میری گندم آسمان کی بارش
میں لکھنا تو صرف گندم کی فصل پر چاہتا تھا لیکن بیچ میں چلا گیا اور یہ گائوں کی زندگی سامنے آ گئی
اس دفعہ لاہور نے میرے پائوں ایسے پکڑے کہ میں اپنے گھر تک کا سفر اس موسم میں بھی نہ کر سکا جو ہم کاشتکاروں کے لیے سال کا بہترین قابل رشک اور مرادوں کا موسم ہوتا ہے یعنی گندم کی فصل اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ لہرا لہرا کر اپنے کاشتکار کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہوتی ہے، کاشتکار اور گندم کے لہلاتے پودے ایک دوسرے پر نثار جاتے ہیں۔ کاشتکار کے سامنے اس کی محنت کا پھل ہوتا ہے، سال بھر کی روٹی روزی ہوتی ہے اور گندم کی فصل اپنے دوست کی مراد بر لا کر اس پر وارے نیارے جاتی ہے۔
موبائل ٹیلی فون نے فاصلے سمیٹ کر ایک چھوٹے سے آلے میں بند کر دیے ہیں، بار بار فون آئے کہ بارشوں کی فراوانی نے گندم کی فصل کو اس کی تاریخ کی ایک نئی متوالی زندگی دے دی ہے کہ وہ ہوا نہ بھی چل رہی ہو تب بھی جھومتی رہتی ہے، اپنے ہی نشے میں۔ گندم کی جوش جوانی کے یہ دن یوں گزر گئے کہ میں انھیں صرف اپنی چشم تصور میں ہی دیکھتا رہا اور لاہور کی ڈیزل کی دھوئیں سے بھری فضا میں سانس لیتا رہا۔ گندے پانی میں پلی ہوئی سبزیاں کھاتا رہا جن کی عمر اب ایک دن سے زیادہ کی نہیں ہوتی اور یہ جو مرغ ہے، اس کی غذا بھی اس سبزی کی طرح ہے جس سے ڈر لگتا ہے کہ نہ جانے کس کس چیز کی بنی ہوئی ہے۔ بکری کا گوشت مجھے کھانا ممنوع ہے، ڈاکٹروں کو میرے لیے اس سے کئی خطرات کا اندیشہ ہوتا ہے۔
میں لکھنا تو صرف گندم کی فصل پر چاہتا تھا لیکن بیچ میں چلا گیا اور یہ گائوں کی زندگی سامنے آ گئی جہاں مرغیاں دانوں اور چپاتی پر جھپٹتی رہتی ہیں۔ ہزار بار جھڑکیں پھر وہیں، منہ مارتی ہیں لیکن ان کا صحت مند گوشت ایک دوا بھی ہے، کھیتوں کی سبزیاں جب تک عمر رسیدہ ہو کر سوکھ نہ جائیں ان کا ذائقہ نہیں بدلتا کیونکہ وہ جس پانی سے بڑھتی ہیں وہی پانی یہاں انسان بھی پیتے ہیں۔ ان دنوں موٹر سائیکل، ٹریکٹر، بسیں وغیرہ بہت ہو گئی ہیں لیکن اس کھلی دُھلی دُھلائی فضا میں ان کا دُھواں نہ جانے کہاں اُڑ جاتا ہے کیونکہ اس صاف ستھری فضا میں جب رات طلوع ہوتی ہے، جی ہاں یہاں رات طلوع ہوتی ہے اور بے شمار ستارے اس قدر چمکتے دمکتے ہیں کہ رات پر دن کا گماں گزرتا ہے۔
