جان عزیز عنبر
پیاری عنبر! ہمیں معاف کردینا کہ ہم تمہارے لیے کچھ بھی نہ کرسکے!
پنجابی کی معروف ادیب اجیت کور پر یہ ستم ٹوٹا کہ ان کی نوجوان بیٹی جل کر ختم ہوئی۔ اپنی خود نوشت میں انھوں نے اس سفر کا حال لکھا ہے جب وہ بہت مشکل سے فرانس پہنچیں اور بستر مرگ پر بیٹی کو دیکھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اس کے جلے ہوئے بدن سے بھوبھل کیے ہوئے آلوؤں کی بو آتی تھی۔ کوئی بھی ماں ان کے دل کا درد محسوس کرسکتی ہے۔
تمہارے سوختہ تن سے اٹھنے والی بو پر تمہاری ماں کس طرح تڑپی ہوگی ہم اسے پُر سہ کیسے دیں؟ ہم نہیں جانتے کہ تم کہاں ہو لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ تم جہاں بھی ہو، وہاں دراز ریش عبادت گزاروں کا حلقہ نہیں ہے، ان کا طلب کیا ہوا جرگہ نہیں ہے اور ہاں ، وہاں تمہاری ماں بھی نہیں ہے۔ تم اس کا جگر گوشہ تھیں لیکن اسے مجبور کیا گیا کہ وہ ان تمام سزاؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھے جن کی تعمیل جرگے کے حکم پر ہوئی۔ اس نے ان ہاتھوں کو دیکھا جنہوں نے تمہارا گلا گھونٹا، انھیں دیکھا جنہوں نے تمہیں زہر کا انجکشن لگایا اور پھر تمہیں رسیوں سے باندھ کر ایک وین میں ڈالا گیا اور پٹرول چھڑک کر تمہیں آگ لگادی گئی۔ عنبر کو بھی جلایا جاتا ہے تاکہ گھر اس کی خوشبو سے مہک جائے لیکن تمہارا صرف نام عنبر تھا: تم ایک انسان تھیں اور انسان جلائے نہیں جاتے۔
تمہاری ماں اس الزام میں گرفتار کی گئی ہے کہ اسے جرگے کا فیصلہ پہلے سے معلوم تھا لیکن اس نے پولیس کو اطلاع نہیں دی، واقعی تمہاری ماں کو گرفتار کرنے والے کیسے 'معصوم' لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ناک کے نیچے دنیا بھر کا سب سے مطلوب دہشت گرد سالہا سال رہا اور انھیں خبر نہ ہوئی۔ یہ ایک ناخواندہ عورت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ سفاک اور با اثر جرگے کے خلاف پولیس اسٹیشن جاتی اور انھیں بتاتی کہ چند گھنٹوں کے اندر اس کی بیٹی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
عنبر میری جان!
تمہیں حیرت ہوئی ہوگی اور تمہارا دل بھی دکھا ہوگا کہ ہم نے تمہیں یاد نہیں کیا، تمہارا غم نہیں منایا ۔ تم ہمیں معاف کردینا۔ ہم پہلے دن سے آج تک دل گرفتہ ہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ لوگ جو سفید اور کلف لگے لباس میں تھے اور جنہوں نے تمہیں اس بات کی سزا دی کہ تم نے اپنی سہیلی کو پسند کی شادی کرنے کے لیے اسے گھر چھوڑ دینے میں مدد دی۔ وہ تمام افراد نمازیں پڑھتے ہوں گے، ان میں سے شاید کچھ تہجد گزار بھی ہوں۔ انھوں نے حج اور عمرے کیے ہوں گے ۔ دین کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو جانتے ہی ہوں گے ، تو پھر انھوں نے اپنے دین کے خلاف یہ سب کچھ کیسے کیا؟ ان حیوانوں میں سے کسی کے دل میں لمحے بھر کے لیے بھی سوتا ہوا انسان نہیں جاگا؟
ہم کچھ نہیں جانتے۔ لیکن ہم انتظار میں تھے کہ قبلہ گاہی فلاں اور عالی مقام فلاں اس گھناؤنے جرم کے بارے میں کچھ کہیں گے! وہ ایک مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے زمین و آسمان ایک کردیں گے۔لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ شاید انھیں خبر ہی نہیں ہوئی کہ ایک بچی پر کیسا قہر ٹوٹا۔
انھیں کچھ معلوم نہ ہوسکا اور ہوتا بھی کیسے کہ وہ ان دنوں پانامہ لیکس کے پردے میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں بہت مصروف ہیں۔ عنبر ین بی بی ۔ اب تم خود سوچو کہ جب اتنی مصروفیات ہوں تو ایک سوختہ تن کے بارے میں بھلا کون فکر کرے ۔
زیادہ پرانی بات نہیں کہ وزیراعظم نے پرائم منسٹر ہاؤس میں شرمین عبید چنائے کی ڈاکو منٹری فلم' اے گرل ان دی ریور' دیکھنے کے بعد غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل اور ان پر ہونے والے تشدد کو غیر اخلاقی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس قسم کے اقدامات قطعاً غیر اسلامی ہیں اور ایسا کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے اور وہ بھی نہایت سخت سزا۔ انھوں نے برطانوی روزنامہ ''گارجین'' کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ، قوانین کو جلد سے جلد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں ان دنوں ہر طرف سے یلغار کا سامنا ہے۔ سب کی کوشش یہی ہے کہ کوئی اچھا کام اگر ہورہا ہے تو اسے نہ ہونے دیا جائے۔ ایسے میں تمہیں یاد رکھنے کی بھلا کسے فرصت ہے۔
عنبر جانِ عزیز!
کیسا سبک اور معطر نام ہے تمہارا 'عنبر'۔ شاہ جہاں کی جلاوطنی کا زمانہ تھا جب تھر کی ریگستانی آبادی عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوا۔ شاہ جہاں کے پاس کچھ بھی نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ رہنے والے چند وفاداروں کو اس خوش خبری کا انعام دیتا۔ اسے یاد آیا کہ پگڑی کے پیچ میں عنبر کا ایک ٹکڑا رکھا ہے۔ اس نے وہ نکالا اور اس کے ٹکڑے اپنے وفاداروں میں تقسیم کیے۔ تمہارا نام جس نے بھی رکھا اس نے یہی سوچا ہوگا کہ تمہاری خوشبو سے تمہارا خاندان معطر ہوگا۔ تمہاری کسی پھوپھی یا خالہ نے کہا کہ عنبر تو بچوں کی عاشق تھی، گزرتے ہوئے بچوں کو پیار کرتی، ان سے کھیلتی۔ لیکن تمہاری تمام خوبیاں دھری کی دھری رہ گئیں اور تم زندہ جلادی گئیں۔
عنبر کے باپ نے فریاد کی کہ ہم غریب لوگ ہیں، ہماری داد رسی کون کرے گا۔ سچ کہا اس نے غریبوں کو اور وہ بھی غریب لڑکیوں کو انصاف کب اور کہاں ملتا ہے۔ سال بہ سال غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ تمہارے ساتھ ہونے والا ظلم کم سے کم ہمیں معلوم تو ہوگیا، ورنہ سارے ملک میں ایسے قتل ہورہے ہیں جن میں سے بہ مشکل 30 فیصد کی خبر ہوتی ہے۔ تمہارے لیے اور تمہاری جیسی دوسری ہزاروں لڑکیوں کے لیے ہمارے معروف شاعر فضا اعظمی نے ایک طویل مسدس '' خاک میں صورتیں'' لکھا ہے۔ ظلم و تشدد سہنے والی لڑکیوں اور عورتوں کی طرف سے وہ فردِ جرم عائد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
نگاہیں روبرو! تاریخِ انساں کی عدالت ہے... صداقت مدّعی ہے اور زمانے کی شہادت ہے...ہر اک تہذیب نے پہنا ہے چوغہ بے گناہی کا... کہ وہ مذہب کے لشکر میں محض ادنیٰ سپاہی تھا ... کہ جو کچھ بھی کیا، اس کے لیے احکامِ بالا تھے... نہیں وہ مرتکب دنیا میں غارت اور تباہی کا... اسے قانون کی رو، سے بری کرنا ضروری ہے... ہو ا جو جرم سرزد، وہ سراسر لاشعوری ہے ... یکایک چیخ اٹھی اک کفن بردوش صورت سے ... محلاتِ عدالت ہل گئے غم کی جراحت سے... یہ مجرم ہے! یہ مجرم ہے! یہ مجرم ہے! یہ مجرم ہے!... کفن بردوش لاشے نے کہا اتمامِ حجت سے... مجھے اس نے اپاہج کر کے رکھا قیدِ زنداں میں... پسِ دیوار تنہائی حوالاتِ خموشاں میں... صلیبوں پر جلی اک لاش نے اٹھ کر گواہی دی...
