مغربی روٹ کے لیے ایک انچ زمین بھی نہیں خریدی گئی
اقتصادی راہداری کی تعمیر میں کچھ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا
جب سے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پردونوں ملکوں کے درمیان دستخط ہورہے ہیں حکومت کی طرف سے بار بار یہ کہا جارہاہے کہ سی پیک سے ملک میں ایک تاریخی اقتصادی انقلاب آجائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چین سے جو تجارتی قافلے گوادرکی بندرگاہ سے گزریں گے۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک یہ کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس کا بڑا فائدہ روایت کے مطابق کاروباری ایلیٹ اوراس کے سرپرستوں کو ہوگا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اقتصادی راہداری کی تعمیر میں کچھ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا۔ عام آدمی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ کیا اس کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ ہوگا توکس طرح ہوگا؟ کیا اس مہنگائی میں کمی ہوگی جس کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے؟ کیا اقتصادی راہداری ملک کے لاکھوں بے روزگاروں کو روزگار دلاکر ملک سے بے روزگاری ختم کردے گا؟ بلا شبہ اقتصادی راہداری سے کچھ بے روزگار، روزگار سے لگ جائیں گے لیکن ملک میں جو لاکھوں افراد پر مشتمل بے روزگاروں کی فوج ہے کیا وہ سب سی پیک میں کھپ جائے گی؟
یہ ایسے سوال ہیں جس کا جواب ہمارے حکمرانوں کو دینا چاہیے۔ ہم جس اقتصادی نظام میں زندہ ہیں۔ اس میں معاشی استحصال ایک لازمی امر ہے، اس مسئلے کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں بلکہ ہر اس ملک سے ہے جہاں سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے کیونکہ بے روزگاری، مہنگائی، غربت اورامارت میں بڑھتا ہوا فرق، ارتکاز زر اس نظام زرکا لازمی حصہ ہیں۔ امریکا اور دوسرے ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں بھی یہ قباحتیں موجود ہیں بلکہ آئے دن ان میں اضافہ ہورہا ہے اور اضافہ ہوتا رہے گا۔کیونکہ یہ برائیاں اس نظام زرکا لازمی حصہ ہیں جنھیں نہ کوئی سی پیک ختم کرسکتا ہے نہ کسی قسم کی معاشی اصلاحات ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔
معاشی نا انصافیوں کی زد میں سب سے زیادہ غریب طبقات آتے ہیں۔کیونکہ وہ بامعنی معاشی سرگرمیوں سے الگ رہتے ہیں یا الگ رکھے جاتے ہیں۔اس نظام کے شاطر منصوبہ ساز اور سرپرست اس نظام کی سربلندی اور ناگزیریت کے حوالے سے یہ مکارانہ فلسفہ پیش کرتے ہیں کہ یہ نظام ہر شہری کو معاشی دوڑ یا معاشی ترقی میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں ''بامعنی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے سرمایہ چاہیے اور غریب انسان کا سرمایہ اس کے دو ہاتھ اور اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون ہوتا ہے اور اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ ہزاروں غریب پیٹ بھرنے کے لیے اپنا خون تک بیچ دیتے ہیں۔اس نظام اور اس کے مضمرات کا حوالہ اس لیے دینا پڑ رہا ہے کہ سی پیک منصوبے کا اصل فائدہ اس کلاس کو ہوگا جو سرمائے کی مالک ہوگی یا سرمایہ بنانے والی مشینری سے وابستہ ہوگی۔ ہمارے ملک میں لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے برسوں سے خوار ہورہے ہیں۔ کیا سی پیک ان لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار دے گا؟
آج میں ایک محترم سینیٹر کے ساتھ بیٹھا تھا جہاں بات روزگارکی چل رہی تھی۔ سینیٹر صاحب فرمارہے تھے ہمارے ملک میں روزگار میرٹ پر نہیں سفارش پر ملتا ہے جس نظام میں ملازمتیں دھڑلے سے بیچی اور خریدی جاتی ہوں وہ نظام غریب طبقات کو جن کے پاس دو وقت کی روٹی کا انتظام نہ ہوں لاکھوں روپے ملازمت یا روزگار کی خرید پر کس طرح لگاسکتے ہیں؟ سی پیک کے منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ سڑکوں کی تعمیر کا ہے اور سڑکوں کی تعمیر کا کام اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ انجام نہیں دے سکتے صرف محنت کش طبقات یہ کام کرسکتے ہیں لیکن انھیں بھی اس روزگار کے لیے سفارش یا رشوت کی ضرورت ہوگی جس کی اہلیت غریب طبقات میں نہیں ہوتی۔
سی پیک کے حوالے سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ اس کے فوائد میں چاروں صوبوں کو برابرکا حصہ ملے گا؟ لیکن اس حوالے سے چھوٹے صوبوں خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو شکایت ہے سی پیک کا اصل مسئلہ سیکڑوں میل طویل سڑکوں کی تعمیر ہے اور بلوچستان اور پختونخوا کو شکایت ہے کہ سی پیک کی سڑکیں ان کے صوبوں سے نہیں گزاری جارہی ہیں ۔
اس حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں بلوچستان کے چیف سیکریٹری نے انکشاف کیا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے لیے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اب تک ایک انچ زمین بھی نہیں خریدی گئی۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا آج تک کوئی اجلاس بھی نہیں ہوا ہے۔ مغربی روٹ ابھی تک صرف کاغذوں پر تعمیر ہورہی ہے مغربی راہداری کو نظرانداز کرنے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کو بھی نیشنل ہائی ویز میں شامل کرنے کی سفارش کی۔
عام طور پر اس قسم کی نا انصافیوں کی ذمے داری مرکزی حکومت پر ڈالی جاتی ہے اور اسے ہم اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ پاکستان میں مرکزی حکومت عملاً پنجاب کی تحویل میں رہی ہے اور یہ اس لیے ہورہاہے کہ پنجاب میں ملک کی آبادی کا 63 فی صد حصہ رہتا ہے اور 37 فی صد آبادی تین صوبوں میں بٹی ہوئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی فیصلوں کا اختیار پنجاب کی ایلیٹ کے ہاتھوں میں آگیا ہے۔ کسی بھی بڑے منصوبے میں بڑی کرپشن ایک عام بات ہے میرے سامنے ایک اخبار پڑا ہے جس کی پانچ کالمی سرخی کچھ اس طرح ہے۔
''یونی ورسٹی روڈ کے تعمیراتی ٹھیکوں میں بے قاعدگیوں پر جواب طلب'' کراچی میں یونی ورسٹی روڈ زیر تعمیر ہے اس سڑک کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کے الزامات لگ رہے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان بے قاعدگیوں پر سیکریٹری بلدیات، آئی جی ٹریفک اورکمشنرکراچی سے جواب طلب کرلیا ہے۔ یونی ورسٹی روڈ چندکلومیٹر پر مشتمل ہوگی، سیکڑوں میل پر مشتمل سی پیک کی طویل سڑکوں کی تعمیر پر کیا کچھ ہوسکتا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں اور جب تک سرمایہ دارانہ نظام رہے گا یہی کچھ ہوتا رہے گا۔