کسانوں کا اصل مطالبہ زرعی اصلاحات

اس سانحے کے خلاف حزب اختلاف کے وہ رہنما جو زرعی معیشت میں کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں


Zaheer Akhter Bedari June 02, 2017
[email protected]

27 مئی کو شام 5 بجے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش ہونا تھا، مظلوم طبقات اپنے حقوق کے لیے اہم جگہوں پر احتجاج کرتے ہیں تا کہ ان کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔ پاکستان خصوصاً پنجاب کا کسان ایک عرصے سے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کر رہا ہے، کسان اتحاد کی قیادت نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک میں مظاہرے کا اہتمام کیا۔

یہ مظاہرہ پرامن تھا لیکن پنجاب کی بدنام زمانہ پولیس نے ان پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا اور واٹرکینن کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کے اس اقدام سے مظاہرین کا مشتعل ہونا فطری تھا، چنانچہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس ہنگامے میں کئی کسان زخمی ہوئے اور دو سو کے لگ بھگ کسانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کسان اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں پر آئے ہوں، اس سے قبل بھی کئی بار کسان اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب کے مختلف شہروں میں مظاہرے کر چکے ہیں۔ پاکستان کو اہل سیاست ایک جمہوری ملک کہتے ہیں اور جمہوریت میں مظلوم عوام کے پاس اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کا ایک ذریعہ احتجاج ہی ہوتا ہے۔ احتجاج اگر پرامن ہو تو ریاستی مشینری کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہوتا لیکن ہماری پولیس کو یہ تربیت دی گئی ہے کہ عوام کے ہر احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچل دیا جائے۔ یہ ہدایت قیام پاکستان کے ساتھ ہی چلی آ رہی ہے۔ 1953ء سے آج تک کسانوں مزدوروں غریب عوام کے احتجاج کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا جاتا رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے کہ انتظامی مشینری جس میں پولیس، رینجرز وغیرہ شامل ہوتے ہیں ان کا تعلق بھی غریب طبقات ہی سے ہوتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں غریب طبقات پر مشتمل ریاستی مشینری کو جو عوام کے ادا کیے گئے ٹیکس سے تنخواہ لیتی ہے غریب طبقات کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے ڈی چوک میں بھی یہی ہوا اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے کسانوں کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا۔ بجٹ پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل یہ سانحہ قومی اسمبلی کے قریب پیش آیا جس سے ساری دنیا میں حکومت کی بدنامی ہوئی اگر حکومت ہوش مند ہوتی تو پہلے ہی کسان قیادت سے بات کرکے ان کو احتجاج سے روک سکتی تھی لیکن ہمارے جمہوری حکمرانوں کی یہ نفسیات بن گئی ہے کہ عوام کے ہر احتجاج کو ریاستی طاقت سے کچل دیا جائے۔ یہ نفسیات جمہوریت کی روح کے منافی ہے لیکن اشرافیائی جمہوریت میں عوام کے خلاف طاقت کا استعمال حکمران طبقات کی ہابی بن گئی ہے جس کا مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ ریاست ایک طاقتور ادارہ ہے جس سے عوام کو ٹکرانے کی جرأت نہیں کرنا چاہیے۔

اس سانحے کے خلاف حزب اختلاف کے وہ رہنما جو زرعی معیشت میں کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں فوری مذمتی بیانات کے ساتھ میڈیا میں آگئے۔ ان مذمت کاروں میں ایسے کئی رہنما بھی شامل ہیں جو لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔ کسانوں پر تشدد کا ان رہنماؤں کو اس قدر صدمہ ہوا کہ انھوں نے بجٹ روایات کو توڑتے ہوئے وزیر خزانہ کی تقریر سے پہلے تقریر کی اور احتجاجی کسانوں پر کیے جانے والے تشدد پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ حزب اختلاف کے قائد خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کسانوں پر حکومت کے ظلم کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ یہ سلسلہ 70 سال سے جاری ہے اور جب تک اشرافیائی جمہوریت موجود ہے یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔

کسان وقفے وقفے سے اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں لیکن کسان رہنماؤں کی طرف سے جو مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں وہ مراعاتی ہیں اگر یہ مطالبات جن میں کھاد کی قیمتوں میں کمی کسانوں کو ٹیکس کی چھوٹ زرعی قرضوں کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔ اگر یہ مطالبات مان بھی لیے جائیں تو کسان غلامی سے نجات نہیں پا سکتا اور کسان اس وقت تک غلام رہے گا جب تک ملک میں جاگیردارانہ نظام باقی ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ کسانوں کی ''تازہ دم اور نئی قیادت'' اس حقیقت سے واقف نہیں کہ جب تک ایک سخت زرعی اصلاحات کے ذریعے وڈیروں جاگیرداروں سے لاکھوں ایکڑ زمین واگزار نہیں کرائی جاتی نہ کسانوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں نہ ہماری سیاست سے وڈیرہ شاہی کی بالادستی ختم کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں جب تک بایاں بازو فعال تھا زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ سندھ میں ہاری رہنما حیدر بخش جتوئی ساری زندگی جاگیرداری نظام کے خلاف لڑتے رہے۔ پنجاب میں فتح محمد اور سی آر اسلم اور پختونخوا میں میجر اسحٰق جاگیردارانہ نظام کے خلاف مسلسل جنگ کرتے رہے۔ حیرت ہے کہ آج کے ترقی پسند رجعت پسند اور لبرل رہنما اور باتیں تو کرتے ہیں لیکن زرعی اصلاحات کے ذریعے ملک سے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی بات کرنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوتی۔ جب تک ملک کی سیاست سے وڈیرہ شاہی تسلط ختم نہیں کیا جاتا، کسانوں کا استحصال جاری رہے گا اور ڈی چوک پر آنے والے کسانوں کا استقبال لاٹھی چارج، آنسو گیس، گولیوں، واٹر کینن سے ہوتا رہے گا اور کسان اپنے اصل مطالبات بھول کر گرفتار کسانوں کی رہائی کے مطالبے میں پھنسے رہیں گے۔

مقبول خبریں