US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
بات اگر ’’صاحبہ‘‘ تک ہوتی تو بھی ٹھیک تھی ’’صاحبہ‘‘ تو ایک بہانہ تھا اپنی نالائقیاں چھپانے کے لیے۔
ہم جس موڑ آن کھڑے ہیں، وہ ہماری ہی بنائی ہوئی میراث ہے۔
باتوں سے پیٹ نہیں بھرا کرتے۔ لفاظی،شعلہ بیانی، میڈیا پر میٹرو ٹرین کا دکھا وا۔
ہمیں سب سے پہلے انسان بننا ہے اور اگر ہم انسان ہی نہ بن پائے تو باقی سارے بھیس اپنی معانی کھو بیٹھتے ہیں۔
کہنے کا مْقصد یہ کہ ہمیں بھگت سنگھ کے حوالے سے تو بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے
قصہ مختصر یہ کہ ہماری تاریخ رقم کرنے کا بنیادی پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ آزادی کی جنگ کون لڑا تھا؟
یہ زمین اسے اسی اعزاز کے ساتھ اپنے سینے میں دفن کر رہی ہے۔
آج پاکستان ہندوستان سے زیادہ مذہبی و فرقہ وارانہ بحران سے دور ہے ، ہندوستان دشمنی اب ہمارا ایجنڈا نہیں۔
ہماری جمہوریت ابھی تناور درخت نہیں بنی۔ یہ ارتقا کے جو چند زینے چڑھی تھی اسے وہ بھی اترنے پڑے۔
تاریخ خود اپنا تعاقب کر رہی ہے۔ جس بونگے انداز میں انگریز سامراج یہاں سے گیا ، یہ اس کا ثمر ہے۔