ایک نفسِ مطمئن

وہ اُن انسانوں میں سے ایک تھے جو ’’خود نگر‘‘ کہلاتے ہیں۔


Tanveer Qaisar Shahid January 08, 2013
[email protected]

قاضی حسین احمد، جنھیں پانچ بار امیرِجماعت اسلامی منتخب ہونے کا اعزاز نصیب ہوا، اپنے خالق حقیقی کے حضور پہنچ چکے ہیں۔ ابھی پروفیسر غفور احمد صاحب کی رحلت کا زخم ہرا ہی تھا کہ ایک زخم اور سینے پر آ لگا ہے۔ ایک خوبرو، جواں ہمت، مخلص، پاکستان پر مر مٹنے والا شخص ہم سے جُدا ہوا ہے تو لگا ہم مزید تہی دامن ہو گئے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے تربیت یافتگان کی تعداد مزید کم ہو گئی۔وہ زندہ تھے تو کئی اختلاف بھی زندہ تھے اور اب کہاں کا اختلاف اور کہاں کی مخالفت؟ بڑے لیڈر کے چلے جانے کے بعد دھچکا تو ضرور لگتا ہے لیکن خدا کی حکمت سے بانگِ درا پھر بھی بجتی رہتی ہے اور امید کی کرنیں پھر بھی جھلملاتی رہتی ہیں۔ ضرورت تو اِس امر کی ہے کہ روشن کی گئی شمع گُل نہ ہونے پائے۔

مغرب اور شمالی امریکا میں شایع ہونے والی تحقیقی تصنیفات، جن میں کسی بھی شکل میں اسلام کے بنیادی تصورات کے خلاف کوئی بات ہوتی، قاضی صاحب اُسے سرے ہی سے مسترد کر دیتے۔ نوے کے عشرے میں ممتاز امریکی صحافی جین گُڈون نے پاکستان بھر کا مطالعاتی اور مشاہداتی دورہ کیا جو کئی ماہ کو محیط تھا۔ پاکستان میں خواتین سے ہونے والی زیادتیوں کا مشاہدہ اور متاثرین سے ذاتی ملاقاتیں جین صاحبہ کا ہدف تھا۔ بعد ازاں اِنہی مشاہدات کی بنیاد پر انھوںنے ایک شاندار کتاب لکھی جسے ''پرائس آف آنر'' کا عنوان دیا۔

یہ کتاب بہت پڑھی گئی اور اِس کے کئی ایڈیشن شایع ہوئے۔ ''پرائس آف آنر'' میں امریکی مصنفہ نے لکھا ہے کہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں بڑے بڑے زمین دار اور فیوڈل لارڈز کس طرح اپنی زمینیں بچانے کے لیے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کر دیتے ہیں۔ میں نے امریکا میں یہ کتاب پڑھی تھی۔ اِس نے مجھے ششدر کرکے رکھ دیا۔ واپس پاکستان آیا تو ایک سینئر صحافی دوست کے ساتھ وقت لے کر منصورہ (لاہور) میں محترم قاضی حسین احمد صاحب سے ملا۔ یہ گرمیوں کا موسم تھا اور ہماری ملاقات دارالضیافہ میں ہوئی تھی۔ قاضی صاحب بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔ اُنھوں نے بڑی نفیس کاٹن کی شلوار قمیض زیبِ تن کر رکھی تھی۔ گفتگو کے دوران میں نے بڑے احترام کے ساتھ قبلہ قاضی صاحب سے پاکستان میں (بعض) عورتوںکی قرآن سے شادی کا مسئلہ رکھا۔

سُنتے ہی اُن کا موڈ آف ہو گیا لیکن انھوںنے جذبات کو آپے سے باہر نہ ہونے دیا اور بڑے تحمل سے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ''یہ آپ نے کہاں سے پڑھ لیا ہے جی۔'' جواب میں میں نے ''پرائس آف آنر'' کا حوالہ دیا تو جلال میں آ گئے۔ فرمایا: ''اسلام کو بدنام کرنے والے یہودی مصنف جو بے ہودہ باتیں لکھ دیتے ہیں، آپ ایسے نوجوان صحافی فوراً اُن پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔'' ایک توقف کے بعد دوبارہ ارشاد کیا: ''اِس طرح کی کتابیں پڑھنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟'' گفتگو آگے بڑھنے لگی تو اس میں تلخی بھی در آئی لیکن میں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی تو اُن کا غصہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام اور اسلامیانِ عالم سے اُن کی گہری محبت کا یہی تقاضا تھا کہ وہ گُڈوِن کی کتاب کے مندرجات سُن کر اِسی طرح کا ردِعمل ظاہر کرتے۔

اسلام اور اسلامیانِ عالم کے تحفظ اور اِسے بدنامی کے داغوں سے بچانے کے لیے قاضی حسین احمد صاحب ہمہ وقت خدمت انجام دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ دین کی مبادیات سے گہری وابستگی اُن کی جبلّت کا حصہ تھی لیکن وہ جذبات سے مغلوب ہونے والے شخص نہیں تھے۔ جہاد اُنھیں عزیز تھا لیکن جہادیوں کے بعض ''معاملات'' سے انھیں اختلاف بھی تھا۔ ہمارے جہادیوں کی یورش جب چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگی تو پاکستان اور چین کے باہمی معاملات میں شکایت کا عنصر پیدا ہونے لگا۔

