملک کے شہروں میں ان کے جلوس نکلے تو لوگ دریا کی تند و تیز لہروں کی طرح امڈے۔ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتی رہیں اور لوگ ان کی راہوں میں آنکھیں بچھاتے رہے۔
سکھر کے بزرگوں کو شاید وہ دن آج بھی یاد ہو جب کنونشن مسلم لیگ کے مقامی صدر حسن میاں ایوب خان کی حمایت میں جلسہ کر رہے تھے اور ان کا بیٹا اقبال میاں عین اسی وقت محترمہ فاطمہ جناح کا جلوس نکال رہا تھا۔ کراچی میں بھی یہی عالم تھا کہ گھر تقسیم ہو گئے تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھی۔ یہ لالٹین غریب کی جھونپڑیوں، کلرکوں کے کوارٹروں اور متوسط طبقے کے گھروں پر روشن تھی جب کہ ایوب خان کے نمائندے اور ان کے حمایتی گلاب کا پھول لگائے اینڈتے پھرتے تھے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان جنھیں بعد میں 'غدارِ وطن' ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا۔ وہی شیخ مجیب مادر ملت کے جلسو ں اور جلوسوں کے منتظم تھے۔
صدارتی انتخاب ہوئے اور منظم دھاندلی کے ذریعے مادر ملت کو شکست ہوئی۔ یہ اتنا بڑا صدمہ تھا جسے لوگ سہہ نہ سکے۔ انھیں یقین تھا کہ مادر ملت جیت جائیں گی اور وہ پھر سے ایک جمہوری اور منصفانہ نظام کے خواب دیکھ سکیں گے۔ صدمے کے اس عالم میں جب جنرل ایوب خان کے حامیوں نے مادر ملت کی سڑکوں پر جس طور علامتی تذلیل کی، اسے لالوکھیت کے ایک قصائی کا لڑکا برداشت نہ کر سکا، اس نے احتجاج کیا اور اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ کراچی کا پہلا شہید جمہوریت تھا جس نے ماں کی حرمت اور جمہوریت پر جان دے دی تھی۔ ان لمحات میں کون یہ جانتا تھا کہ اس شہید پر چلنے والی گولی، نسلی اور لسانی منافرت کا وہ بیچ بورہی ہے جو اس شہر اور اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔
اس موقعے پر برادر حسن حمیدی کی ایک طویل نظم کا بند یاد آتا ہے جو انھوں نے اس وقت کی سیاسی صورتحال کے بارے میں لکھی تھی اور جالبؔ صاحب کی وہ نظم کہ بیٹوں پہ چلی گولی... تو ماں یوں بولی ... لیکن اس نظم کے اگلے مصرعے ذہن سے محو ہو گئے ہیں۔ ہاں ان کی وہ نظم ضرور یاد ہے جو انھوں نے 'مادرملت' کے نام سے ان کی وفات کے موقعے پر لکھی تھی ۔ ''اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے ... سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے ... دیکھنے کو تو ہزاروں ہیں مگر کتنے ہیں ... ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکانے والے ... مر کے بھی مرتے ہیں کب مادرِ ملت کی طرح ... شمع، تاریک فضاؤں میں جلانے والے۔''
مادرِ ملت کی شکست کے بعد مشرقی پاکستان کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغربی پاکستان کی حکمران فوجی اور سول اشرافیہ کسی طور انھیں اقتدار میں حصہ دار بنانے کے لیے اور ان کا جائز حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اسی کے بعد وہاں علیحدگی پسندی کی تیز لہر اٹھی جو آخر کار سب کچھ بہا کر لے گئی۔ اور کیسے بہا کر نہ لے جاتی کہ مغربی پاکستان سے جانے والے جرنیل نے ڈھاکا کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے یہ کہا تھا کہ مجھے انسان نہیں، زمین چاہیے۔ آج کچھ لوگ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو 'کسی اور' کے کھاتے میں لکھ رہے ہیں لیکن انھیں نہ ڈھاکا میں ہونے والے لسانی فسادات کے نتیجے میں ابھرنے والا شہید مینار یاد ہے، نہ مادرِ ملت کو بے حیائی سے شکست دینے کے معاملات اور نہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں۔ آج تمام باتیں ماضی کا حصہ بن چکیں، ہمارے یہاں کوشش اس بات کی رہتی ہے کہ لوگوں کو ماضی کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔ لیکن وہ لوگ جو اس دور سے گزر رہے تھے، وہ یہ سب کچھ کیسے بھول جائیں۔
میں یہ کیسے بھلا دوں کہ اس روز 'قصرِ فاطمہ' میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ مادرِ ملت کے آخری دیدار کی اجازت نہ تھی اور ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ انھیں جرنیل شاہی کے حکم پر قتل کیا گیا ہے۔ لوگوں میں یہ خیال جس قدر راسخ تھا اس کا اندازہ درج ذیل اخباری تراشے سے لگایا جا سکتا ہے ۔
'غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا میں پاکستان کا ایک معزز شہری ہوں اور محترمہ فاطمہ جناح سے مجھے بے انتہا عقیدت ہے، مرحومہ قوم کی معمار اور عظیم قائد تھیں انھوں نے تمام زندگی جمہوریت کی بحالی اور قانون کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی 64ء میں جب انھوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو وہ عوام کی امیدوں کا مرکز بن گئیں، وہ اس ٹولے کے لیے جو ہر صورت میں اقتدار سے چمٹا ہو ا تھا زبردست رکاوٹ تھیں اور یہ ٹولہ ہر قیمت پر ان سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا ، 28 جون 67ء کو محترمہ فاطمہ جناح رات کے گیارہ بجے تک ایک شادی میں شریک تھیں اور ہشاش بشاش تھیں جب کہ 9جولائی کو اچانک یہ اعلان کر دیا گیا کہ وہ انتقال کر گئی ہیں۔
ان کی تجہیز و تکفین کے وقت عوام کو جنازے کے قریب نہیں جانے دیا گیا، اور یہاں تک کہ انھیں سپرد خاک کرنے تک ان کے آخری دیدار کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ اس دوران جو آخری دیدار کرنا چاہتے تھے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ اور آنسو گیس پھینکی گئی۔ اس وقت بھی یہ افواہیں عام تھیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے نشانات ہیں لیکن ان افواہوں کو دبا دیا گیا۔ غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا کہ مجھے یہ تشویش رہی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو کہیں قتل نہ کیا گیا ہو۔ غلام سرور ملک نے اس سلسلے میں اخبارات کی کاپیاں بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیں۔ انھوں نے اپنی درخواست کے آخر میں عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں عدالتی تحقیقات کرائے۔
45برس پرانی اس خبر کے تراشے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت محترمہ کے قتل کی افواہ کس قدر گرم تھی۔
مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، شیخ مجیب، ولی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ فوجی آمروں نے جو سلوک کیا، اس کے نتیجے میں ملک آج اس حال کو پہنچا ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ اس کے باوجود آج بھی کچھ لوگ ٹی وی پر جرنیلوں کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی کھلی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