کاش ایک آواز ہی اُٹھتی

بھارتی معاشرہ کس بھیانک انداز میں بگاڑ کا شکار ہوچکاہے۔


Tanveer Qaisar Shahid January 01, 2013
[email protected]

وہ 23سالہ بھارتی طالبہ،جو دلی کے ایک میڈیکل کالج میں فیزیوتھراپی کی تعلیم حاصل کررہی تھی،بھارتی غنڈوں کے بے پناہ تشدد اور ظلم کی تاب نہ لاتے ہوئے 29دسمبر2012ء کی سہ پہر موت سے ہمکنار ہوگئی۔یہ سولہ دسمبر2012ء کی بات ہے جب دہلی میں رات کے وقت چھ ہندوشیطانوں نے گھر روانہ ہونے والی اس خاتون کو اپنے شکنجے میں جکڑ کر نہ صرف اجتماعی طور پراُس کی عصمت دری کی بلکہ اُس پر آہنی سلاخوں سے بے پناہ تشدد بھی کیا اور پھر اُسے بے ہوشی کے عالم میں بس سے باہر پھینک دیا۔یہ دل دوز سانحہ بھی بس کے اندر ہی وقوع پذیر ہوا۔کالی ماتا کے پُجاری اپنے شکار کا خون پی کر رات کی تاریکی میں غائب ہوگئے۔دہلی کے ایک اسپتال میں اُس مظلوم خاتون کے پانچ آپریشن ہوئے لیکن سب ناکام ہوگئے۔پھراُسے ائرایمبولینس کے ذریعے سنگا پور کے ایک اسپتال بھجوادیاگیا۔

جسم کے زخموں اور روح پر لگنے والے گہرے گھائو کے تیرہ دن بعد آخر کار وہ زندگی کی جُملہ نعمتوں سے محروم ہوگئی۔ہم نے 21دسمبر کو شایع ہونے والے اپنے کالم میں اِس المیے کا تفصیلی ذکر کیاتھا اوراب آنجہانی ہوجانے والی اِس مظلومہ کے بارے میں ہمدردی بھی کی تھی لیکن معلوم نہ تھا کہ وہ جلدہی اِس دنیا سے ہی منہ موڑ جائے گی۔گزشتہ دو تین روز سے پورے بھارت،الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مرنے والی کے حق اور ظلم کرنے والوں کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا جارہاہے۔

مطالبہ گونج رہا ہے کہ سب مجرموں کو پھانسی دی جائے۔دہلی کی وزیرِاعلیٰ شِیلا ڈکشٹ کا منہ بند ہے اور دہلی کے گورنر نے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش میں چند جونیئر پولیس اہلکاروں کو ڈسمس کرکے اپنا''فرض'' پورا کردیا ہے لیکن بھارت کی سول سوسائٹی مسلسل اِس موت پر نوحہ کناں ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناتے ہمیں بھی اِس موت پر دُکھ ہے،بے پناہ صدمہ لیکن ریپ کے اِس سانحہ کے ساتھ ہی ہمیں بہت سی کہانیاں یاد آکر رہ گئی ہیں۔یعنی مقبوضہ کشمیر،ممبئی اور گجرات میں بھارت سرکار کی زیرِ سرپرستی لاتعداد مسلمان مستورات سے جبری زیادتیاں۔16دسمبر کی رات جو سانحہ بھارتی راجدھانی کے عین وسط میں ایک بے گناہ بھارتی خاتون کے ساتھ پیش آیا اور جس کا چرچا چہار دانگ عالم میں ہورہا ہے،کیا بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف پالیسیاں مرتب کرنے والی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کارپرداز اب اپنے کرتوتوں پر نظرِثانی کریں گے؟

دِلّی کے ایک میڈیکل کالج میں زیرِتعلیم اِس 23سالہ طالبہ،جسے اجتماعی زیادتی کا شکار بنا کر قتل کردیاگیا ہے،کی سنگاپور میں موت پر انڈیا ماتم کدہ بنا ہواہے۔تقریباً پورے ہندوستان میں ملزمان کے خلاف نعرے لگائے جارہے ہیں۔اِس بہیمانہ عمل پر ہم بھی پریشان اور اُداس ہیں۔ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔یہ عمل دراصل ''شائننگ انڈیا'' کا باطنی اندھیرا ہے جس نے اِس سے انسانیت چھین لی ہے۔ بھارتیوں کااحتجاج اپنی جگہ بجا لیکن جب ہم اِس 23سالہ ہندو طالبہ کے ریپ کی وجہ سے ہونے والی موت کا تقابل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظالم افواج کے ہاتھوں مسلمان خواتین کے ساتھ کی جانے والی اجتماعی جنسی زیادتیوں کے ساتھ کرتے ہیں تو یہ افسوسناک حقیقت کُھل کر سامنے آتی ہے کہ بھارتی خاصے متعصب اور مسلم دشمن واقع ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک بھی نہیں جس نے مقبوضہ کشمیر کی مجبور مسلمان خواتین سے کی جانے والی بھارتی افواج کی زیادتیوں کے خلاف سوشل میڈیا یاسڑکوں اور بازاروں میں آکر احتجاج کیا ہو۔کیا کشمیری خواتین انسان نہیں؟ کیا اِس کا مطلب یہ لیاجائے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے زہریلے پروپیگنڈے سے سبھی بھارتی ہندو متاثر ہوچکے ہیں؟ اِس 23سالہ طالبہ کی موت پر بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا:''مَیں پوری عوام کے ساتھ مل کر اِس (مقتولہ) لڑکی کے گھر والوں اور دوستوں سے اظہارِافسوس کرتا ہوں۔مَیں دعا گو ہوں کہ اُس کے خاندان کو صبرعطا ہو۔'' دوسری طرف یہ بھارتی وزیرِاعظم ذاتی حیثیت میں اتنا متعصب اور بے حس ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کسی ایک مسلمان خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی پر اِس کے منہ سے ایک لفظ نہیں پُھوٹا۔

