افغان مہاجرین ایک مسئلہ
کراچی میں نئی سبزی منڈی کے تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف آپریشن کرے
بلوچستان کے سیاسی اور سماجی رہنما الزام لگا رہے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں افغان مہاجرین ملوث ہیں۔ میر انور بادینی نے مردم شماری میں پیدا ہونے والی مشکلات کے حوالے سے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں آج بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں، جن میں ایک بھاری تعداد بلوچستان میں آباد ہے۔
انور بادینی کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے بلوچستان کے عوام ایک بڑے دباؤ کا شکار ہیں۔ مردم شماری کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو بھی ریاست اپنی ترقی کے مطابق مردم شماری کر کے بلوچستان کے اصل باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کر دے گی۔ اگر مردم شماری قبول کر لیتے ہیں تو افغان مہاجرین کی وجہ سے ہم سیاسی موت مر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 25 سال سے سیاست کے جس ظلم و جبر سے ہم گزر رہے ہیں اس کا اندازہ حکمرانوں کو ہونا چاہیے۔ ہم قوم پرست نہیں محب وطن لوگ ہیں، ہمیں ہمارے حقوق سے محروم کرنا زیادتی ہے۔ بادینی کا کہنا ہے کہ جب سے مردم شماری کی باتیں شروع ہوئی ہیں افغان مہاجرین نے اپنی داڑھیوں اور پگڑیوں سے کنارہ کشی شروع کر دی ہے تاکہ وہ پہچانے نہ جا سکیں۔
کراچی میں نئی سبزی منڈی کے تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف آپریشن کرے۔ تاجروں نے منڈی کے اندر اور منڈی کے اردگرد افغان باشندوں کی موجودگی اور غیر قانونی مدارس کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ سبزی منڈی کی سیکیورٹی سخت کر کے تاجروں کو تحفظ فراہم کریں۔
کراچی ایک میگا سٹی ہے جہاں ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں کے لاکھوں لوگ آباد ہیں جن میں جرائم پیشہ لوگ بھی شامل ہیں۔ بلوچ رہنما انور بادینی کے ان خدشات کا ازالہ کس طرح ہو کہ اگر مردم شماری ہوتی ہے تو مقامی لوگ اقلیت میں آ جائیںگے۔ کیا یہ صورت حال سندھ میں نہیں ہے؟
جن ملکوں کا حکمران طبقہ سیاسی مفادات کی خاطر بغیر سوچے سمجھے غلط فیصلے کرتا ہے اس کا نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ویسے تو عرصہ دراز ہی سے دوسرے ملکوں سے تارکین وطن پاکستان آ رہے ہیں لیکن افغانستان پر امریکی حملے اور افغانستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وبا کے بعد جس تیزی سے افغان مہاجرین پاکستان آئے اس کی وجہ سے پاکستان سنگین معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کا شکار ہوتا چلا گیا۔
بعض مخصوص حالات میں اگر لوگ ترک وطن کر کے دوسرے ملکوں میں پناہ لیتے ہیں تو یہ پناہ عارضی ہوتی ہے اور عارضی پناہ گزینوں کو کیمپوں یا مخصوص علاقوں میں ٹھہرایا جاتا ہے تا کہ وہ مقامی آبادی کے لیے مسائل پیدا نہ کر سکیں اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں انھیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
حکومتیں انھیں رجسٹر کر کے ان کا ریکارڈ رکھتی ہیں تا کہ وہ جس ملک میں پناہ گزین ہوں اس کی حکومت کے لیے مسائل پیدا نہ کر سکیں۔ انھیں شہریت نہیں دی جاتی اور شہریت کی دستاویزات کے حصول پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ انھیں پناہ دینے والے ملک میں کاروبار کرنے اور جائیدادیں خریدنے سے روکا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ افغان مہاجرین کی بھاری اکثریت ملک کے بڑے اور ترقی یافتہ صنعتی شہروں میں آباد ہو گئی ہے اور نہ صرف شہری دستاویزات مثلاً شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے بلکہ بھاری مالیت کی جائیدادیں بھی خرید چکی ہے اور ہر شہر میں کاروبار پر بھی قابض ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ پناہ گزینوں میں جرائم پیشہ لوگ بھی شامل ہو کر پاکستان آ گئے ہیں اور دھڑلے سے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
کراچی جیسے شہر میں ہونے والے جرائم میں ان مہاجرین کا شامل ہونا جہاں مہاجریت کے نام کی بے حرمتی ہے بلکہ ہماری انتظامیہ کے لیے بھی ایک بہت بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ خاص طور پر اسٹریٹ کرائم میں پناہ گزینوں کی شرکت عام بن گئی ہے۔
پاکستان ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے جہاں کے باشندے روٹی روزگار کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایسے غریب اور مسائل زدہ ملک میں لاکھوں پناہ گزینوں کی آمد اور قانونی دستاویزات کی حصول کے بعد دھڑلے سے کاروبار کرنا اور کروڑوں اربوں کی جائیدادیں خرید کر شہریت کے حقوق حاصل کرنا ہمارے حکمران طبقات کے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ باشندے افغانستان کے ہوں، بنگلا دیش کے ہوں یا کسی اور ملک کے اگر وہ کسی بھی حوالے سے کسی ملک میں لاکھوں کی تعداد میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں تو فطری طور پر بے شمار مسائل کو جنم دیتے ہیں، خاص طور پر پسماندہ ملکوں میں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو تو مقامی آبادی بہت سارے سنگین مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔
امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں امریکی صدر تارکین وطن کے خلاف سخت آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تارکین وطن میں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ افراد شامل ہیں جنھیں ملک سے نکالنا ضروری ہے۔ امریکا کا شمار دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتوں میں ہوتا ہے۔
تارکین وطن میں اگر جرائم پیشہ شامل ہو گئے ہیں تو انھیں نکالنے کا ایک جواز پیدا ہو جاتا ہے لیکن پرامن اور امریکی شہریت کا حصہ بن جانے والے تارکین وطن کو بلا امتیاز نکال باہر کرنا کسی بھی طرح درست نہیں، البتہ پاکستان جیسے انتہائی پسماندہ ملک میں جہاں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اور اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر خوار ہو رہے ہیں، ایسے ملک میں اگر لاکھوں پناہ گزین کاروبار پر قابض ہو جائیں اور مقامی لوگ بے روزگاری کا شکار ہوں تو بلاشبہ سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات کے تحفظ میں اس بری طرح مصروف ہے کہ قومی اہمیت کے سنگین مسائل کی طرف نہ اس کی توجہ مبذول ہوتی ہے نہ وہ کوئی کام منصوبہ بندی سے کر سکتا ہے۔