سمندر میں ڈوبتی کشتیاں
کہیں سمندر کی خونخوار موجیں ان مہاجرین کو، جن میں مرد، عورت ، بچے بوڑھے سب شامل ہیں، اپنے دامن میں چھپا لے رہی ہیں۔
1947-48 کے دور کے مسلم مہاجرین کو جس بھیانک موت کا سامنا تھا، اس کا ارتکاب کرنے والے انتہاپسند ہندو یا سکھ تھے، اس خونیں باب کو بند ہوئے اب لگ بھگ 70 سال ہو رہے ہیں، اس عرصے میں تہذیبی ترقی بھی ہوئی اور انسانوں کو قتل و غارت کے مضمرات کا احساس بھی ہوا، لیکن آج ایک نئی قتل و غارت کا انسان سامنا کر رہے ہیں اور اس قتل و غارت کو دہشت گردی کے نام سے جانا جارہا ہے۔ شام، عراق، یمن، لیبیا میں اس قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔
شام، سعودی عرب، روس اور امریکا جو اندھی بمباری کر رہے ہیں اس میں بھی سیکڑوں وہ بے گناہ مارے جا رہے ہیں جن کا تعلق نہ داعش سے ہے نہ القاعدہ یا ان جیسی دہشت گرد تنظیموں سے۔ یہ بے چارے تو اس اندھی بمباری کا شکار ہو رہے ہیں جو دہشت گردوں کے خاتمے کے نام پر کی جا رہی ہے۔ اس موت سے خوفزدہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوکر یورپی ملکوں کی طرف بھاگ رہے ہیں اور سمندر برد ہو رہے ہیں۔ کہیں کشتیاں اوور لوڈ ہونے کی وجہ ڈوب رہی ہیں، کہیں سمندر کی خونخوار موجیں ان مہاجرین کو، جن میں مرد، عورت ، بچے بوڑھے سب شامل ہیں، اپنے دامن میں چھپا لے رہی ہیں۔ یہ ہیبت ناک سلسلہ برسوں سے جاری ہے لیکن دنیا کے رکھوالے مہذب ملکوں کے حکمرانوں اور دنیا کی رکھوالی کرنے والی عالمی تنظیم اقوام متحدہ ہی ان جان لیوا سفر کرنے والوں کی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے۔ موت کے سائے میں ہجرت کا سفر جاری ہے۔
جنگ زدہ ملکوں سے جن میں خاص طور پر عراق، شام، لیبیا شامل ہیں لاکھوں مہاجرین یورپی ملکوں کی طرف مسلسل ہجرت کر رہے ہیں، ان ہجرت کرنے والوں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں لیکن ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ہجرت کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے پاکستان آنے والے اور پاکستان سے ہندوستان جانے والے مہاجرین کو بہتر طور پر ہوا۔ ہمارا خاندان بھی ہجرت کرکے ہندوستان سے پاکستان آیا لیکن اس وقت راستوں میں قتل و غارت کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا، لیکن طویل ترین سفری عذابوں کا بہرحال سامنا تھا۔
البتہ 1947 اور اس کے آس پاس جن لوگوں نے قافلوں کی شکل میں ایک دوسرے ملک میں ہجرت کی ان قافلوں پر اغیار نے حملے کرکے جس طرح قتل عام کیا انسانی تاریخ آج بھی اس پر نوحہ کناں ہے۔ میں عینی گواہ ہوں کہ 1948 میں جب ہندوستان نے حیدرآباد پر فوج کشی کی تو کس بے دردی سے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، درندہ صفت انسانوں نے خواتین کی آبرو ریزی کا جو گھناؤنا کام شروع کیا تو عصمت مآب خواتین نے کنوؤں میں بچوں سمیت چھلانگ لگا کر اپنی عصمتیں تو بچا لیں لیکن اس کی قیمت ایک بھیانک موت کی شکل میں ادا کی۔ میں نے دریاؤں میں بہتی ہوئی آنے والی لاشیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں، پانی بھری خندقوں میں پھولی ہوئی لاشیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں، لیکن اس قتل و غارت میں بعض مخصوص گروہ شامل تھے، عام ہندو اس قتل و غارت سے دور تھے اور غمزدہ بھی تھے۔
