پاکستانی فلم انڈسٹری کا حصہ بننا اعزاز سے کم نہیں صنم سعید

فنون لطیفہ کے دیگرشعبوں میں فلم کا میڈیم سب سے مضبوط اورعوام کے بہت قریب ہے،صنم سعید


Qaiser Iftikhar February 24, 2016
فلم بری جائے تواگلے ہی دن ڈبے میں بند ہوجاتی ہے جبکہ کامیاب ہوتو ہال میں تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے، اداکارہ فوٹو : فائل

KARACHI: اداکارہ وماڈل صنم سعید نے کہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کا حصہ بننا کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں۔ اس شعبے میں آنے سے قبل یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک روز بڑے پردے پرکام کرتی دکھائی دونگی۔

ماڈلنگ، ایکٹنگ اورسنگنگ کے شعبوں میں کام کیا لیکن فلم میں کام کرنے کاتجربہ سب سے الگ اورمنفرد ہے۔ ان خیالات کااظہارصنم سعید نے ''ایکسپریس''سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کے دیگرشعبوں میں فلم کا میڈیم سب سے مضبوط اورعوام کے بہت قریب ہے۔ یہ وہ واحد تفریح ہے جس سے لوگوں کی بڑی تعداد خوب محظوظ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھرمیں فلم اوراس سے وابستہ لوگوں کی پسندیدگی دوسرے شعبوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ مجھے جب فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تومیں نے کچھ دیرسوچا اورپھر فلم کی کہانی اوراپنے کردارکے بارے میں جانتے ہوئے رضامندی ظاہر کردی۔

اس سے پہلے میں ٹی وی اورفیشن انڈسٹری کے لیے کام کرچکی تھی، اس لیے میرا یہ خیال تھا کہ فلم میں کام کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا لیکن یہ واقعی ہی بے حد مشکل کام تھا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس سے ایک فنکاراورتکنیکارکوبہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کام کے لیے بہت محنت درکارہوتی ہے۔ کیونکہ کئی مہینوں اوربرسوں کی محنت سے بننے والی ایک فلم کی کامیابی اورناکامی کا فیصلہ دو سے تین گھنٹوں کے درمیان ہونا ہوتا ہے۔

فلم بری جائے تواگلے ہی دن ڈبے میں بند ہوجاتی ہے جبکہ کامیاب ہوتو ہال میں تالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ فلم کوبنانے سے پہلے فنکاراورتکنیکاروں سمیت تمام ٹیم شب وروز بڑی محنت سے ایک فلم کو بناتے ہیں اورہرایک یہی خواہش رکھتا ہے کہ اس کی فلم ریکارڈ بزنس کرے۔ اس لیے میری کوشش ہے کہ میں اپنے کیرئیر کے دوران اچھے اورمنفردموضوعات پربننے والی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاؤں، جو شائقین کی اولین پسند ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں