یہ غلطی دہرائی نہیں جائے گی

یہ ہماری مشترک ذمے داری ہے ہم تاریخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں


Zahida Hina June 01, 2016
[email protected]

PESHAWAR: ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے اور جاپان کے لگ بھگ ڈیرھ لاکھ بے گناہ شہریوں کے ذبح عظیم کے 71برس بعد بارک اوباما پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے ہیروشیما کی سرزمین پر قدم رکھا۔ وہ جاپانی وزیراعظم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ہیروشیما میموریل پیس پارک میں داخل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس شہر کے مرکز میں کھڑے ہیں اور یہ محسوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان بچوں پر کیا گزری ہوگی جنہوں نے اس سانحے کو دیکھا ہوگا۔ ان کی خاموش چیخیں ہمیں سنائی دیتی ہیں۔ ہم انھیں یاد کرتے ہیں اور اس خوفناک جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پھول چڑھاتے ہیں۔

یہ ہماری مشترک ذمے داری ہے ہم تاریخ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم کیا کریں کہ آیندہ اس نوعیت کا کوئی سانحہ نہ ہونے پائے۔ امن محراب کے نیچے کھڑے ہوکر صدر امریکا نے کہا کہ ہمیں بچوں کو، اپنی آیندہ نسلوں کو ایسے بھیانک مستقبل سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی دنیا میں جوہری جنگ کی ابتدا کے طور پر یاد نہ رکھے جائیں، اسے ہماری اخلاقی صبح سے تعبیر کیا جائے۔ امن کی اس یادگار پر جو کتبہ لگا ہوا ہے، اس پر کندہ ہے ''چین کی نیند سو، یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی''۔

امن کی یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد امریکی صدر کی ملاقات اس جاپانی سے کرائی گئی جس کا نام 'موری' ہے وہ اب اُناسی برس کا ہوچکا، جس روز ہیروشیما پر امریکیوں نے بم گرایا وہ آٹھ برس کا تھا۔ صبح کا وقت تھا اور وہ حسب معمول اسکول جانے کے لیے پل پر سے گزر رہا تھا جب کان پھاڑ دینے والا ایک دھماکا ہوا اور اس دھماکے نے اسے اچھال دیا۔ وہ اپنے بستے سمیت نیچے دریا میں جا گرا۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی۔ دریا نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور بم گرنے کے فوراً بعد جس آگ نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اسی دریا نے اسے جلنے سے محفوظ رکھا۔

اس کے اوسان درست ہوئے تو وہ گھر کی تلاش میں نکلا لیکن وہاں گھر نہیں تھا، گھر والے نہیں تھے۔ آٹھ برس کا وہ بے یارو مددگار بچہ کھانے اور پانی کی تلاش میں اس شہر کی گلیوں میں پھرتا رہا جہاں صرف لاشیں تھیں اور زندہ بچ جانے والوں کی آہ و بکا اور کراہیں تھیں۔ پیٹ بھرنے اور تن ڈھانپنے کے لیے اس نے کئی چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں لیکن وہ تاریخ پڑھنا چاہتا تھا۔

وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے سرگرداں رہا۔ آخرکار اس نے تاریخ پڑھی۔ وہ ہیروشیما میں ہلاک ہونے والے ان امریکیوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا جن کے بارے میں اس نے ادھر ادھر سے سنا تھا کہ وہ جنگی قیدی کے طور پر ہیروشیما میں رکھے گئے تھے اور اس ایٹمی حملے کے دوران وہ بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس بارے میں 'موری' کی گہری دلچسپی دیکھ کر اس کے ایک استاد نے اس کی کچھ رہنمائی کی اور کئی برس کی جدوجہد کے بعد وہ اپنی کاوشوں میں کامیاب رہا۔ مسلسل تحقیق کے بعد موری نے ان امریکی جنگی قیدیوں کی ایک یادگار بنائی جو اس ایٹمی حملے میں ختم ہوگئے تھے۔

صدر امریکا کی ہیروشیما یاترا کے موقع پر جاپانی اہلکاروں نے ان کی ملاقات دو ایسے بوڑھوں سے کرائی جو اس حملے میں بچ گئے تھے، ان میں سے ایک 91 برس کا سبوئی تھا اور دوسرا اناسی برس کا موری۔ سبوئی سر کے بالوں سے پیر کے ناخنوں تک جل گیا تھا اس کے باوجود وہ آج بھی زندہ ہے۔ اس کی جب صدر امریکا سے ملاقات کرائی گئی تو وہ ان کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوگیا اور ان سے کچھ کہتا رہا۔ وہ شاید ان سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا تھا کہ آیندہ دنیا کی کسی آبادی کو اس عذاب سے نہیں گزرنا پڑے گا جس سے ہزارہا جاپانی گزرے۔ امریکی صدر سبوئی سے ہاتھ چھڑا کر موری کی طرف بڑھے تو موری کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

بارک اوباما نے آگے بڑھ کر موری کو گلے سے لگالیا۔ اس وقت جانے دونوں کے کیا جذبات و احساسات تھے۔ بعد میں جب ٹیلی وژن کے نمایندوں نے موری سے پوچھا کہ اس نے صدر امریکا سے کیا باتیں کیں تو موری نے جواب دیا کہ مجھ پر جذبات کا اتنا غلبہ تھا کہ مجھے کچھ یاد نہیں، انھوں نے مجھ سے کیا کہا اور میں ان سے کیا کہہ رہا تھا، مجھے کچھ یاد نہیں۔

