فرانس کی پارلیمنٹ کے 154ارکان کا مطالبہ

امریکی حکمران زبانی کلامی فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولا پیش کرتے ہیں


Zaheer Akhter Bedari March 11, 2017
[email protected]

ایک عام آدمی کو بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ یہ ضرور سوچتا ہے کہ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ ان اسباب کو ختم کیا جائے جو مسئلہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم عالمی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے مدبرین اور حکمران طبقات عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کے اسباب و محرکات کی طرف نہ نظر ڈالتے ہیں نہ انھیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ دہشتگردی ہے۔ دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے فوجی طاقت حکمرانوں کا واحد آپشن بنا ہوا ہے۔

کشمیر اور فلسطین دو ایسے مسئلے ہیں، جن کے حوالے سے نہ صرف دنیا کا امن خطرے میں پڑا ہوا ہے بلکہ کشمیر اور فلسطین نصف صدی سے زیادہ عرصے سے آگ اور خون میں جل رہے ہیں۔ دنیا کی واحد سپر طاقت ہونے کا دعویدار ملک امریکا کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ دنیا کے سر پر منڈلانے والے خطرات اور نہ ختم ہونے والے خون خرابے کو روکنے کے لیے ان دونوں مسئلوں کو بلا تاخیر حل کرنے کی کوشش کرتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امریکا اس پورے عرصے میں اسرائیل کی ناجائز سپورٹ کرتا نظر آ رہا ہے۔

اہل عقل اس حوالے سے یہ رائے دینے میں حق بجانب ہیں کہ امریکا اسرائیل کی غیرمنطقی حمایت اس لیے کرتا آ رہا ہے کہ اسرائیل کی حیثیت اس کی ناجائز اولاد جیسی ہے۔ اس حوالے سے عالمی تشویش میں اضافہ اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکا کے نئے صدر صدارتی انتخابات لڑنے سے پہلے ہی کھل کر اسرائیل کی ناجائز غیراصولی اور غیر منطقی حمایت کرتے آرہے ہیں اور امریکا کے قانون ساز اداروں میں اس حوالے سے ایک بے حسی کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے۔ امریکا کے اس رویے کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کا رویہ فلسطینیوں کے بارے میں اور سخت ہوتا جا رہا ہے، آئے دن فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی ترجیح بن گئی ہیں۔

امریکی حکمران زبانی کلامی فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولا پیش کرتے ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھاتے نظر نہیں آتے۔ اس دوغلی سیاست کی وجہ اسرائیل اور زیادہ آزادی کے ساتھ فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے جس کا ایک خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں مذہبی انتہا پسندی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ امریکا کے حکمران دنیا کو یہ تو بتا رہے ہیں کہ دہشتگردوں کے مختلف دھڑوں میں اتحاد کی وجہ سے امریکا اور مغربی ملکوں کے لیے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں لیکن دہشتگردی کے اس بڑے سبب کا سدباب کرنے کے حوالے سے یہ زعما خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔

سابق امریکی صدر بارک اوباما کا تعلق نچلے طبقے اور سیاہ فام قوم سے تھا اس پس منظر میں دنیا کے مدبرین یہ امید کر رہے تھے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت سے نکل کر اہم اور خطرناک عالمی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اوباما کی اس حوالے سے لاتعلقی سے یہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اور اسلحے کی صنعت کے مالک کسی ایسے مسئلے کو حل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے جس سے دنیا کی معیشت اور اپنے طبقاتی مفادات پر ان کی گرفت کمزور ہو۔

اسی طرح مسئلہ کشمیر کی سنگینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب وہاں ماضی کی طرح چند گھس بیٹھیے ہندوستان کے حکمرانوں کے لیے مشکلات پیدا نہیں کر رہے ہیں بلکہ کشمیری عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آ کر ہندوستانی پالیسیوں اور ہندوستانی فوج کے کشمیر پر قبضے کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں اور جلسوں جلوسوں میں پاکستانی پرچم لہرانا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانا اب وہاں روزمرہ کا معمول بن گیا ہے۔ اس تبدیل ہوتی ہوئی خطرناک صورتحال پر ترقی یافتہ مغربی ملکوں کو نوٹس لینا چاہیے۔

اس تشویش ناک پس منظر میں فرانس کی پارلیمنٹ کے 154 ارکان کا یہ مطالبہ کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاندے فلسطین کو تسلیم کر لیں اور فلسطینی عوام کو فلسطینی ریاست قائم کرنے میں اخلاقی اور سیاسی مدد کریں۔ فرانس کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 154 ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹرز نے اپنے صدر فرانسوا اولاندے سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان ارکان نے صدر سے کہا ہے کہ فرانس کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو مزید پیچیدہ ہونے سے بچانے کے لیے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی کھل کر حمایت کرے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی متنازعہ ملک کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو اپنے حق رائے دہی سے حل کریں۔ بعینہ یہی صورتحال کشمیر کی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 7 لاکھ سے زیادہ فوج کشمیریوں پر مسلط ہے اور کشمیریوں پر مسلسل ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔

فرانس امریکا کا ایک قریبی اتحادی ہے لیکن حالات کے تقاضے اسے مجبور کر رہے ہیں کہ دنیا کے سر پر منڈلاتے جنگ کے خطرات کے خلاف اور انسانوں کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کی حمایت میں آواز اٹھائے۔ فرانسیسی پارلیمنٹ کے 154 ارکان کی طرف سے فرانسیسی صدر سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ منصفانہ بھی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق بھی ہے۔ امریکی صدر کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف مغربی ملک واضح طور پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ 7 مسلم ملکوں پر پابندی اور امریکا میں مقیم تارکین وطن کے حوالے سے ٹرمپ کی احمقانہ پالیسیوں کے خلاف اس کے روایتی اتحادیوں کی مخالفت حق و انصاف کے عین مطابق ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرانس کے ارکان پارلیمنٹ کی طرح دیگر مغربی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ بھی اپنی حکومتوں سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں۔

مقبول خبریں