افق سے تا افق پھیلی عدالت کی دہائی دی... یہ انساں شکل ہے لیکن یہ حیوانوں سے بدتر ہے... اسی نے آگ میرے جسمِ بے بس میں لگائی تھی... مجھے کہہ کر چڑیل اس نے صلیبوں پر چڑھایا تھا... یہ مجرم ہے ! یہ مجرم تھا! یہ مجرم ہے! یہ مجرم تھا!...چتا کی آگ کے شعلے بھڑک اٹھے کہ ہم بھی ہیں... شقی القلب جرموں کی شہادت ایک ہم بھی ہیں .....یہی وہ شخص ہے جس نے چتا میں مجھ کو ڈالا تھا... شہیدِ خنجرِ آزار و استبداد ہم بھی ہیں... لبادہ آج جس نے پاک دامانی کا اوڑھا ہے... یہ وہ ہے جس نے ہر قانونِ انسانی کو توڑا ہے... نہ ہنسنا میرے بس میں تھا، نہ رونا میرے بس میں تھا... میں اک پتھر کی مورت تھی، سسکنا میرے بس میں تھا... مجھے یہ دیکھتا تھا مستقل شک کی نگاہوں سے ... نہ جینا میرے بس میں تھا، نہ مرنا میرے بس میں تھا...
یہ خود عیاش تھا لیکن مری عفت کا مالک تھا... یہ بے غیرت تھا خود لیکن مری غیرت کا مالک تھا... کسی معصوم کی عصمت دری سردارِ جرگہ نے کرائی تھی... برہنہ لاش اس کی شاہراہوں پر گھمائی تھی... مری دوشیزگی کو مسئلہ اِس نے بنایا تھا... مری نا کتخدائی کی ہنسی اِس نے اڑائی تھی... یہ بار اپنے گناہوں کا مرے کاندھے پہ رکھتا تھا... سیاہی اپنی بدفعلی کی میرے منہ پہ ملتا تھا...لبِ نازک سے اک بچی نحیف آواز میں بولی... مرے ابّو نے میری قبر میرے سامنے کھودی... غضب کی چلچلاتی دھوپ تھی، گرمی کی شدّت تھی... دوپٹّے سے میں ماتھے کا پسینا پونچھ دیتی تھی... انھوں نے مجھ کو دھکا دے کے گڑھے میں گرایا تھا... میں چلاتی رہی، لیکن ترس اِن کو نہ آیا تھا... کہ صدیوں سے تہِ خاکِ عذابِ جاں کنی ہوں میں... یہ اپنی گم شدہ سانسوں سے اکثر پوچھتی ہوں میں ... ہزاروں سال کی تاریخ ہے اور مررہی ہوں میں... کہاں ہیں وہ جو میری کلفتوں کا اجر دیں مجھ کو؟... کہ جو شرمندگی کے آنسوؤں کی نذر دیں مجھ کو؟
کہاں ہیں محرمانِ حق؟ کہاں ہیں عالمانِ دیں؟ ... کہاں ہیں رہبرانِ دوراندیش و خلوص آگیں؟... کہاں ہیں درس گاہِ علم و آگاہی کے خوشہ چیں؟
پیاری عنبر! ہمیں معاف کردینا کہ ہم تمہارے لیے کچھ بھی نہ کرسکے!