جاگیر
میاں صاحب بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اشرافیہ کی جاگیر بنا ہوا ہے۔
PESHAWAR:
1973ء کے آئین کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اسی آئین کے مطابق ہماری جمہوریت پارلیمانی ہے اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔
ہماری پارلیمانی جمہوریت کو ناقدین ہمارے اجتماعی مزاج کے خلاف کہتے ہیں اور ان ناقدین کا خیال ہے کہ ہمارے مزاج، ہمارے معاشرے کو صدارتی نظام سوٹ کرتا ہے۔ اس قسم کے اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں لیکن ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ جمہوریت بھی برقرار رہے اور بادشاہت بھی چلتی رہے۔
اس حوالے سے ہمارے ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ وقت واحد میں جمہوریت بھی ہے اور شاہانہ بھی۔ جمہوریت میں منتخب حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ہنسی خوشی اقتدار سے الگ ہو جاتی ہیں اور نئی منتخب حکومت کے لیے جگہ خالی کر دیتی ہیں۔
ہمارے آئین میں ایک جماعت کو دو بار برسر اقتدار رہنے کا موقعہ دیا گیا تھا لیکن شاہانہ مزاج رکھنے والوں نے جن کا اقتدار کے بغیر گزارا نہیں ہوتا بڑی کوششوں سے آئین میں ترمیم کروا کر دو سے زیادہ بار اقتدار میں آنے کی گنجائش پیدا کر لی۔ اسی پر بس نہیں ان کی کوشش بلکہ خواہش ہے کہ جب ان کا دم نکلے اس وقت وہ وزیر اعظم کے عہدے پر موجود رہیں۔
ہو سکتا ہے یہ کوئی نفسیاتی بیماری ہو لیکن یہ بیماری اشرافیائی طبقے میں وہ بھی ہمارے اشرافیائی طبقے میں جڑیں پکڑ رہی ہے۔ شاہی نظام کے تسلسل کے لیے ولی عہدی نظام کا سہارا لیتے ہیں کہ باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی برسر اقتدار آئے، اقتدار بہرحال خاندان سے باہر نہ جانے پائے۔ یہ بیماری اشرافیہ سے نکل کر اب مڈل کلاس تک آگئی ہے حالانکہ اس کے اقتدار میں آنے کے امکانات موجود نہیں۔
بادشاہوں اور انگریزوں نے اپنے اقتدارکے تحفظ اور قانونی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ایک طبقہ پیدا کیا تھا جسے جاگیردار کہا جاتا تھا۔ بادشاہ اس طبقے کو جاگیریں بخشتے تھے اور یہ جاگیریں اس قدر مضبوط ہوتی تھیں اور شاہوں کی طرح ایسی موروثی ہوتی تھیں کہ سوائے شاہ کے ان جاگیروں کو کوئی نہیں چھین سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص کسی شے پر اپنی دائمی ملکیت کا حق رکھتا تھا تو ایسے حق کو ''باپ کی جاگیر'' کہا جاتا تھا۔ پاکستان ایک ملک ہے لیکن ہماری اشرافیہ نے اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر بنا رکھا ہے۔
ہمارے سابق وزیر اعظم کا ووٹ کے تقدس کا درس اس شدت سے دیتے ہیں کہ جمہوریت سے ناواقف انسان بھی ووٹ کے تقدس پر ایمان لے آتا ہے۔ پچھلے دنوں میاں صاحب نے ایک موقعے پر یہ بصیرت افروز بیان دیا کہ ''ہمارے ملک کے سو سے پانچ سو افراد ایسے ہیں جو پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں'' اس سے پہلے کہ میاں صاحب کے بیان پر غور کیا جائے اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ سو سے پانچ سو تک لوگ نہیں بلکہ چند خاندان پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہیں۔ سو سے پانچ سو وہ سرکار کے مصاحبین ہوتے ہیں جو سرکار سے بڑھ کر سرکار ظاہر کرتے ہیں اور اس خدمت کے عوض اپنا منہ موتیوں سے بھر لیتے ہیں۔
جاگیر ایسی جائیداد ہوتی ہے جو عام طور پر میراث کے طور پر اولاد تک پہنچتی ہے۔ اس حوالے سے اگر سیاسی رہنماؤں کو حقائق کی کسوٹی پر جانچا جائے تو ایسے رہنما چاند سورج کی طرح عوام کی نظروں میں آ جاتے ہیں جن کا جینا مرنا اقتدار سے وابستہ ہے اور اقتدار کی خاطر وہ پاتال کی گہرائی تک جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں بلا کی کشش ہوتی ہے بلکہ یہ کشش کشش ثقل جیسی ہوتی ہے جو انسان کو ہواؤں میں اڑنے سے روک کر زمین پر اس کے پیر جمائے رکھتی ہے۔ لیکن کیا انسان کی عزت انسان کے وقار سے اقتدار زیادہ اہم ہوتا ہے؟
ہماری کرپٹ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ''باپ بڑا نہ بھیا' سب سے بڑا روپیہ'' ہوتا ہے لیکن باضمیر اور خوددار لوگ دولت کو پیر کی جوتی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور اس خودداری کی سزا میں غربت و افلاس کی کڑی سزا بھگتتے ہیں لیکن ان کے پاؤں میں لغزش نہیں آتی، ایسے لوگ ہر ملک کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں لیکن کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام نے ایسے عظیم اور نابغہ روزگار لوگوں کو گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ معاشرہ اپنے کردار کے حوالے سے ذلت و رسوائی کے پاتال میں پہنچا ہوا ہے اور یہ صورت حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کرپشن کی فاحشہ سرمایہ دارانہ نظام کی شکل میں ہمارے معاشرے پر قابض رہے گی۔
پاکستان میں عملاً بادشاہی نظام ہی رائج بادشاہ ہے شہزادے ہیں، شہزادیاں ہیں، ملکائیں ہیں، بادشاہوں کا جاہ و جلال ہے، بادشاہوں کا کروفر ہے اس سلطنت میں 20 کروڑ رعایا ہے جو رہتی بھوکے پیٹ ہے لیکن شاہ زندہ باد کے نعرے ضرور لگاتی ہے۔ یہ سلسلہ 70 سالوں سے اس لیے جاری ہے کہ ہمارا میڈیا عوام کی نمایندگی کرنے کے بجائے شاہوں کی پبلسٹی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مڈل کلاس عوام میں بیداری پیدا کرتی ہے عوام میں سیاسی شعور پیدا کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری مڈل کلاس میڈیا سمیت ہر محاذ پر اشرافیہ کی خوشامد کا کردار ادا کر رہی ہے۔
میاں صاحب بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اشرافیہ کی جاگیر بنا ہوا ہے ہماری ان پڑھ عوام اشرافیہ کے معنی نہیں سمجھتی کیا ہمارے مہربان عوام کو اشرافیہ کے معنی بتائیں گے اور اشرافیہ سے عوام کا تعارف کروائیں گے۔ ہمارے چھوٹے میاں بار بار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر عوام کے حالات نہیں بدلے تو ملک میں خونی انقلاب آجائے گا اور اشرافیہ عوام کے اشتعال کی زد میں ہوگی۔
چھوٹے میاں کا یہ اندازہ یا پیش گوئی سو فیصد درست ہے لیکن کیا چھوٹے میاں کا تعلق اشرافیہ سے نہیں ہے؟ بہرحال دیر آید درست آید ہو سکتا ہے عوام کو بیدار ہونے میں کچھ وقت لگے لیکن عوام بیدار ہوں گے اور اپنے دشمنوں سے گن گن کر حساب چکائیں گے۔