46 نئے اسپتال
46 نئے اسپتالوں کی تعمیر کے فیز ون کے لیے 8ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے
ہر ملک میں خواہ وہ ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر تعلیم اورصحت کو اولیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ دو ایسے شعبے ہیں جو قوموں کی ترقی میں ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، لیکن پاکستان غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ان دو شعبوں کو ہمیشہ پسماندہ رکھا گیا ہے۔اس حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ان دو شعبوں کو ان حکومتوں نے بھی ہمیشہ نظر انداز کیا جنھیں عوام ''منتخب'' کرتے آرہے ہیں۔
70 سال کا عرصہ اگرچہ قوموں کی زندگی میں بہت بڑا عرصہ نہیں ماناجاتا لیکن جمہوری حکومتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے یہ عرصہ بہت بڑا عرصہ ماناجاتا ہے۔آج ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نظر ڈالیں ان دونوں شعبوں میں دھول اڑتی نظر آئیںگی اس کے برخلاف تعلیمی اداروں کا یہ حال ہے کہ سرکاری درس گاہیں جدید ہتھیاروں کے گودام بنے ہوئے ہیں اور متحارب طلبا تنظیمیں تعلیمی اداروں کو میدان جنگ بنا رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مسلح غنڈہ گردی کا آغاز بدقسمتی سے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ان ونگز نے کیا جو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی دعویدار ہیں یہ سلسلہ جس کا آغاز ایک جماعت کے اسٹوڈنٹ ونگز سے ہوا تھا اب اس قدر اہل عیالی والا ہوگیا ہے کہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تعلیمی ادارے میدان جنگ میں بدل گئے ہیں اور متحارب گروپوں میں سر پٹول کا سلسلہ جاری رہے۔
ہم حیران ہیں کہ اکیسویں صدی کے اس پہلے نصف میں جب کہ دنیا تحقیق اور انکشافات کے آسمان پر کھڑی ہے ہم چاند دیکھنے کے سلسلے میں گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں اور 32 لاکھ طلبا کو سائنسی جدید علوم سے نابلد رکھ کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ملک کی بڑی خدمت کررہے ہیں۔
یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ملک بھر میں سرکاری تعلیمی ادارے دیہی علاقوں میں وڈیروں کے مویشی خانے اور اوطاق بنے ہوئے ہیں۔ اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لے رہے ہیں اور طلبا وڈیروں کے مویشی چرارہے ہیں اور شہری علاقوں میں سرکاری اسکول بچوں کی وقت گزاری کے منسٹر بنے ہوئے ہیں اور ان دو شعبوں کو حکمران طبقے نے محض اپنی پبلسٹی کا محور بنایا ہوا ہے۔
تعلیم کے بعد صحت دوسرا بڑا قومی مسئلہ ہے ہماری ''ہر دلعزیز'' مرکزی حکومت نے2017،2018 کے بجٹ میں ملک میں 9ارب 31 کروڑ کے سرمائے سے 46 نئے اسپتال قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ بلاشبہ اس اعلان کو ایک مثبت پیش رفت کہا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 20 کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں جہاں ہر سال لاکھوں افراد علاج کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے موت کی گود میں چلے جاتے ہیں، کیا 46 نئے اسپتالوں کی تعمیر سے صحت کے مسائل حل ہوجائیںگے؟ دیہی علاقوں کو تو چھوڑیے کہ یہ 70 سال سے لاوارث ہیں کراچی جیسے دوکروڑ کی آبادی کے شہر کا حال یہ ہے کہ یہاں صرف تین بڑے سرکاری اسپتال ہیں جہاں مریضوں کو علاج کے نام پر صرف ذلت و خواری ملتی ہے، حالیہ بجٹ میں جن 46 نئے اسپتالوں کے قیام کی نوید سنائی گئی ہے ان میں کراچی میں ایک بھی نئے اسپتال کی تعمیر کا ذکر نہیں ہے۔
46 نئے اسپتالوں کی تعمیر کے فیز ون کے لیے 8ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ اس پروگرام کے تحت اسپتالوں کی ماسٹر پلاننگ، ڈیزائن، میڈیکل آلات کی پلاننگ اور تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے 9 ارب 31 کروڑ 77 لاکھ 52 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ہمارے ملک میں تعمیراتی کاموں میں کرپشن کی جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر عوام کے ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ 9 ارب 31 کروڑ کا استعمال کس طرح ہوگا۔ اعلان شدہ پروگرام کے مطابق پنجاب میں، اسلام آباد سمیت 15 اسپتال سندھ میں 5خیبر پختونخوا میں،5 بلوچستان میں، 7 گلگت بلتستان میں،3 آزاد کشمیر میں 5 اسپتال قائم کیے جائیںگے۔ کیا آبادی کی ضرورتوں کے مقابلے میں یہ اسپتال کافی ہیں؟ ہم نے کراچی کے حوالے سے اس المیے کی نشان دہی کی ہے کہ 2017-18 کے اس بجٹی اعلان میں کراچی میں کسی نئے اسپتال کی تعمیرکا کوئی ذکر نہیں، کراچی کے تین سرکاری اسپتالوں کا حال کیا ہے اس کی وضاحتیں میڈیا میں آتی رہتی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ نئے بجٹ میں رسمی طور پر بھی کراچی میں ایک دو اسپتالوں کی تعمیرکا ذکر نہیں۔
ہماری حکومتوں کے سارے کاموں میں پبلسٹی کا پہلو سر فہرست رہتا ہے۔ 2018 میں یعنی اگلے سال میں ملک میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ کیا عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوںگے کہ 46 اسپتالوں کی وید اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس قسم کی سوچ اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ اربوں کے خرچ سے ہمارا حکمران طبقہ عوام میں ہیلتھ کارڈ بانٹ رہا ہے جس کی افادیت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ ہیلتھ کارڈ سے عوام کو فائدہ ہوگا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیلتھ کارڈکے بجائے سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے تو عوام کو زیادہ طبی سہولتیں حاصل نہیں ہوسکتیں؟ اسی تناظر میں یہ خدشات ابھرتے ہیں کہ ان اسکیموں کا اصل مقصد پبلسٹی ہے۔