امریکا کی دھمکیاں

مسلم پڑوسی ملکوں افغانستان اور ایران کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش بھی پاکستان دشمنی میں پیش پیش رہتا ہے


Zaheer Akhter Bedari May 19, 2017
[email protected]

HYDERABAD: امریکا کے او ایف اے سی کے ڈائریکٹر جان ای اسمتھ نے کہا ہے کہ امریکا دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر اور ملحقہ علاقوں میں نشانہ بنائے گا جن میں فلاحی اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف گروہ بھی شامل ہیں جو دہشت گرد سرگرمیوں میں گروہوں کو سہولت کاری کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سہولت کار موقع ملتے ہی خود بھی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ یہ گروہ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتے ہیں لیکن خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو منتشر کرنے اور ان کے مالی نظام میں خلل ڈالنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں امریکا کی 12 سے زیادہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے کانگریس میں جمع کردہ رپورٹ کے بعد عاید کی گئی ہیں۔

اس حوالے سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ افغانستان اور ہمارے قریبی دوست ایران نے بھی اسی قسم کی دھمکیاں دی ہیں۔ ایران نے الزام لگایا تھا کہ پاک ایران سرحد پر متعین ایرانی سرحدی محافظوں پر حملہ کیا گیا۔ اس الزام کی چھان بین کے لیے) پاکستان اور متعلقہ ایرانی حکام نے جائے وقوعہ کا معائنہ بھی کیا۔ افغانستان اور ایران نہ صرف ہمارے پڑوسی ملک ہیں بلکہ تینوں ملک اسلام کے مقدس رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

امریکا کی دوستی دشمنی تو اس کے بدلتے ہوئے مفادات کے تابع ہوتی ہے لیکن ایران وہ ملک ہے جو پاکستان کی نازک وقتوں میں مدد کرتا رہا۔ افغانستان کے حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ افغانستان روز اول سے پاکستان کا مخالف رہا ہے اور اس سے زیادہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ افغان حکمران بلا جواز پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور بھارت کی شہ پر پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ بد قسمتی سے بھارت کشمیر کے مسئلے پر پاکستان سے ہمیشہ غیر عاقلانہ سیاست کرتا رہا اور کشمیر میں پاکستانی مداخلت کے الزام میں بلوچستان میں حالات خراب کرتا رہا۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تو پاکستان کے سابق صدر ضیا الحق نے مجاہدین (طالبان) کو اس لڑائی میں شامل کر کے افغانستان سے روسی فوجوں کو نکالنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

یہ بڑی عجیب اور تشویش ناک صورت حال ہے کہ مسلم پڑوسی ملکوں افغانستان اور ایران کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش بھی پاکستان دشمنی میں پیش پیش رہتا ہے اس کے علاوہ بعض عرب ملکوں کے تعلقات بھارت کے ساتھ پاکستان سے زیادہ بہتر ہیں۔ یہ ایسی صورت حال ہے جس کا نوٹس لینا ضروری ہے بلکہ اس صورت حال کو ایک اہم قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ اس مسئلے پر مشاورت کر کے ان امور کا جائزہ لینا چاہیے جو پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

امریکا آج پاکستان کو یہ دھمکی دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ کیا امریکی قیادت کو اس بات کا احساس ہے کہ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے ضیا الحق اگر مجاہدین نہ بھجواتے تو روس کو افغانستان سے اتنی آسانی کے ساتھ نکالا جا سکتا تھا۔ یہ پاکستانی حکمرانوں کی مدد یا حماقت تھی کہ انھوں نے امریکا کی لڑائی اپنے سر لے لی۔ آج امریکی زُعماء و چیف دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں یہی وہ دہشت گرد ہیں جنھوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے میں امریکا کی مدد کی اور یہی وہ دہشت گرد ہیں جن کی دہشت گردی کے 60 ہزار پاکستانی شکار ہو چکے ہیں۔ کیا امریکی قیادت ان دہشت گردوں کے کردار سے واقف نہیں؟

اس پورے مخاصمے میں بنیادی کردار بھارت کا ہے اور بھارت کی پاکستان دشمنی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت کو یہ شکایت رہی ہے کہ پاکستان اپنے مجاہدین کشمیر بھیج کر بھارت کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، لیکن بھارتی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ جن بنیادوں پر ہندوستان تقسیم ہوا کشمیر کی لڑائی میں ان بنیادوں کا بڑا دخل ہے اگر کشمیری عوام صرف پاکستان کی مدد سے کشمیر کی جنگ لڑ رہے ہوتے تو پھر بھارت کو کشمیر میں اپنی 6،7 لاکھ فوج رکھنے کی ضرورت نہ ہوتی اور وہ صورت حال پیدا نہ ہوتی جس کا آج بھارت کو سامنا ہے۔ بھارتی حکمران ہمیشہ یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ کشمیری عوام ان کے ساتھ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج سارا کشمیر بھارت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے اور آئے دن کشمیری اپنا خون دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ لڑائی پاکستان کی نہیں بلکہ ان کی آزادی کی لڑائی ہے۔

بھارت کو اگر پاکستان سے یہ شکایت ہے کہ وہ کشمیر کی لڑائی میں ملوث ہے تو پھر پاکستان کی اس شکایت کو بھارت کس طرح رد کرسکتا ہے کہ بھارت بلوچستان میں ''را'' کے ذریعے افرا تفری اور دہشت گردی کروا رہا ہے اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے زُعماء اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ آج کی دنیا میں ریاستی سطحوں پر تعلقات میں اقتصادی اور سیاسی مفادات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں نہ کہ مذہبی رشتے۔ پڑوسی مسلم ملکوں کی ناراضگی کا مثبت حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سامنے رکھنا ہوگا کہ چین اور ترکی پاکستان کے مخلص ترین دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ان دونوں ملکوں کے بھارت سے بھی قریبی تعلقات کیوں ہیں؟ کیا یہ سارے مسائل اس لیے تو نہیں پیدا ہورہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی تضادات کی زد میں ہے۔

مقبول خبریں