پچھلے چند دنوں کے دوران مہاجرین کی ایک بڑی تعداد سمندری لہروں کی نذر ہوگئی ہے۔ لیبیا کی مسافروں یا مہاجروں سے بھری ہوئی ایک کشتی جس میں گنجائش سے زیادہ مہاجرین سوار تھے بحیرہ روم میں ڈوب گئی۔ اس بدقسمت کشتی میں سفر کرنے والے 31 تارکین وطن ڈوب گئے، جن میں مرد عورت بوڑھے بچے سب شامل تھے، 60 تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔ اسی قسم کے ایک اور حادثے میں اطالوی بحریہ نے 11 سو مہاجرین کو ڈوبنے سے بچا لیا۔ یہ 11 سو مہاجرین لیبیا سے یورپ کی طرف ایک لکڑی کی کشتی میں گنجائش سے زیادہ سوار تھے اور سیکڑوں مہاجرین اس ربر بوٹس پر سوار تھے۔ اطالوی بحریہ نے ایک دن میں ان 11 سو مہاجروں کو ڈوبنے سے بچا لیا جو زندگی کی تلاش میں لیبیا سے یورپ کی طرف سفر کر رہے تھے۔
ہم نے یہاں صرف دو افسوسناک واقعات کا ذکر کیا ہے جب کہ مہاجرین کی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیاں آئے دن سمندر کی نذر ہو رہی ہیں اور ہزاروں مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں۔ یہ وہ مہاجرین ہیں جو شام، عراق، لیبیا، یمن وغیرہ کی غیر محفوظ زندگی سے گھبرا کر یورپی ملکوں میں پناہ لینے کے لیے مسلسل سفر کر رہے ہیں، لیکن موت ان کا پیچھا کرتے ہوئے انھیں سمندروں میں گھیر رہی ہے اور یہ بدقسمت لوگ اپنے وطن میں مارے جانے کے بجائے سمندروں میں مارے جا رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی معاشرے ہزاروں سال کا سفر طے کرکے اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جسے ہم تہذیبی ترقی کی معراج کہتے ہیں۔ ماضی بعید کا انسان تیروں، تلواروں، نیزوں سے دست بدست جنگ کرکے ایک دوسرے کو قتل کرتا تھا، اب مہذب انسان نے قتل و غارت کے لیے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، جنگی ہوائی جہاز، جنگی بحری جہاز، میزائل، راکٹ اور ایٹمی ہتھیار تیار کرلیے ہیں، جن کے ذریعے وہ چیونٹیوں کی طرح انسانوں کو قتل کر رہا ہے، ایٹم بم ایجاد کر لیے ہیں جنھیں دوسری عالمی جنگ میں استعمال کرکے لاکھوں انسانوں کو جلادیا۔
آج یہی مہذب انسان عراق، شام، لیبیا، یمن وغیرہ میں دہشت گردوں کو مارنے کے لیے ایسی بمباری کر رہا ہے کہ اس اندھی بمباری میں دہشت گردوں سے زیادہ بے گناہ انسان مارے جا رہے ہیں اور امریکا اور روس کا حکمران طبقہ اس خونیں کھیل کا ذمے دار ہے۔ ان ملکوں کے معصوم شہری اس موت سے بچنے کے لیے کشتیوں میں سفر کر رہے ہیں اور یہ کشتیاں سمندر میں ڈوب کر مہاجرین کو گہرے سمندر میں دھکیل رہی ہیں۔
1945 میں دوسری عالمی جنگ کے ہولناک نتائج دیکھ کر دنیا کے مہذب انسانوں نے اقوام متحدہ بنائی لیکن یہ اقوام متحدہ اپنی نظروں کے سامنے عراق، شام، یمن، لیبیا میں بے گناہ انسانوں کو بڑی طاقتوں کی جلادانہ سیاست کی نذر ہوتے دیکھ رہی ہے اور خاموش ہے، کیونکہ اب اقوام متحدہ دنیا کی نمایندہ نہیں بلکہ امریکا کی نمایندہ بن کر رہ گئی ہے۔