مس پاکستان ورلڈ حسیناؤں کی فلم انڈسٹری میں انٹری

شانزے ، رامین اورانزلیکا پاکستانی فلموں کی انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کوممکن بنائیں گی، سونیا احمد


Qaiser Iftikhar February 02, 2016
شانزے ، رامین اورانزلیکا پاکستانی فلم کی انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کوممکن بنائینگی: سونیا احمد ۔ فوٹو : فائل

پاکستان فلم انڈسٹری کا نیا دورشروع ہوچکا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں نے فلم انڈسٹری کی باگ دوڑ سنبھال لی اوراب جہاںفنانسرز یہاں سرمایہ کاری کرنے کیلئے آگے آرہے ہیں، وہیں کارپوریٹ سیکٹرکی دلچسپی بھی اس شعبے مین بڑھنے لگی ہے۔

ہمارے پڑوسی ملک بالی وڈ کی کامیابی اورترقی میں بھی اسی طرح بیرون ممالک میں بسنے والے فنانسرز نے اہم کردارادا کیا بلکہ انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی میں بھی انہی لوگوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

یہی نہیں بالی وڈ فلم انڈسٹری میں عالمی مقابلہ حسن جیتنے والی بھارتی حسیناؤں ایشوریہ رائے، سشمیتاسین، پریانکا چوپڑا اورلارادتہ کی آمد نے بھی بھارتی فلم کودنیا بھرمیں مقبول کیا۔ جہاں ان حسیناؤں نے بالی وڈ فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہردکھائے ، وہیں ان کی بدولت بھارتی فلموں کودنیا کے بیشترممالک میں ریلیز کا بہترین موقع بھی ملا۔ دوسری جانب پاکستانی فلموں میں جہاں معمول کی کہانی کوپیش کیا گیا وہیں نئے چہروں کو متعارف کروانے کی بجائے پرانے فنکاروں کوہر کردارمیں لیا گیا، جس کا نتیجہ شدید بحران کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

اس بحرانی کیفیت سے بچاؤ اورپاکستان فلم انڈسٹری کی سپورٹ کیلئے کینیڈا اورامریکہ میں پاکستانی نژاد حسیناؤں پرمشتمل مقابلہ حسن کا انعقاد کرنے والی سونیا احمد نے اب فلمسازی کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وہ اپنی فلم میں امریکہ اورکینیڈا میں ہونے والے ''مس پاکستان ورلڈ''کے ٹائٹل جیتنے والی حسیناؤں شانزے حیات، رامینا اشفاق اوررواں برس مس ورلڈ پاکستان کا ٹائٹل اپنے نام کرنے و الی خوبروحسینا انزلیکا طاہر کوبطوراداکارہ کاسٹ کریں گی جبکہ بطورہیرو بھی نوجوان لڑکوں کومتعارف کرائیں گی۔ اس سلسلہ میں سونیا احمد نے باقاعدہ فلم کی کہانی پرکام شروع کردیا ہے بلکہ اپنی فلم کی تینوں ہیروئنوں کی تربیت بھی شروع کردی ۔ جس کے تحت تینوں حسینائیں اپنی فٹنس، رقص اورایکٹنگ پرتوجہ دینے پرمصروف ہیں۔

''ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے سونیا احمد نے کہا کہ 2002 ء میں پہلی مرتبہ کینیڈا میں ''مس پاکستان ورلڈ'' کے مقابلے کا انعقاد کیا تھا توسوچا نہ تھا کہ ایک دن اس کی شہرت دنیا بھرمیں ہونے لگے گی اورنوجوان لڑکے اورلڑکیاں اس کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہونگے۔ مگر وقت گزرتا گیا اور ملنے والے رسپانس نے مجھے اورمضبوط بنایا۔ کینیڈا سے شروع ہونے والاسفرامریکہ پہنچا اوراب میری منزل مغربی ممالک بھی ہونگے۔

جہاں تک بات فلم بنانے کی ہے تومیں دیارغیرمیں بستی ہوں لیکن میرا دل ہمیشہ پاکستان کیلئے دھڑکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے پاکستان فلم انڈسٹری کی سپورٹ کیلئے ایک فلم بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انٹرنیشنل معیار کی اس فلم میں تین مس پاکستان ورلڈ مرکزی کردارادا کرینگی۔ جس کی وجہ سے ہماری فلم کونا صرف پاکستان میں نمائش کیلئے پیش کیا جائے گا بلکہ امریکہ ، کینیڈا، مڈل ایسٹ اوریورپ کے علاوہ بھارت میں بھی اس کی نمائش ممکن ہوجائے گی۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں کسی قسم کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ وسائل کے باوجود یہاں اچھی فلمیں بنتی رہی ہیں لیکن اب فلم میکنگ اوراس کی پروموشن اورمارکیٹنگ کی تکنیک تبدیل ہوچکی ہے۔

جس طرح بالی وڈ نے عالمی مقابلہ حسن جیتنے والی حسیناؤں کو اپنی فلموں کا حصہ بنا کرانٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی حاصل کی، اب اسی طرح پاکستان فلم انڈسٹری کی پروموشن اورانٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کیلئے فلم میکرزکوبھی مس پاکستان ورلڈ کی حسیناؤں سے استفادہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ حسینائیں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایکٹنگ اوررقص پربھی خوب مہارت رکھتی ہیں۔ اسی لئے بطورفلم میکرمیں نے بھی ان کواپنی فلم کیلئے سائن کیا ہے اورآئندہ چند ماہ میں کاغذی کارروائی کے بعد پاکستان میں آکرفلم کی شوٹنگ کا آغاز کیا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ جب یہ حسینائیں بڑی سکرین پرجلوہ گرہونگی توشائقین اپنی فیملیز کے ساتھ سینما گھروں کا رخ کرینگے بلکہ پاکستان فلم کودنیا کے بیشترممالک میں ایک اچھا پلیٹ فارم بھی ملے گا ۔

مقبول خبریں