بھارت کے ممتاز اداکار امیتابھ بچن،جس کے چرچے ہمارے ہاں بھی بہت ہیں،نے 23سالہ خاتون کی سنگاپور میں موت پر اظہارِافسوس کرتے ہوئے کہا:''اُس کی روح ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتی رہے گی۔''درست فرمایا جناب نے لیکن افسوس کہ آج تک بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والی مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والے بلات کار پر اِس شخص نے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں بولا۔ نہ جانے کیوں بھارتی اور کشمیری مجبور مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر اِس ''فنکار''کے اندر بسنے والا ہندو انسانی ہمدردی پر غالب آجاتا ہے۔

یہ شخض،جس کا نام امیتابھ بچن ہے،2002ء میں بھی ہندوستان میں ہی تھاجب بھارتی گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندرمودی کے حکم سے گجراتی مسلمان خواتین اور بھارتی پارلیمنٹ کے سابق مسلمان رکن اقبال احسان جعفری کی بیٹیوں پر ظلم وزیادتی کے پہاڑ توڑے گئے تو ''جناب'' امیتابھ بچن نے اِس ظلمِ عظیم پر احتجاج کرنے یا ہمدردی کے چند الفاظ بولنے کے بجائے چُپ سادھ لینا زیادہ مناسب سمجھا۔آج ایک ہندولڑکی پر زیادتی ہوئی ہے تو اِس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔چہ خوب !''بِگ بی'' فی الحقیقت اندرونی طور پر کس قدر چھوٹا ہے۔

اُس کی طرح آنسو بہانے والوں میں بھارت کی مسلمان اداکارہ شبانہ اعظمی اور بنگلہ دیش کی دریدہ دہن مصنفہ ڈاکٹرتسلیم نسرین بھی شامل ہے۔اِن کی زبانوں سے بھی کبھی مقبوضہ کشمیر کی مقہور ومجبور مسلمان خواتین کے حق میں اور کشمیر میں متعین بھارتی افواج کے مظالم کے خلاف ایک لفظ ادا نہیں ہوسکا ہے۔ کاش،بھارت بھر سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمان عورتوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ایک آواز ہی اُٹھتی لیکن یہ خواب پورا ہوسکا ہے نہ غالباً پوراہوگا۔

بھارتی دارالحکومت میں 23سالہ طالبہ کی جس وحشیانہ انداز میں عصمت دری کی گئی ہے،اِس سے ظاہرہوتا ہے کہ بھارتی معاشرہ کس بھیانک انداز میں بگاڑ کا شکار ہوچکاہے۔یہ واقعہ ہے کہ ہندوستان میں ریپ کے سانحات میں روز بروزاضافہ ہورہا ہے۔اِس کے لیے بھارتی فلمیں اور خوفناک ڈرامے بنیادی کردارادا کرتے نظرآرہے ہیں۔ گنگا کے دیس خصوصاً دہلی میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے سانحات اِس تواتر اور تسلسل سے ہو رہے ہیں کہ بھارت کے نامور اور نہایت سنجیدہ اخبار نویس روپم جین نائر نے 30 دسمبر 2012ء کو شایع ہونے والی اپنی رپورٹ میں دہلی کو Rape Capital (خواتین سے جنسی زیادتیوں کا دارالحکومت) قرار دے دیا ہے۔ روپم کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت میں ہر 18 ویں گھنٹے میں زیادتی کے دو واقعات جنم لے رہے ہیں۔

اِس کے علاوہ اُن واقعات کی تعداد الگ ہے جنھیں خواتین بدنامی کے ڈر سے رپٹ ہی درج نہیں کراتیں۔ ہم نے پہلے بھی کہیں اپنے کالم میں یہ گزارش کی تھی کہ بھارتی نوجوانوں نے ریپ کا گھنائونا درس مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی افواج کے مظالم سے سیکھا ہے۔جس طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں مسلمان خواتین کے ریپ کے لاتعداد سانحات جنم لے چکے ہیں اور مجرم بھارتی فوجیوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی،اِسی سے بھارتی نوجوانوں نے یہ انسپائریشن لی ہے کہ اگر وہ بھی کسی بھارتی خاتون کی عصمت کی دھجیاں بکھیردیں تو اُن کا بھی بال بیکا نہیں کیاجاسکے گا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارت میں اِس جُرم کی سزا بہت کم دی جاتی ہے۔غالباً اِس وجہ سے بھی بھارت میں اِن سانحات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہورہا ہے۔

مسلسل اضافہ۔بھارت کے ''قومی جرائم ریکارڈ بیورو''کے مطابق،بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ 2010ء میں ریپ کے بیس ہزار دو سوباسٹھ سانحات نے جنم لیا اور اِس سے اگلے برس یعنی2011ء میں اِس تعداد میں چارہزار سے زائد مقدمات درج ہوئے۔(اندازہ ہے کہ 2012ء میں اِس میں مزید اضافہ ہوا ہو گا) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش اور دہلی شہر اِن سانحات میں سب سے آگے رہے۔''شائننگ انڈیا'' کا یہ چنگیزی اندرون اب ساری دنیا پر آشکار ہورہا ہے۔ہمارے ہاں بھارت سے ہر شعبہ حیات میں تعلق استوار کرنے والوں کو بھی اپنے نظریات پر نظرِثانی کرنی چاہیے اور خصوصاً اُن لوگوں کو بھی جن کے گھروںمیںبھارتی فلمیں ''گھر کے فرد''کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔

مقبول خبریں