بندوق سے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا محبوبہ مفتی

دو روز میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد پانچ ہوگئی


ویب ڈیسک June 17, 2017
بھارتی فوج نے آپریشن کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے دو کم عمر نوجوان شہید ہوئے۔ فوٹو فائل

KARACHI: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید ایک کشمیری کو شہید کردیا جس کے باعث دو روز میں شہید شہریوں کی تعداد پانچ ہوگئی، جب کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی میں طاقت کی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے تسلیم کیا کہ بندوق کی نوک سے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بات چیت سے ہر مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے لیکن طاقت سے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مررہی ہے اور ہم بندوق اور فوج سے کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔

ادھر کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کلگام میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے ہاتھوں مزید ایک نوجوان شہید ہوگیا اور یوں دو روز میں شہاتوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران دو گھروں کو تباہ کردیا گیا جن کے ملبے سے آج ایک اور نوجوان کی لاش ملی ہے جب کہ دو نوجوانوں کی لاشیں کل ملی تھیں۔ ان شہدا کی شناخت جنید مٹو، ناصر وانی اور عادل مشتاق میر کے نام سے ہوئی۔ بھارتی فوج نے کہا ہے کہ تینوں نوجوانوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا جو جھڑپ میں شہید ہوئے ہیں اور جنید مٹو بھارتی فوج پر متعدد حملوں میں ملوث تھے۔

گزشتہ روز بھارتی فوج نے آپریشن کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں دو کم عمر نوجوان شہید ہوئے جن میں 22 سالہ محمد اشرف اور 14 سالہ احسن ڈار شامل ہیں۔

شوپیاں میں بھی بھارتی سیکیوریٹی افواج نے گھروں میں گھس کر نہتے کشمیریوں کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ قابض افواج کے اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور خواتین کی بھی بے حرمتی کی۔

مقبول خبریں