اپنی قیادت اپنی بستیوں سے
ملک میں تھوک کے حساب سے بلکہ حشرات الارض کی طرح سیاسی مذہبی جماعتیں موجود ہیں
یہ 69 سال کے عذاب نہیں بلکہ سیکڑوں سالوں کے وہ عذاب ہیں، جو بھوک افلاس محکومی بے کاری اور ذلت کی شکل میں عوام سے چمٹے ہوئے ہیں۔ یہ عذاب پہلے شخصی اورخاندانی حکمرانیوں کی شکل میں عوام کے سروں پر مسلط تھے ۔اس کے بعد انگریزوں کے دو سوسال اس عذاب کا تسلسل تھے۔اس کے بعد 69 سالوں سے کالے انگریزماضی کے انھی عذابوں کا تسلسل بنے ہوئے ہیں ۔ان 69 سالوں میں کئی حکومتیں آئیں اورچلی گئیں کئی سیاسی جماعتیں بنیں اور ٹوٹیں لیکن وہ مٹھی بھرخاندان جو 1947 سے سیاست اور اقتدار پر قابض ہیں وہی چہرے اورپارٹیاں بدل بدل کر عوام کو بے وقوف بنارہی ہیں۔ ہر مداری، ہر بہروپیے، نئے نئے نعروں، نئے نئے پروگراموں کے ساتھ آتا ہے اورغریب انسانوں کی محنت کی اربوں کی کمائی لوٹ کرچلاجاتا ہے۔ یہ اسٹیٹس کو کا سلسلہ جب تک نہیں ٹوٹے گا عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ملک میں تھوک کے حساب سے بلکہ حشرات الارض کی طرح سیاسی مذہبی جماعتیں موجود ہیں اور عوام کے حالات بدلنے کے دعوے بھی کرتی ہیں لیکن حالات جوں کے توں ہیں اور اس وقت تک جوں کے توں رہیں گے جب تک 69 سالہ اسٹیٹس کو نہیں ٹوٹے گا۔ ہمارے ایک سابق صدر نے بجا طور پر کہا ہے کہ ایک نہیں ایک ہزارانتخابات کرالیں عوام کے شب وروز میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور باری باری کا شرمناک کھیل جاری رہے گا۔
کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے تسلسل سے تبدیلیاں آئیں گی لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ عوام کی زندگیوں میں توکوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن جمہوریت کے تسلسل کا فلسفہ پیش کرنے والوں کی زندگی میں بہرحال تبدیلی آرہی ہے۔ ہوسکتا ہے جہاں ''جمہوریت'' ہے وہاں اس کے تسلسل سے عوام کی زندگیوں میں کچھ تبدیلی آجائے لیکن جہاں جمہوریت لانے کی جدوجہد ہورہی ہے وہاں تبدیلیوں کی خواہش بچوں کے چندا ماموں کو لانے سے مختلف نہیں ہے۔
تبدیلی یا انقلاب کے حوالے سے روس اور چین کا حوالہ دیا جاتا ہے لیکن دنیا اس تیزی سے بدل رہی ہے کہ اب روایتی انقلاب کا تصور دھندلاتا جا رہا ہے لیکن عوام جن مسائل سے دوچار ہیں وہ عوام کو 1917 اور 1949 کی طرف نہ لے جائیں بلکہ 1789 کی طرف لے جاسکتے ہیں یہ امکانات کی باتیں ہیں ۔کھردری حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال 2018 میں ایک بار پھرالیکشن ہونے جارہے ہیں اور روایتی پارٹیاں 2018 کے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے ملک میں جو سیاسی سیٹ اپ 69 سال سے موجود ہے اس کی روشنی میں اگرکوئی غیر معمولی بات نہ ہوئی تو وہی سیاسی جماعتیں میدان مار لیں گی جو باری باری کلچرکی کھلاڑی ہیں۔
جمہوری ملکوں میں برسراقتدار جماعت یا جماعتوں کو یہ سہولت حاصل ہوتی ہے کہ وہ دل کھول کر ترقیاتی کاموں کا اعلان کرسکتی ہیں اورخدا نے توفیق دی تو ان ترقیاتی پروگراموں پر عملدرآمد بھی ہوسکتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قسم کے تمام ترقیاتی پروگراموں پر عملدرآمد عوام کی دولت ہی سے ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال وزیر اعظم کا ملکی اعلان ہے۔ اس اعلان کے مطابق ٹھٹھہ میں 500 بستروں کا اسپتال اورعوام کو صحت کارڈ دیے جائیں گے۔ سڑکوں کی تعمیرکی جائے گی، ٹھٹھہ، سجاول میں 120 کروڑ روپوں سے گیس فراہم کی جائے گی اور سمندری کٹاؤ روکنے کے لیے بند تعمیرکیے جائیں گے۔