اِس امر کا خدشہ تھا کہ ہمارے جہادیوں اور ایک فرقے نے ''اسلام اور جہاد کی خدمت'' کے جذبے تلے چین میں بعض لوگوں کو جس انداز میں اُکسانا شروع کیا ہے، ردِ عمل بہت شدید ہو گا۔ بھارت اور امریکا اِسے ایکسپلائیٹ کرنے کے لیے پَر تولنے لگے تھے۔ ایسے نازک اور حساس لمحات میں قاضی صاحب آگے بڑھے۔ وہ خاموشی سے چین کے دورے پر گئے۔ وہاں بعض اکابرین سے ملے اور پاکستان کے ذمے داروں کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔ اور یوں اُلجھے اُلجھے معاملات بخیر و خوبی سلجھا لیے گئے اور پاکستان کے کسی دشمن کو خبر بھی نہ ہونے دی۔ فسادیوں کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ پاکستان کے ایک ممتاز اور معزز شہری ہونے اور امیر جماعت کے منصب پر فائز ہونے کے ناتے اُن کی یہ قومی خدمت، جس سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں، ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ لوگ اُن کا گریبان پکڑنے کی کوشش کریں اور اُن کی کردار کشی پر اُتر آئیں تو پھر بھی وہ خاموش رہیں۔ پھر جواب دینے کے لیے وہ کسی بڑے سے بڑے عہدے اور عہدے دار کی پروا نہ کرتے۔ جب جناب نواز شریف نے کشمیری جہاد میں فنڈز کے حوالے سے قاضی حسین احمد کے بارے شوشہ چھوڑا تو یہ دراصل اُن کی کردار کشی کے مترادف تھا۔ پھر قاضی صاحب کی طرف سے جو جواب آیا، اُسے ایک دنیا نے دیکھا، ایک دنیا نے سُنا۔

قاضی صاحب نے ایسے میں یہ احتیاط بھی ملحوظِ خاطر رکھی کہ اُن کے جواب سے عالمی سطح پر ملک کو کوئی گزند پہنچے نہ کسی کو کشمیری جہاد کے حوالے سے انگشت نمائی کا موقع مل سکے۔ ایک روز جب اُنھوں نے کور کمانڈرز کو ''کروڑ کمانڈرز'' کے نام سے یاد کیا اور اِس اصطلاح کی بازگشت سارے ملک میں سنائی دینے لگی تو آج تک کم لوگوں کو علم ہے کہ آخر اِس طنز کی وجہ کیا تھی اور قاضی حسین احمد ایسا محتاط اور دور بیں شخص اِس اصطلاح کو بروئے کار لانے پر کیوں مجبور ہوا تھا۔

وہ اُن انسانوں میں سے ایک تھے جو ''خود نگر'' کہلاتے ہیں اور جنھیں ہمہ وقت اللہ کے حضور جوابدہی کا خیال و احساس رہتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ان سے کئی ملاقاتوں میں جب دو افغان لیڈروں (گلبدین حکمت یار اور مسعود پنج شیری) کے حکم پر کارکنان ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے اور انھیں راستوں پر پھانسیاں دینے کا ذکر آتا تو وہ آزردہ اور غمزدہ ہو کر کئی لمحے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے۔ وہ پشتون تھے لیکن بدلہ و انتقام لینے سے بہت دور۔ اِس کی جگہ عفو و درگزر نے جگہ بنا لی تھی۔ لاہور سے شایع ہونے والے ایک انگریزی ہفت روزہ جریدہ اُن کی ذات کے بارے میں، اُن کی امارت کے حوالے سے اور مجموعی طور پر جماعتِ اسلامی کے بارے میں آئے روز آرٹیکلز شایع کرتا رہتا تھا۔

اُن کے خلاف دل آزار کارٹون بھی شایع کیے جاتے لیکن اِس جریدے پر جب نواز شریف حکومت کا نزلہ گرا اور مالکان پر آزمائش کاموقع آیا تو یہ قاضی حسین احمد صاحب ہی تھے جنہوں نے اِن پُرآزمائش اور کڑے وقت میں اِس ہفت روزہ کے لبرل و سیکولر مالکان کی دست گیری کی۔ اچھی بات یہ ہے کہ اِس انگریزی جریدے کے مالکان نے اِس احسان کو ہمیشہ تسلیم بھی کیا اور اِسے آج تک یاد بھی رکھا ہے۔

دل ماننے کو تیار ہی نہیں کہ قاضی صاحب آج ہم میں نہیں رہے۔ وہ دوسری دینی جماعتوں کے سربراہوں سے اِس لیے بھی ممتاز اور منفرد تھے کہ اُن کا عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں تعارف اور ایکسپوژر تھا۔ اِس تعارف کو اُنھوں نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کے حق میں استعمال کیا۔ مصر، ترکی اور سوڈان کی اسلامی تحریکوں سے اُن کے گہرے روابط تھے۔ اِس حوالے سے انھوںنے کئی بار سوڈان کا دورہ بھی کیا۔ ترکی اور سوڈان کے اسلام پسند حکمرانوں اور ذمے داروں سے اُن کے براہ راست تعلقات تھے۔

وہ اِس امر پر بھی بہت خوش اورمطمئن تھے کہ ترکی میں سیکولر جرنیل حکمرانوں کی بالادستی ختم ہوئی ہے اور اُن کی جگہ اسلامی مزاج رکھنے والے لوگ حکمران بن گئے ہیں۔ مصر میں حُسنی مبارک کے گرنے اور اخوان المسلمین کے مُرسی صاحب ایسے شخص کا حکمران بننا اُن کی دلی طمانیت کا باعث تھا۔

مقبول خبریں