خراب معیار اور بیماریاں پاکستانی آم کی بڑی منڈیاں ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ

آم کی کھیپ میں فروٹ فلائی کے باعث برطانیہ نے ہزاروں کلوگرام پھل تلف کر دیا،دبئی میں خراب معیارسے پاکستانی ایکسپورٹ۔۔۔


Business Reporter June 27, 2013
فیکٹ فائنڈنگ مشن برطانیہ بھیجا جائے، ایکسپورٹرز کا وزارت فوڈ سیکیورٹی کو خط، فروٹ فلائی نکلنے کا ذمے دار محکمہ قرنطینہ ہے، آراینڈڈی کو فروغ دیا جائے، وحید احمد فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان اور گلوبل وارمنگ کے سبب پاکستانی پھلوں کو مختلف بیماریوں اور موسمیاتی تغیر کے نقصانات کا سامنا ہے۔

رواں سیزن میں آم کے برآمد کنندگان کو برطانیہ اور دبئی کی منڈی میں شدید نقصان درپیش ہے۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سے ہارٹی کلچر انڈسٹری کو درپیش سنگین مسئلے سے نجات دلانے کی اپیل کردی ہے۔ ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر سکندرحیات خان بوسن کو ایک ہنگامی خط ارسال کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ فوڈ اینڈ رورل افیئرز (ڈیفرا) نے پاکستانی آم کی کنسائنمنٹ میں فروٹ فلائی کی موجودگی کی بنا پر ہزاروں کلو گرام آم مسترد کرتے ہوئے تلف کردیے ہیں۔

گزشتہ سال بھی آم کے برآمد کنندگان کو برطانیہ میں اسی مسئلے کا سامنا تھا جس سے کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اس سال بھی آم کے برآمد کنندگان اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ پاکستانی آم کے لیے یورپ کی سب سے بڑی اور مستحکم منڈی ہے تاہم فروٹ فلائی کے سبب ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مارکیٹ پاکستان کے ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ ہے اور ملکی معیشت اس نقصان کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی۔ خط میں وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری طور پر ماہرین اور انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ وفد برطانیہ روانہ کیا جائے جو اس مسئلے کا حل تلاش کرے۔



آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد نے بتایا کہ دبئی کے راستے خلیجی ریاستوں کو ایکسپورٹ کیے جانے والے آم کی کنسائنمنٹس میں بھی شدید مسائل کا سامنا ہے، اوپن ٹاپ کنٹینرز میں دبئی ایکسپورٹ کیے جانے والے آم راستے میں ہی پک رہے ہیں، یہی نہیں بلکہ ریفریجریٹرڈ کنٹینرز میں بھیجی جانے والی کنسائنمنٹ کا بڑا حصہ بھی دبئی پہنچنے پر نرم پایا جارہا ہے جس سے دبئی کی مارکیٹ میں بھی پاکستانی آم کو شدید مشکلات درپیش ہیں، 21 جون تک پاکستان سے 28 ہزار 700 ٹن آم برآمد کیا گیا،صرف دبئی کی مارکیٹ میں پاکستانی آم کے معیار میں کمی کی وجہ سے 30 لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ برطانیہ میں اب تک 50 ٹن آم فروٹ فلائی کی وجہ سے تلف کیے جانے سے 1.5 لاکھ پاؤنڈز کا نقصان ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی آم کی کنسائنمنٹ سے فروٹ فلائی کی برآمدگی کی تمام ذمے داری پاکستان کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ پر بھی عائد ہوتی ہے، پاکستانی منڈیوں کو برقرار رکھنے کے لیے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کو بہتر بنانے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ وحید احمد نے کہا کہ پاکستان میں ہارٹی کلچر سیکٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کے سبب پاکستانی پھلوں کی پیداوار اور معیار میں کمی واقع ہورہی ہے جو مستقبل کے لیے ایک سنگین علامت ہے، پاکستان میں ہارٹی کلچر انڈسٹری شدید مسائل سے دوچار ہے اور مستقبل قریب میں پاکستان کے ہاتھ سے پھل اور سبزیوں کی وسیع منڈیاں نکلنے کا خدشہ ہے، خود پاکستان کو اپنی طلب پوری کرنے کے لیے پھل درآمد کرنے کی نوبت آ سکتی ہے جس کی پیش بندی کے لیے فوری طور پر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سرگرمیوں کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔

مقبول خبریں