ظاہر ہے اگر ان پروگراموں پر عملدرآمد ہو تو حکومت کو لازماً عوام کی حمایت حاصل ہوگی یہ سارا سرمایہ عوام کا ہی ہوگا۔ سرمایہ کاری کے اعلان کا کریڈٹ اعلان کرنے والے حکمرانوں کو جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رائج الوقت جمہوریت میں کیا اس قسم کی سہولت اپوزیشن کو حاصل ہوتی ہے خواہ وہ عوام سے کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہو۔ حکومت خواہ کسی سیاسی جماعت کی ہو اسے یہ سہولت بھی حاصل ہوتی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ریاستی مشینری کو استعمال کرتی ہے خواہ آئین اورقانون اس کی اجازت نہ دیتا ہو۔
بعض سیاسی رہنما یہ ضرور فرما رہے ہیں کہ عوام کی زندگی میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک 69 سالہ ''اسٹیٹس کو ''کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔ لیکن اسٹیٹس کو کس طرح تبدیل ہوگا اور اسے کون تبدیل کرے گا؟ جو سیاسی جماعتیں باری باری کے کھیل میں مصروف ہیں وہ کبھی کسی قیمت پر 'اسٹیٹس کو' کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتیں۔ یہ کام وہی مرد دانا (سیاستدان) کرسکتا ہے جو باری لینے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اقتدارکو جزوی حیثیت دینے کے لیے تیار ہو اور بدقسمتی سے ایسا کوئی سیاستدان نظر نہیں آتا جو اقتدارکو جزوی یا ضمنی حیثیت دینے کے لیے تیار ہو۔
ایسی صورتحال میں ایک ہی راستہ رہ جاتاہے کہ ہر علاقے ہر بستی کے عوام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی ہی بستیوں کے اہل مخلص اورایماندار لوگوں کو نامزد کریں یہ کام اس لیے مشکل نہیں کہ ہر علاقے ہر بستی کے عوام اپنے علاقوں اپنی بستیوں کے اہل مخلص اور ایماندار لوگوں سے ذاتی طور پر واقف ہوتے ہیں۔
یہ کام بہ ظاہر تو بہت آسان نظر آتا ہے لیکن اتنا آسان نہیں کیونکہ عوام کے اندر آپس کے تضادات ہوتے ہیں جو کسی فرد کو متفقہ طور پر اپنا نمایندہ نامزد کرنے کی راہ میں حائل ہوسکتے ہیں۔ پھر ذات، برادری کا مسئلہ درپیش رہتا ہے، اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسٹیٹس کوکی حامی اشرافیہ عوام کو اپنی بستیوں سے اپنے طبقے کے اہل لوگوں کو اپنا نمایندہ نامزد کرنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرے گی جس کے لیے دولت استعمال کی جائے گی، اگر یہ کام منظم اور منصوبہ بند طریقے سے اہل علم اہل دانش کی مدد سے کیا جائے تو اس میں کامیابی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہمارا میڈیا جو اسٹیٹس کو کا مخالف نظر آتا ہے، اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اگر میڈیا اسٹیٹس کوکی تباہ کاریوں اور بستیوں سے اپنے طبقے کے اہل لوگوں کو اپنا نمایندہ نامزد کرنے کے فوائد اورمضمرات سے آگاہ کرے تو اپنی قیادت اپنی بستیوں کی مہم کامیاب ہوسکتی ہے۔