پاکستانی فلم کے زوال کے اسباب

جو ڈرایکٹرز بھی پاکستان میں کام کر رہے ہیں ان کی کوئی باقاعدہ ٹریننگ ہی نہیں اور نا ہی یہاں سیکھنے کے مواقع میسر ہیں۔


May 10, 2016
فلم انڈسٹری میں براجمان چند لوگ نئے چہروں کو بھی آگے آنے نہیں دیتے یا وہ سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کو فلم کے رموز سے کیا آشنائی ہو سکتی ہے:فوٹو : فائل

PESHAWAR: پاکستان کی فلم انڈسٹری 70کی دہائی تک فعال تھی اوربیشتر اچھی فلمیں بنائی جاتی رہی تھیں جس سے امید قائم تھی کہ وقت کے بدلتے تقاضوں کے مدِنظرفلم بینی بھی جدت کی منازل طے کرتی رہے گی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور رفتہ رفتہ اکیسویں صدی کے آغاز پر فلمی صنعت گھٹنے ٹیک گئی۔ ہم دنیا کے ساتھ بھارت کے مقابلے میں بھی کوسوں پیچھے رہ گئے۔ یوں تو فلم کی کامیابی کے کئی عناصر ہوتے ہیں جو کسی بھی ملک کی ثقافت اور طرزِ ذندگی کے عکاس ہو سکتے ہیں مگر ان میں سے چند سبھی جگہ یکساں ہیں۔

میرے نزدیک سب سے اہم عنصر ' سکرپٹ ' ہے۔ سکرپٹ کو ''سکرین پلے'' بھی کہا جاتا ہے۔ رائٹر پلاٹ، ڈائیلاگ، ایکشنز، سپیشل ایفکٹز، کیمرہ اینگلزسبھی کو یکجا کرکے ایک سکرین پلے تیار کرتا ہے جس پر فلم تیار کی جاتی ہے۔کہانی اور سکرپٹ دو مختلف چیزیں ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سکرین پلے پڑھایا نہیں جاتا اور شاید ہی کوئی کتاب دستیاب ہے کہ جس سے فیض لیا جا سکے۔ چنانچہ ہمارے پاس سکرین پلے لکھنے والے رائٹرز دستیاب نہیں۔

دوسرا مسئلہ جو ہمیں درپیش ہے وہ اچھے ڈرایکٹرز کا ہے۔ جو ڈرایکٹرز بھی پاکستان میں کام کر رہے ہیں ان کی کوئی باقاعدہ ٹریننگ ہی نہیں اور نا ہی یہاں سیکھنے کے مواقع میسر ہیں۔ ڈرامہ بنانے والے ڈائریکٹر کا المیہ بھی رائٹرز والا ہی ہے۔ وہ بدلتے ہوئے فلم کے پہلووں سے نا آشنا ہیں۔

تیسرا پہلو جو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ ہے سکرپٹ کو دیکھتے ہوئے اس کا تخمینہ۔ غلط بجٹ فلم کے دوران مختلف سینز کی ڈیمانڈکو پورا نہیں کرپاتا جس کا اثرباقی ماندہ سینز پر پڑتا ہے اور ایک معیاری فلم نہیں بن پاتی۔

چوتھا مسئلہ ہے تکنیکی صلاحیت ہے ، ہماری انڈسٹری اس امر کو مانتی تو ہے مگر اس کا تدارک نہیں کرتی۔ فلم دیکھنے والے تکنیکی معیار کو خوب سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ پاکستانی فلم دیکھنے سے بیزار ہیں کہ یہ تکنیکی لحاظ سے معیارپرنہیں۔ آج کل فلمیں ڈیجیٹل ( ڈی ایس ایل آر ) کیمروں پر بن رہی ہیں اور ہرایک کی دسترس میں ہے کہ وہ فلم بنا سکے۔

ماضی میں بننے والی پرانی فلموں میں تکنیکی لحاظ سے بہت کمی تھی لیکن صرف اچھے پلاٹ کی وجہ فلمیں دھوم مچا دیتی تھیں۔ وہ لوگ کم وسائل میں معیاری فلم بنانے میں کامیاب رہتے تھے۔ اگرچہ ان فلموں کے سکرپٹ پر بھی مجھے اعتراضات ہیں مگر پھر بھی بیشتر فلموں کے سکرپٹ معیاری تھے اور اس دور کے مطابق جامع تھے۔

ایک اور مسئلہ ٹھیکے پر فلمیں بنانے کا رواج بھی رہا ہے۔ یہاں ڈاریکٹروپروڈیوسر ٹھیکے پر فلمیں بناتے ہیں۔ اس پر طرئہ یہ کہ موصوف ڈاریکٹر گھر سے ہی سارا کچھ نکال کے لے آئے گا۔ سکرپٹ وہ خود لکھے گا، ایکٹرز اپنے گھر سے ڈالے گا، سامان ادھار پکڑے گا اور ایڈوانس پیسوں کو ذاتی استعمال میں لے آئے گا۔ فلم چھ مہینہ میں بن جاتی لیکن اس کے میوزک پر کوئی محنت نہیں ہوتی۔ غرض یہ کہ ایک غیرمعیاری فلم سینما کی زینت بنے گی اورسرمایہ دار کے پیسے ڈوب جائیں گے۔

فلم انڈسٹری میں براجمان چند لوگ نئے چہروں کو بھی آگے آنے نہیں دیتے یا وہ سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کو فلم کے رموز سے کیا آشنائی ہو سکتی ہے۔ لہذا نئے لوگ اپنے بل بوتے پر پرائیویٹ پروڈکشن کرنے پر مجبور ہیں۔ جو اکثر غیر معیاری ہوتی ہے البتہ ان کی کاوش کچھ اور نئے لوگوں کو حوصلہ ضرور دیتی ہے۔ یاد رکھیں کم لاگت میں بننے والی فلم بھی کامیاب ہو سکتی ہے اگر اس کی کہانی دلچسپ ، ایکٹنگ اچھی اور میوزک پر بھی محنت کی گئی ہو۔

(حماد حسن)

مقبول خبریں