منظر نامہ 2018 تک دھندلا ہی رہے گا

جہاں تک ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی کا تعلق ہے تو اس میں سیز فائر ابھی ممکن نہیں۔


مزمل سہروردی September 30, 2017
[email protected]

BAHAWALPUR: ملک انتشار کا شکار ہے۔ دشمن تو دشمن ملک کے اندر جاری محاذآرائی بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ پتہ نہیں کون لوگ کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کسی ڈیل یا مفاہمت کے تحت واپس آئے ہیں۔ کیا ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا وہ اس کو مفاہمت کہتے ہیں۔ اب تو سوال یہ ہے کہ یہ لڑائی کہاں جاکر رکے گی۔ میرے نزدیک اس میں جیت ہار کا کوئی سوال نہیں ہے، دونوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ جتنی لڑائی بڑھے گی دونوں کا نقصان اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نقصان جس کا بھی ہوگا پاکستان کا ہی ہو گا۔ یہ لڑائی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

اس لڑائی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ حکومتوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ سیاسی محاذ آرائی نے سیاستدانوں کی حکومتی امور سے توجہ ختم کر دی ہے۔ کہیں کوئی کام ہی نہیں ہو رہا۔ ایسا لگ رہا ہے ہر کوئی اپنی جان بچانے کے چکر میں ہے۔ ریفرنسوں کا زمانہ ہے اس لیے سب اسی فکر میں ہیں کہ کہیں پھنس نہ جائیں۔ گفتگو یہی ہے کہ کون بچ رہا ہے اور کون نا اہل ہو جائے گا۔

میں حیران ہوں اس موسم میں بھی شہباز شریف کام کر رہا ہے۔ گزشتہ روز حکومت پنجاب نے جھنگ میں ایل این جی کا ایک اور پاور پلانٹ لگانے کے لیے معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ بھی ریکارڈ مدت میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ ایل این جی کا پنجاب میں لگنے والا چوتھا پلانٹ ہو گا۔ تین مکمل ہو رہے ہیں۔ لیکن چوتھا شروع کیا جا رہا ہے۔ میں حیران اس بات پر ہوں کہ یہ چوتھا پلانٹ تو انتخابات سے پہلے مکمل نہیں ہو گا۔ لیکن پھر بھی اس کو لگایا جا رہا ہے۔

ورنہ ہماری حکومتوں کے تمام منصوبے اسی سوچ کے گرد گھومتے ہیں کہ اس کا ان کو فائدہ ہو گا کہ نہیں۔ اسی لیے ہم قلیل مدتی منصوبوں پر توجہ دیتے ہیں۔ اور لمبی مدت کے منصوبوں میں ہماری سیاسی حکومتوں کی توجہ کم ہی ہوتی ہے۔ میں شہباز شریف کی جانب سے ایل این جی سے چوتھے پاور پلانٹ کوشروع کرنے پر اس لیے بھی حیران ہوں کہ انھیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ ان پر ان پاور پلانٹس کی وجہ سے ریفرنس بن جائے گا۔ ان کا اعتماد بھی قابل دید ہے۔ ورنہ باقی صوبوں میں تو اب بس سمیٹنے کی تیاری ہے۔جاری منصوبے مکمل ہی کر لیے جائیں تو بڑی بات ہے۔ اتنا بڑا منصوبہ شروع کرنے کی کوئی دوسری مثال سامنے نہیں ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف ملک میں جاری محاذ آرائی سے بے نیاز ہیں۔ وہ ابھی تک اس کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ اور انھوں نے کمال ذہانت سے خود کو اس سے دور رکھا ہوا ہے۔ پتہ نہیں شہباز شریف کو کس نے یہ سمجھایا ہے کہ اگلے انتخابات تک تمام سیاسی گرد بیٹھ جائے گی اور ووٹ صرف کام اور کام کی بنیاد پر ہی ملیں گے۔

میں پہلے بھی یہ بات لکھ چکا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس شہباز شریف کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔ اور شہباز شریف محاذ آرائی کے سخت خلاف ہیں۔ وہ قومی اداروں سے کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے خلاف ہیں۔ وہ کام کی سیاست پر ووٹ لینے کے حق میں ہیں۔ لیکن ابھی ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کام پر ووٹ مانگنے کے موڈ میں نہیں۔