کچھ جاپانیوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر کو اپنے ملک کے جنگی جرائم پر معذرت کرنی چاہیے۔ دوسری طرف وہ امریکی ہیں جو اس ایٹمی حملے کے بارے میں ایک الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر امریکا اگر ہیروشیما گئے اور انھوں نے امن یادگار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے تو یہی بہت کافی ہے۔ ان امریکیوں کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے سپاہیوں نے چین، کوریا اور دوسرے علاقوں میں بھیانک جنگی جرائم کیے تھے جن کی آج تک جاپان کی طرف سے معافی نہیں مانگی گئی۔

1937ء میں جاپانیوں نے جب چین کے شہر نانجنگ پر حملہ کیا تو 6 ہفتے کی مدت میں انھوں نے شہر کو تہہ و بالا کردیا۔ 3لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 42 ہزار سپاہی تھے اور 20 ہزار چینی عورتیں بے حرمت کی گئیں۔ ان میں سے بیشتر اپنے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک کے باعث جان سے گزر گئیں۔ اسی طرح جاپان کے ہاتھوں پر باتان ڈیتھ مارچ کا لہو بھی ہے۔

دوسری جنگ عظیم ہو یا اس سے قبل گزر نے والی پہلی جنگ عظیم، اس سے بہت پہلے اور اس کے بہت بعد ہونے والی تمام جنگیں انسانی ضمیر پر بوجھ ہیں۔ ہم سب اگر اپنے اندر جھانک کر دیکھیں اور ہماری آنکھوں پرعصبیت کی پٹی نہ ہو اور ہم خود کو صرف مظلوم اور دوسرے کو صرف ظالم نہ سمجھ رہے ہوں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اپنے اپنے زمانے میں ہم سب اپنے حریفوں کے ساتھ بدترین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، ہم سب کے ہاتھ دوسروں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہم سب مظلوم اور ہم سب ظالم ہیں۔

ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہم تاریخ کے آئینے میں اپنے ''کارنامے'' دیکھیں اور پھر اس بارے میں غور کریں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول پر شادیانے بجانے کی ضرورت ہے یا جوہری ہتھیاروں میں کمی میں ہی نسل انسانی کی بقا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم وہ دن کب آئے گا جب انسان یہ سمجھیں گے کہ جوہری ہتھیا روں کے تلف کرنے کے ساتھ ہی ہمیں دوسرے تمام مہلک ہتھیاروں سے بھی چھٹکارے کی ضرورت ہے۔

یہ 2000ء کی بات ہے جب ہمارے معروف صحافی اور دانشور ضمیر نیازی نے ایٹمی جنگ کے خطرے اور ایٹمی تباہ کاری کے حوالے سے اردو اور دوسری پاکستانی زبانوں کے ادب کا ایک انتخاب 'زمین کا نوحہ' کے نام سے مرتب کیا تھا۔ افسوس کہ اس میں ساحر لدھیانوی کی شاہکار نظم 'پرچھائیاں' شامل نہ تھی، اس کے علاوہ دوسرے ہندوستانی ادیبوں کی تحریریں بھی اس میں موجود نہ تھیں، ایک پاکستانی شاعر عثمان قاضی نے نظم 'جوہری جاڑا' لکھی تھی۔ یہ نظم کسی بھی جوہری جنگ کے حوالے سے لکھی گئی اور اس میں زمین کے اس موسم کو بیان کیا گیا ہے جس میں زمین پر صرف برف ہوگی۔ انسان اور اس کی تمام صناعی اور کاریگری سیکڑوں فٹ برف کے نیچے دفن ہوگی۔

ہم لوگوں نے چند دنوں پہلے اپنے ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ بہت جوش و خروش سے منائی ہے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جوہری صلاحیت حاصل کرلینے کے بعد پاکستان محفوظ ہوگیا ہے اور کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔ ہم نہیں جانتے کہ امریکا نے اس کے بعد جتنے ڈرون حملے کیے اور جن میں نوشکی کا تازہ ترین حملہ بھی شامل ہے، اسے کرتے ہوئے امریکیوں نے اپنی آنکھیں کسی نئے ڈٹرجنٹ سے دھولیں تھیں یا عرق گلاب سے۔

ہم تو بس اتنی سی بات جانتے ہیں کہ ایٹمی طاقت کے حصول کے بعد امریکا، طالبان، القاعدہ اور دیگر پہلوانوں نے ہماری طرف میلی آنکھوں سے ہی دیکھا اور بار بار دیکھا۔ اب جوہری ہتھیاروں اور ان سے ایک دوسرے کو ڈرانے کا دور ختم ہورہا ہے۔ اسلحے کی پیداوار اور اس کی تجارت میں کھربوں ڈالر لگے ہوئے ہیں۔ یہ کاروبار رفتہ رفتہ ختم ہوگا۔ روایتی ہتھیاروں کی جگہ اعلیٰ ٹیکنالوجی والے ہتھیار لیں گے۔ اس حوالے سے جو تحقیق ہوگی اس سے غیر فوجی معیشت کو فروغ دیا جائے گا۔

صدر اوباما کے دورۂ جاپان کا مقصد یہ اعلان کرنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا زمانہ گزر چکا ہے۔ انھوں نے یادگار پر لگے کتبے پر کندہ جملے کی توثیق کی ہے کہ یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔

مقبول خبریں