مجھے ان ستاروں کی کئی جوڑیاں یاد ہیں اور ستاروں سے بنی ہوئی وہ چارپائی بھی جس کا ایک پایا ٹوٹا ہوا ہوتا ہے، یہ چھوٹی چھوٹی کہکشائیں راتوں کو سونے سے پہلے ہم بچوں کو کئی کھیل کھلاتی تھیں اور اسی کھیل کود میں آنکھ لگ جاتی تھی، دوسری رات پھر یہی ستارے یہی کھیل کود اور یہی پیار کے آسمانی لمحے۔ ہمارے یہ کھلونے کبھی ٹوٹتے نہیں تھے اور نہ کبھی گم ہوتے تھے ،گویا ہم بچوں کی یہ امانت ہمارے سوتے ہی دوسری رات کے لیے آسمان سنبھال کر رکھ لیتا تھا۔ یہ زمین آسماں اور فضائوں کی کہانی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے، میں نے اس لیے اس کی ایک ہلکی سی جھلک دکھا دی کہ خود میرے بچے جو لاہور میں پلتے بڑھتے ہیں، قدرت کی اس مہربانی سے محروم ہیں۔
بات گندم کی ہو رہی تھی جس کی بارشوں کی وجہ سے بھرپور فصل ہوئی، ایسی کہ ایک طویل قامت کسان کے مطابق اس کے خوشے اس کے کندھوں تک آ رہے ہیں۔ میں گندم کے خوشوں سے گلے ملتے ہوئے اس کسان کی خوشی دیکھ رہا ہوں۔ موسم میں گرمی آنے لگی، دھوپ نے گندم کی فصل پر اپنا عکس ڈالنا شروع کر دیا تو اس کے خوشے سبز سے سرخی مائل ہونے شروع ہو گئے، وہ سونے کے دانوں میں ڈھلنے لگے۔ ان خوشوں میں چھپے ہوئے دانے یہ رنگ بدلتے ہیں تو کسان کے چہرے کا رنگ بھی سرخ ہو جاتا ہے۔ خوشی کے مارے اور یہی وہ موسم ہوتا ہے جب یہ کہاوت بار بار یاد آتی ہے کہ خدا اس موسم میں تو 'سونے کی کنی' بھی نہ برسائے یعنی بارش کا سونے کا قطرہ بھی قبول نہیں جو فصل کے اس موسم کے لیے تباہ کن ہوتا ہے اور گزشتہ رات کو گرج چمک کے ساتھ لاہور میں بارش برسی تو میری تو جان ہی نکل گئی۔ میں نے اپنے بستر پر سوتے ہوئے کیا کیا ہولناک تماشے دیکھے۔
میں نے گھر والوں سے کہا تھا کہ گندم کے لیے ڈرم وغیرہ صاف کرا لیں، ان میں دوائی چھڑک دیں کہ میرے گائوں سے میری مٹی میں اُگی ہوئی گندم آنے والی ہے۔ میں گائوں کی گندم کھاتا ہوں مگر میرے بارانی علاقے میں ایسے سال اور موسم بھی آ جاتے ہیں جب گندم کاشت ہی نہیں ہو پاتی، زمین میں وتر نہیں ہوتا اور کاشتکار کھیتوں کو بچشم نم دیکھتے ہوئے مزدوری پر شہری علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں کہ جیب میں کچھ رقم ہو گی تو وہ بازار سے گندم خریدیں گے۔ بس ہماری گائوں کی تو یہی زندگی ہے، کالا باغ ڈیم نہیں بن سکتا، نئی نہریں نہیں نکل سکتیں اور ٹیوب ویلوں میں پانی بہت ہی نیچے چلا جاتا ہے، پہنچ سے بہت دور۔ ہمارے سیاستدان اپنے ووٹروں کی پیاس بجھانے کا یہ ڈیم تو بھول ہی چکے ہیں، شاید ہی کسی پارٹی کے منشور میں اس کا سرسری سا ذکر ہو۔
عرض یہ کرنی تھی بلکہ اس خوف کو بیان کرنا تھا کہ خدا کرے اتنی گندم بچ جائے کہ ہم شہروں کے بابو لوگ اس کے پراٹھے کھا سکیں اور بازار سے خالص گندم کی ڈبل روٹی مل سکے۔ اللہ کرے اس بار کم از کم نقصان ہو اور گندم کی برداشت تک مزید بارش نہ ہو۔ ان دنوں بارش کے بعد جب یہ خبر چھپتی ہے کہ موسم خوشگوار ہو گیا تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