150 ریلوے انجنوں میں ٹریکٹر نصب آزمائشی سروس شروع

انجن ناکارہ ہونے، متبادل انجن کی فراہمی کی ٹائمنگ ، ڈیزل کی چوری روکنے کیلیے ٹیسٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا


Numainda Express January 28, 2019
جدید سسٹم کے تحت حادثے کی صورت میں ریلوے انتظامیہ مختصر وقت میں حادثے کی وجہ اور 15 روزہ ریکارڈ بھی معلوم کر سکے گی فوٹو: فائل

محکمہ ریلوے کی جانب سے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

کراچی سے خیبر پختونخوا تک چلنے والی گاڑیوں کی آمد و رفت، خرابی، عام مسافروں کو معلومات کی فراہمی یقینی بنانے کیلیے 150 انجنوں میں ٹریکر نصب کر کے انھیں سافٹ ویئر سے منسلک کر کے آزمائشی بنیادوں پر کام کا آغاز کر دیا گیا، وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے محکمہ ریلوے کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے، مسافروں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلیے شروع کردہ کام کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔

ریلوے میں بلامعاوضہ خدمات انجام دینے والے سید مدثر حسین زیدی کی ٹیم نے کراچی، راولپنڈی اور لاہور ڈویژن میں موجود چھوٹے بڑے 150 لوکو موٹیو میں جی پی آر سسٹم (ٹریکر) نصب کر کے اسے جدید سافٹ ویئر سے منسلک کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے، گزشتہ روز مختلف ٹرینوں میں نصب کردہ جدید نظام کے ذریعے عام مسافر کو موبائل اپلیکیشن کے ذریعے درست معلومات کی فراہمی، انجن ناکارہ ہونے، متبادل انجن کی فراہمی کی ٹائمنگ سمیت مقررہ مقام تک پہنچنے اور خصوصی طور پر انجن میں استعمال ہونے والا ڈیزل اور ایندھن کی چوری کو روکنے کیلیے ٹیسٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

فروری کے وسط میں وزیراعظم عمران خان ریلوے کے جدید نظام کا باضابطہ طور پر افتتاح کریں گے، ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید مدثر حسین زیدی نے بتایا کہ ملک بھر کے مین ٹریک اور مین گاڑیوں میں جی پی اّر سسٹم ٹریکر نصب کر کے اسے سافٹ ویئر سے منسلک کر دیا ہے اور کراچی سے خیبرپختونخوا تک گاڑیوں میں سفر کرنے والا عام شہری اردو اور انگلش میں ٹرینوں کی اّمد و رفت، انجن کی خرابی، متبادل انجن کے استعمال میں آنے والا وقت معلوم کر سکے گا۔

مقبول خبریں