جہان تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت چوہدری نثار کے سحر میں گرفتار ہو چکی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے خواجہ آصف کے گھر کی صفائی کے حوالہ سے بیان پر کیا تنقیدکر دی ہے کہ پوری مرکزی حکومت ہی اس بیان کو سچ ثابت کرنے کے چکر میں پھنس گئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی تنقید کو اس قدر سنجیدہ لینے کی کیا ضرورت ہے، بات سمجھ میں نہیں آئی۔ خواجہ آصف کے بعد احسن اقبال نے بھی وہی بات دہرائی۔ پھر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی وہی بات دہرائی۔ پھر خواجہ آصف نے ایک عالمی فورم پر یہ بات زیادہ شدت سے کہی۔ آخر میں پرویز رشید نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیا۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ مرکزی حکومت کے ان پے در پے بیانات سے مرکزی حکومت کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ سب نواز شریف کروا رہے ہیں تا کہ اسٹیبلشمنٹ کو وہ اپنی طاقت دکھا سکیں۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سب چوہدری نثار علی خان کی مخالفت میں شروع ہوا۔ اور ایک انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ کہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک حافظ سعید اور نئی جماعت ملی مسلم لیگ کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بھی مسلم لیگ کی حکومت کے خدشات بے جا نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے انتخابات میں ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار نے اتنے ووٹ لے لیے ہیں کہ وہ ن لیگ کے لیے سیاسی خطرہ بن کر ابھرے ہیں۔ اسی لیے مسلم لیگ کی مرکزی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ حافظ سعید کے سیاسی جن کو ابھی بوتل میں بند کر دیا جائے تاکہ وہ آیندہ انتخابات میں خطرہ نہ بن جائیں۔ اس لیے حافظ سعید پر سیاست کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں تا کہ مسلم لیگ (ن) کا دائیں بازو کا ووٹ بینک نہ تقسیم ہو جائے۔

مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ حافظ سعید کو سیاست میں حصہ لینے سے کیسے روکا جائے گا۔ فرض کر لیں اگر ان کی جماعت کو الیکشن کمیشن رجسٹرڈ نہیں بھی کرتا تب بھی ہر حلقہ میں ایسے آزاد لوگ کھڑے ہو جائیں گے جن کی حافظ سعید حمایت کر سکتے ہیں۔ جیسے 120 میں ہوا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن ہر اس امیدوار کو نا اہل قرار دے گا جس کے بینر پر حاٖفظ سعید کی تصویر ہو گی۔ یہ تو ممکن ہے کہ ملی مسلم لیگ کے نام پر پابندی لگا دی جائے لیکن حافظ سعید کو مائنس کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بہر حال حکومت نے جو بھی کرنا ہے پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ہی کرنا ہے۔ اسی لیے حافط سعید کونظر بند کیا ہوا ہے۔ لیکن آج تک حکومت ان کے خلاف کوئی کیس نہیں بنا سکی ہے۔ جب کسی کے خلاف کوئی کیس نہیںہے تو اس پر پابندیاں کیسی لگائی جائیں گی۔

جہاں تک ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی کا تعلق ہے تو اس میں سیز فائر ابھی ممکن نہیں۔ نواز شریف ابھی کسی بھی قسم کے سیز فائر کے موڈ میں نہیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ عمران خان کی نااہلی کے فیصلے کے بعد ن لیگ کا غصہ کم ہونا چاہیے اور اسٹیبلشمنٹ کی پوزیشن بھی کافی حد تک کلیئر ہو جائے گی۔ لیکن کیا اس سے ماحول ٹھنڈا ہو جائے گا۔ یہ ممکن نظر نہیں آ رہا۔ لیکن شائد عمران خان نواز شریف کی طرح احتجاج بھی نہیں کر سکیں گے۔ وہ تو یہ بھی نہیں پوچھ سکیں گے کہ مجھے کیوں نکالا۔ ان کو تو بس قبول ہی کرنا ہو گا۔

سیاست کا منظر نامہ دھندلا ہے اور ابھی ایسا ہی رہے گا۔ منظر نامہ اگلے انتخابات تک ایسا ہی رہے گا۔ اور اسی منظر نامہ میں انتخاب ہو جائے گا۔

مقبول خبریں