سپریم کورٹ کی بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب

ریکوری رفتارکم ہے،غیرملکی جائیدادتسلیم کرنیوالے جرمانہ دیں،عدالت


Numainda Express January 15, 2019
ریکوری رفتارکم ہے،غیرملکی جائیدادتسلیم کرنیوالے جرمانہ دیں،عدالت فوٹوفائل

سپریم کورٹ نے ایف بی آر سے بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ متعلقہ ادارے سست روی کاشکارہیں۔ ایف آئی اے نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیاکہ متحدہ عرب امارات میں مزید 96 پاکستانیوں کی جائیدادوں کاسراغ لگایا گیاہے،جسٹس اعجازالاحسن کے استفسار پر ممبرایف بی آر نے بتایاکہ اب تک 270ملین سے زائدریکوری ہو چکی ہے،مزید 17 ملین کی ریکوری ہوگی۔ایف آئی اے نے895 لوگوں کا ڈیٹا فراہم کیا تھا،ان کی 1365جائیدادیں دبئی میں تھیں،چیف جسٹس نے کہاڈیٹاکے مطابق ایف بی آرکی ریکوری رفتار بہت کم ہے، ممبر ایف بی آر نے کہا اب تک صرف 27 لوگوں نے ادائیگیاں کی ہیں، 116 افراد نے ایمنسٹی اسیکم سے فائدہ اٹھایا اور38 ارب کی جائیدادیں ظاہرکیں، علمیہ خان نے ایمنسٹی اسکیم میں جائیداد ظاہر نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہاایمنسٹی اسکیم کومتعارف ہوئے کتناعرصہ گزرگیا، جو لوگ ایف بی آرمیں پیش نہیں ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرلیں،جولوگ غیر ملکی جائیدادکو تسلیم کر چکے ہیں وہ جرمانہ ادا کریں تاکہ پاکستان کی حالت بہتر ہو۔ ممبر ایف بی آرکا کہنا تھا 125 لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے، دبئی جائیدادوں پر مزید768 ملین کی ریکوری ہوگی۔ ایف بی آرکے ممبرآڈٹ نے بتایا کہ ایف آئی اے نے 895 لوگوں کا ڈیٹا دیا تھا، 1365جائیدادوں کے بارے میں بتایا گیا تھا، اب تک 270ملین سے زائد کی ریکوری ہوئی اور 768ملین روپے ریکوری کی توقع ہے۔ ممبر آڈٹ نے بتایا کہ 360لوگوں نے 484 جائیدادوں پر ایمنسٹی لی، کچھ لوگوں نے کرایہ ظاہر نہیں کیا۔

مقبول خبریں