صرف سائنس گریجویٹس کو اسکول ٹیچر بھرتی کرنے کا فیصلہ

ایک لاکھ 56ہزار216 اساتذہ میں سے93 فیصد آرٹس گروپ کے ہیں،17 ہزار اسکول ’’سنگل کلاس روم‘‘ پر مشتمل ہیں، فیصل اوخیلی


Safdar Rizvi March 31, 2017
ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے نام سے متعارف کرائے جانے والے نئے ٹیچنگ کیڈرمیں صرف خواتین کو بحیثیت استاد بھرتی کیا جائے گا۔ فوٹو؛ فائل

لاہور: سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 56 ہزار 216 ہے جس میں 93 فیصد اساتذہ آرٹس گروپ اور محض 7 فیصد سائنس سے گریجویٹ ہیں، صوبائی محکمہ اسکولز ایجوکیشن نے کچھ عرصے بعد شروع ہونے والے اسکول اساتذہ کی بھرتیوں میں آرٹس گروپ سے گریجویٹ کرنے والے افراد کو بھرتی نہ کرتے ہوئے صرف سائنس گریجویٹ کواسکول ٹیچرزکے طورپر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آرٹس گروپ سے گریجویٹ افراد کو بطور ٹیچر بھرتی کرنے پر پابندی عائد کردی گئی، ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے نام سے متعارف کرائے جانے والے نئے ٹیچنگ کیڈرمیں صرف خواتین کو بحیثیت استاد بھرتی کیا جائے گا. اس بات کا انکشاف صوبائی محکمہ اسکولز ایجوکیشن کے ماتحت ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ کے سربراہ فیصل اوخیلی نے آئی بی اے مرکزی کیمپس میں ''سماجی ذمے داری'' کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس اور بعدازاں ''ایکسپریس'' سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا.

کانفرنس کا اہتمام آئی بی اے کے سوشل سائنس کلب اورصوبائی محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اشتراک اور ایکسپریس میڈیا گروپ کے تعاون سے کیا گیا تھا جس میں انھوں نے سندھ ایجوکیشن سیکٹر پلان( ایس ای ایس پی) پر بریفنگ دی۔ ریفارم سپورٹ یونٹ کے سربراہ نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیاکہ سابق سیکریٹری اسکولز ایجوکیشن فضل اللہ پیچوہوکی جانب سے محکمہ میں بائیو میٹرک نظام کے متعارف کرائے جانے کے بعد اپنے خلاف کارروائی کے ڈرسے ہرماہ 100سے 150 کے قریب اساتذہ ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں، 2ہزار اساتذہ ہرسال خودہی ریٹائرمنٹ کی عمرتک پہنچ رہے ہیں جس سے اساتذہ کی اسامیاں مستقل خالی ہورہی ہیں۔ 2008کے بعد سے سندھ میں میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں جس کے سبب یہ کہا جاسکتا ہے کہ سندھ میں کم ازکم 25ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے گئے ہیں تاہم باقی ''پرچی''پربھرتی ہوئے جوریٹائرمنٹ کے لیے عمرکی مقررہ حد 60برس تک تدریس سے منسلک رہیں گے۔

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی مجموعی انرولمنٹ 4145219 ہے جس میں 2519180طلبہ اور1626039طالبات ہیں جبکہ سندھ میں 45ہزار447سرکاری اسکول موجودہیں جن میں 41131پرائمری ،1783 مڈل، 546 ایلیمنٹری، 1696سیکنڈری اور291ہائرسیکنڈری اسکول ہیں۔

ادھرسندھ میں اساتذہ کی مجموعی تعداد 156216میں سے ایک لاکھ 6ہزار119مرد اساتذہ اور50ہزار97 خواتین اساتذہ ہیں۔ فیصل اوخیلی نے اس بات کابھی انکشاف کیاکہ سندھ کے45ہزارسرکاری اسکولوں میں سے 20ہزاراسکول پانی، بجلی، چاردیواری اور دیگر بنیادی سہولتیں سے محروم ہیں جبکہ 17ہزاراسکول ''سنگل کلاس روم'' پر مشتمل ہیں۔

دریں اثنا اس موقع پر انڈس ریسورس سینٹرکی سربراہ صادقہ صلاح الدین کے علاوہ دیگرنے بھی خطاب کیا، صادقہ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ سندھ نے سب سے پہلے آرٹیکل 25-A کے تحت لازمی اورمفت تعلیم کابل توپاس کردیا تاہم آج تک اس پر اطلاق کے لیے فریم ورک موجود نہیں۔

مقبول خبریں