ڈے کیئر سینٹر
معاشرتی قدریں اگرچہ پیداواری رشتوں میں تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں
معاشرتی قدریں اگرچہ پیداواری رشتوں میں تبدیلی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن معاشرے ترقی یافتہ ہوں یا پسماندہ صنف نازک کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک کیا جاتا رہا۔ ماضی قریب تک ہی نہیں بلکہ آج بھی پسماندہ خصوصاً قبائلی معاشروں میں صنف نازک کے ساتھ نہ صرف امتیازی سلوک جاری ہے بلکہ غیرت کے نام پر خواتین کے ساتھ وحشیانہ سلوک بھی کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال قبائلی معاشروں میں زیادہ سنگین ہے۔
خواتین کو حصول تعلیم سے روکنا بھی اسی کلچر کا حصہ رہا ہے۔ پختونخوا میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن جیسے جیسے خاندانوں پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے خواتین پر پابندیوں کی زنجیریں ٹوٹتی جارہی ہیں، پہلے خواتین کی تعلیم پر سخت قدغنیں عائد تھیں لیکن جب تعلیم کے بغیر خواتین کو مناسب ملازمتیں ملنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں تو ماں باپ کو اپنی بچیوں کو اسکولوں اور کالجوں میں بھیجنا پڑا۔ جب ملازمتوں میں مقابلے کا سلسلہ شروع ہوا اور نوجوان لڑکیوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس ہونے لگا تو صنف نازک اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھتی گئی بلکہ اب صورت حال یہ ہے کہ تعلیمی میدان میں لڑکیاں لڑکوں سے آگے نظر آرہی ہیں۔
تعلیمی میدان میں کامیابی کے بعد جب معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے لیے خواتین ملازمتوں کی طرف پیش قدمی کرنے لگیں تو انھیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں سے ایک اپنے شیر خوار بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کا مسئلہ ہے۔ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ چونکہ روایتی خاندانی نظام بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے اس لیے بچوں کی دیکھ بھال کا مسئلہ برسر کار خواتین کے لیے درد سر بنا ہوا ہے، جب تک جوائنٹ فیملی سسٹم مضبوط تھا ماں باپ یا ساس سسر شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری پوری کرتے تھے، جوائنٹ فیملی سسٹم کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ملازمت پیشہ خواتین کے لیے ان کے شیر خوار بچے ایک بہت بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ ملازمت کے اوقات کار کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ صرف شیر خوار بچوں کا ہی نہیں بلکہ اسکول جانے والے بچوں کا بھی ہے۔
ماں باپ جب ملازمت پر ہوں تو صبح سے شام تک بچوں کی دیکھ بھال ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پرائمری میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی کہ وہ ماں باپ کی غیر موجودگی میں گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنی دیکھ بھال اور حفاظت کرسکیں۔ اس کے علاوہ ان کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم ہوجاتا ہے۔ ماں باپ کی غیر موجودگی میں ان کا تحفظ ایک مشکل مسئلہ بن جاتا ہے اور تربیت پس پشت چلی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ بے راہ روی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ خاص طور پر ہمارے جرائم زدہ معاشرے میں اپنے گھروں میں بچوں کا تنہا رہنا کئی مسائل اور خطرات پیدا کردیتا ہے۔ بچوں کی مائیں اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے صبح سے شام تک آفسوں، فیکٹریوں میں کام تو کرتی ہیں لیکن ان کا دھیان بچوں میں لگا رہتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں کے بارے میں اگرچہ طرح طرح کی بدگمانیاں موجود ہیں اور ان ملکوں میں خاندانی نظام بھی زمین بوس ہوگیا ہے لیکن ان ملکوں میں معاشرتی قدر میں ترقی پذیر ملکوں سے زیادہ مضبوط ہیں، اس لیے ان ملکوں میں بچے ترقی پذیر ملکوں کے بچوں سے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں انسانوں کی تعلیم کے حوالے سے جو تنگ نظری اور تعصبات میں ہوجاتے ہیں وہ ترقی یافتہ معاشروں میں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے اور ان ملکوں کے عوام بلا امتیاز مذہب و ملت انسانیت کے احترام کو اپنا قومی اور انسانی فرض سمجھنے لگے ہیں۔
امریکا کے صدر نے دہشت گردی کے حوالے سے 7 مسلم ملکوں پر جو امیگریشن پابندیاں عائد کی ہیں، امریکی عوام ہی نہیں بلکہ بیشتر ترقی یافتہ ملکوں کے عوام ان پابندیوں کے خلاف پر تشدد احتجاج کررہے ہیں۔ یہی صورت حال تارکین وطن کو امریکا بدر کرنے کی ٹرمپ پالیسی کی مخالفت کا ہے۔ امریکا کے عوام لاکھوں کی تعداد میں ٹرمپ کی تارکین وطن پالیسی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ پالیسی کے تحت نکالے جانے والے تارکین وطن کو وہ کینیڈا میں رہائشیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بات چلی تھی لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات سے اور وہ چلی گئی ٹرمپ کی پالیسیوں تک۔ پاکستان میں جیسے جیسے معاشی مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور خواتین کو معاشی میدان میں آنا پڑ رہا ہے انھیں بہت ساری مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے، جن میں بچوں کی دیکھ بھال خاص طور پر شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال کا سنگین مسئلہ پیش ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ملازمت پیشہ خواتین کو جو سہولتیں دی جاتی ہیں ان میں شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال کا ایک منظم اور موثر نظام شامل ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ڈھائی کروڑ آبادی کا شہر ہے جہاں لاکھوں خواتین مختلف شعبوں میں ملازمت کررہی ہیں۔ خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ملازمت پیشہ خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی دیکھ بھال بن گیا ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ڈھائی کروڑ کی آبادی والے اس بڑے شہر میں شیر خوار بچوں کے لیے صرف تین چھوٹے چھوٹے ڈے کیئر سینٹر موجود ہیں۔
ہماری حکومتوں کی ''اہلیت'' کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2011 میں ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے تین ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے کی اسکیم منظور ہوئی، لیکن 7 سال گزرنے کے باوجود یہ ڈے کیئر سینٹر قائم نہ ہوسکے۔ جب کہ مذکورہ اسکیم کے لیے 9 کروڑ 55 لاکھ 75 ہزار روپے مختص کیے گئے تھے۔
اس اسکیم کو جون 2017 تک مکمل کرنا تھا لیکن ڈے کیئر سینٹر کو خواب پورا نہ ہوسکا۔ پی آئی سی ایچ ایس میں ایک ڈے کیئر سینٹر موجود ہے، جہاں ڈھائی سال سے تین سال کے 30 بچوں کو رکھا جاتا ہے اور ایک بچے کی دیکھ بھال کی فیس ڈھائی ہزار سے تین ہزار تک لی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ اور ڈے کیئر سینٹر بھی نجی ہاتھوں میں ہیں جہاں بھاری فیس لی جاتی ہے اور ان میں بھی 30،20 بچوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سندھ میں عوامی حکومت قائم ہے اس حوالے سے اس کی ذمے داری ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کی ضرورت کے مطابق ڈے کیئر سینٹر قائم کرکے ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