بارود

پاکستان 70 سال سے جن نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے


Zaheer Akhter Bedari June 17, 2017
[email protected]

پاکستان 70 سال سے جن نہ ختم ہونے والے سیاسی بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ صحیح سیاسی قیادت کا فقدان ہے۔ بدقسمتی سے تحریک پاکستان کے دوران نچلے طبقات سے اہل لوگوں کو آگے لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برخلاف زمینی اشرافیہ کو منظم طریقے سے آگے لایا گیا۔ جاگیردار طبقے کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ملک تقسیم ہونے جا رہا ہے اور اس تقسیم کی راہ ہموار کرنے میں بھی جاگیردار طبقے نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ اس طبقے کو یہ احساس تھا کہ اگر ملک تقسیم نہ ہوا تو متحدہ ہندوستان میں آزادی کے بعد سب سے پہلا کام زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیرداری نظام کو ختم کرنا ہو گا۔

اس خوف کی وجہ سے اس طبقے نے تحریک پاکستان کی اگلی صفوں میں اپنی جگہ بنائی اور جب 1947ء میں ملک تقسیم ہوا تو سیاست پر یہی طبقہ چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک سازشی طبقہ ہے اور اقتدار کی خاطر ہر سازش میں حصہ لے سکتا ہے چنانچہ اس طبقے نے نوکر شاہی سے مل کر اقتدار میں اکھاڑ پچھاڑ کا شرمناک سلسلہ شروع کیا۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد نوکر شاہی نے جو تماشے کیے ان میں سہروردی اور ناظم الدین کی حکومت سے بے دخلیاں، چوہدری محمد علی جیسے بیورو کریٹ کو وزیراعظم بنانا، خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ، محمد علی بوگرا کو باہر سے بلا کر ملک کا وزیر اعظم بنانا جیسے شعبدے شامل ہیں۔

اس دوران اسی طبقے نے مشرقی پاکستان کی سیاسی طاقت کو توڑنے کے لیے ون یونٹ کا ڈراما رچایا اس غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جب عوام ایوبی آمریت سے تنگ آ گئے تو یحییٰ خان کو آگے لایا گیا اور سیاست پر جمہوریت کا چولا ڈالنے کے لیے بھٹو صاحب کو آگے لایا گیا۔ بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت نے عوام کو متحرک تو کر دیا لیکن اس حوالے سے یہ حماقت یا سازش کی گئی کہ عوام کو شخصیت پرستی کے صحرا میں دھکیل دیا گیا۔

عوام پارٹی کے منشور کے بجائے ''جئے بھٹو'' کی آواز لگانے لگے۔بھٹو کا المیہ یہ رہا کہ اشرافیہ کی نفسیات کے مطابق انھوں نے اپنی ذات کو پارٹی کا محور بنا لیا۔ بھٹو صاحب اگر مزدوروں، کسانوں، غریب عوام سے مخلص ہوتے تو وہ ان لوگوں کو (مڈل کلاس کے) آگے لاتے اور مستقبل میں پارٹی کی قیادت کے لیے تیار کرتے لیکن خود بھٹو صاحب کا جاگیردارانہ بیک گراؤنڈ اور وڈیروں کی سازشوں کی وجہ سے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور پارٹی آہستہ آہستہ وڈیروں کے قبضے میں چلی گئی۔

اس سیاست کی وجہ سے بھٹو کی عوام میں مقبولیت کم ہونے لگی۔ 1970ء میں جب مشرقی پاکستان سے اکثریت میں کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی مرکز میں حکومت بنانے کی حقدار ہوئی تو بھٹو صاحب نے ایک اور غلطی کی اور اقتدار مجیب الرحمٰن کو دینے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلتے ہوئے ملک کو دو ٹکڑوں میں بانٹنے کا راستہ اختیار کیا۔اس دور میں چھ نکات کے حوالے سے مجیب الرحمٰن پر سخت الزامات لگائے جا رہے تھے۔

مغربی پاکستان کا فیوڈل مشرقی پاکستان کے ایک مڈل کلاس کے فرد کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا چونکہ بھٹو صاحب کا تعلق بھی فیوڈل کلاس ہی سے تھا لہٰذا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہو لیے۔ مجیب الرحمٰن پر چھ نکات کے حوالے سے الزام تھا کہ وہ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں میں نے مرحوم عابد زبیری کے مکان پر اس حوالے سے سوالات کیے تو مجیب الرحمٰن نے ایک جملے میں جواب دیا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو اس کے توڑنے والے ہم نہیں ہوں گے بلکہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ ہو گی جو مڈل کلاس کے اقتدار کو قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ پاکستان ٹوٹ گیا لیکن ایک مڈل کلاس کو اقتدار دینے کے لیے اشرافیہ تیار نہیں ہوئی۔

ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اشرافیہ ان کے ساتھ ہوگئی اور مزے کی بات یہ کہ بھٹو صاحب ایوب حکومت میں شامل ہی نہیں بلکہ وزیر خارجہ بن گئے۔ ضیا الحق ایک فوجی ڈکٹیٹر تھا لہٰذا اس سے یہ توقع کرنا بے کار تھا کہ وہ مڈل کلاس سے عوامی قیادت کو ابھارنے کی غلطی کریں گے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ضیا الحق کے بعد 1988ء سے یا تو پیپلز پارٹی برسر اقتدار رہی یا پھر مسلم لیگ اقتدار میں رہی۔ مشرف کے دس سالہ دور کے بعد سیاسی جماعتیں برسر اقتدار آئیں اگر یہ عوام سے مخلص ہوتیں تو یقینی طور پر نچلے طبقات سے قیادت ابھارنے کی کوشش کرتیں اور اس کام کے لیے مشرف کا بلدیاتی نظام بہت کارآمد ثابت ہوتا لیکن ان دونوں جماعتوں نے نچلے طبقات کو آگے لانے کے بجائے ملک میں اس خاندانی جمہوریت کو مستحکم کرنا شروع کیا جو 1947ء سے اقتداری مزے لوٹ رہی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت کا نام اکثریت کی حکومت ہے۔ اس ملک میں ساڑھے چار کروڑ مزدور ہیں کسانوں کی تعداد دیہی آبادی کا 60 فیصد ہے اس کے علاوہ مختلف غریب طبقات ہیں جو ہمارے ملک کی اکثریت ہیں۔ کیا ان بیس کروڑ انسانوں میں ایسے اہل مخلص اور ایماندار لوگ موجود نہیں جو ملک کی قیادت کر سکتے ہوں۔ قیادت عموماً سیاسی پارٹیوں سے ہی ابھاری جاتی ہے اور ہماری جمہوریت کا عالم یہ ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیوں میں خاندانی جمہوریت اس قدر مستحکم کر دی گئی ہے کہ ان جماعتوں میں نچلی سطح سے قیادت کا آنا خیال است و محال است و جنوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن عوام اس طبقاتی ناانصافی کو شدت سے اس لیے بھی محسوس کر رہے ہیں کہ اشرافیہ کی اربوں کی کرپشن کی داستانیں ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی ہیں اور یہ داستانیں عوام کے ذہنوں میں بارود بھر رہی ہیں۔ وقت تیزی کے ساتھ گز ر رہا ہے عوام کو اگر ان کے جمہوری حق حکمرانی سے محروم کر دیا گیا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ عوام کے ذہنوں میں جمع ہونے والا بارود ایک دھماکے سے پھٹ پڑے؟

مقبول خبریں