سندھ ہائیکورٹ کا راؤ انوار و دیگر کو 16 فروری تک گرفتار کرنے کا حکم

4 ملزمان کا منتظم عدالت میں اقبال جرم سے انکار، دوران تفتیش اعتراف کیا تھا، عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تومنحرف ہو گئے۔


کورٹ رپورٹر February 08, 2018
وہ اصل ملزمان نہیں، ہمیں پھنسایا گیا اصل ملزمان کوئی اور ہیں، مجسٹریٹ کے سامنے بیان، عدالت نے چاروں کو جیل بھیج دیا۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیرراؤ انوارسمیت دیگر ملزمان کو15 فروری تک گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں انسداد دہشت گردی کے منتظم جج کے روبرو نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان میں سب انسپکٹر یاسین، اے ایس آئی سپرد حسین، اے ایس آئی اللہ یار، ہیڈ کانسٹیبل اقبال،کانسٹیبل ارشد علی، ہیڈ کانسٹیبل حضرت حیات شامل ہیں۔

نسیم اللہ محسود المعروف نقیب اللہ محسود قتل کیس میں نیا موڑ آگیا۔ دوران تفتیش اعتراف کرنے والے 4 ملزمان کا عدالت میں اقبال جرم سے انکار کردیا۔ پولیس نے اے ایس آئی اللہ یار، ہیڈ کانسٹیبل اقبال، کانسٹیبل ارشد علی، ہیڈ کانسٹیبل حضرت حیات کی اطلاعی رپورٹ سے عدالت کو آگاہ کردیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق چاروں ملزمان عدالت کے روبرو اعتراف کرنا چاہتے تھے۔ملزمان کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تواقبال جرم سے منحرف ہوگئے۔

مجسٹریٹ رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان اعتراف کرناچاہتے ہیں۔ تفتیشی افسر کی درخواست پر ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ دوران بیان چاروں ملزمان نے اقبال جرم سے انکار کردیا۔

مجسٹریٹ کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے کہا کہ وہ اصل ملزمان نہیں۔ ملزمان نے بیان دیا ہمیں پھنسایا گیا اصل ملزمان کوئی اور ہیں۔ عدالت نے ملزمان کو جیل بھیج دیا۔ عدالت نے راؤ انوار ودیگر ملزمان کو 16 فروری تک ہر صورت میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا جب کہ عدالت آئندہ سماعت تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مقبول خبریں