رواں سال کے دوران 22سرکاری گاڑیاں چوری و چھین لی گئیں

اینٹی کار لفٹنگ سیل کی ناقص کارکردگی کے باعث سرکاری گاڑیوں کی بھی چھینا جھپٹی کا سلسلہ بدستور جاری ہے.


Staff Reporter December 26, 2012
اینٹی کار لفٹنگ سیل کی ناقص کارکردگی کے باعث سرکاری گاڑیوں کی بھی چھینا جھپٹی کا سلسلہ بدستور جاری ہے. فوٹو: فائل

شہر کے مختلف علاقوں سے رواں سال کے دوران نامعلوم ملزمان22سے زائد سرکاری گاڑیاں چوری و چھین کر فرار ہوگئے۔

شہر میں جہاں عام شہریوں کی گاڑیوں کی چھینا جھپٹی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں وہیں پر اینٹی کار لفٹنگ سیل کی ناقص کارکردگی کے باعث سرکاری گاڑیوں کی بھی چھینا جھپٹی کا سلسلہ بدستور جاری ہے،اعداد و شمار کے مطابق رواں سال گلستان جوہر سے16 مارچ کو نامعلوم ملزمان GS-4632 سوزوکی کلٹس ، صدر تھانے کی حدود سے3 اپریل کو سرکاری ہائی روف نمبر GA-5543 ، فیروز آبادسے25 اپریل کو سرکاری ٹویوٹا کرولا نمبر GS-4455 ، سرجانی ٹاؤن سے27 اپریل کو سرکاری ٹویوٹا کرولا نمبر GL-0049 ، ڈیفنس سے 9 مئی کو سرکاری ٹویوٹا ہائی ایس وین نمبر GS-5083 ، گلبرگ میں سرکاری ہائی روف نمبر GS-7109 ، شمیم شہید کے علاقے سے19 مئی کو سرکاری ہنڈا سٹی کار نمبر GL-0411 ، شارع فیصل سے21 مئی کو سرکاری ڈبل کیبن نمبر GS-6793 ، گلبرگ سے26 مئی کو سرکاری ٹویوٹا کرولا کار نمبر والی ٹویوٹا کرولا GS-7301، شارع نور جہاں سے29 مئی کو ٹویوٹا کرولا سرکاری کار نمبرGS-7142 ، عید گاہ سے4جون کو مہران سرکاری کار نمبرGS-5983 ، گلشن اقبال سے5جون کو آلٹو سرکاری کار نمبرGS-9509اور ٹویوٹا کرولا سرکاری کار نمبرGL-8133 ، جمشید کوارٹر سے سرکاری کار نمبرGA-4827 ، گلشن اقبال سے سرکاری کار نمبر GS-7153 مبینہ ٹاؤن سے ٹویوٹا کرولا سرکاری کار نمبرGL-7507اور مبینہ ٹائون سے سرکار کار نمبر GS-9131چھینی و چوری کی گئیں جس میں سے بیشتر گاڑیاں تا حال نہیں ملیں۔

06

ذرائع نے بتایا کہ جن سرکاری گاڑیوں کا اینٹی کار لفٹنگ سیل پولیس نے برآمدگی کا دعویٰ کیا ہے وہ بھی ملزمان کسی سنسان مقام پر چھوڑ کر چلے گئے اور پولیس نے علاقہ مکینوں کی مدد سے برآمد کیں، شہریوں کی سیکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ اب سرکاری گاڑیوں کے چھینے جانے میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جبکہ اینٹی کار لفٹنگ سیل چوری و چھینی جانے والی کسی بھی گاڑی کو ڈھونڈنے میں دلچسپی لیتا دکھائی نہیں دیتا، ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کار لفٹنگ سیل میں متعدد ایسے پولیس افسران و اہلکار ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے وہاں تعینات ہیں جبکہ ان کے کار لفٹنگ کے بین الصوبائی گروہوں سے مبینہ طور پر تعلقات ہیں اور ان ملزمان سے مبینہ طور پر مالی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں